سبزیوں پر مشتمل غذا سے عالمی بھوک کا خاتمہ ممکن ہے، رپورٹ

 واشنگٹن: اس وقت دنیا میں اربوں کی آبادی ہے اور کروڑوں افراد شدید غذائی قلت کا شکار ہیں، ماہرین نے اس کا واضح حل پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت بڑے پیمانے پر غذائی عادت بدل کر گوشت میں کمی اور سبزیوں کی جانب راغب ہونا ہوگا تاکہ بڑھتی ہوئی آبادی کو صحت مند اور سیر رکھا جاسکے۔

ممتاز طبی جریدے لینسٹ میں شائع ایک تفصیلی رپورٹ بعنوان ’ عظیم غذائی تبدیلی: ناقص عالمی غذائی نظام میں بہتری‘ شائع ہوئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایک جانب تو ایک ارب افراد پیٹ بھر کھانے سے محروم ہیں تو دوسری جانب دو ارب افراد غلط انداز سے کھائے چلے جارہے ہیں اس روش کو بدل کر سیارہ زمین پر غذائی دباؤ کو کم کیا جاسکتا ہے۔

اس رپورٹ میں 16 ممالک کے 37 ماہرین نے حصہ لیا جو صحت، غذا، ماحول اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھتےہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پوری دنیا میں گوشت کھانے میں 50 فیصد کمی اور سبزیوں اور پھلوں وغیرہ کے استعمال میں 100 فیصد اضافہ بہت ضروری ہے۔

اس پر عمل کرکے سالانہ ایک کروڑ 16 لاکھ جانیں بچائی جاسکتی ہیں اور عالمی آبادی کا پیٹ بھرا جاسکتا ہے کیونکہ 2050ء تک دنیا کی آبادی دس ارب تک جاپہنچے گی تاہم اس میں بہت فرق ہے مثلاً امریکا اور کینیڈا میں لوگ تجویز کردہ سرخ گوشت کی ساڑھے 6 گنا زائد مقدار کھا رہی ہے جبکہ جنوبی ایشیا کے لوگ اس کی نصف مقدار ہی استعمال کررہے ہیں۔

پوری دنیا کے لوگ نشاستے والی اشیا (آلو، شکرقندی اور کساوا) کی ضرورت سے زائد مقدار کھارہے ہیں جو تجویز کردہ غذائی چارٹ سے ایشیا میں ڈیڑھ گنا اور افریقا میں ساڑھے 7 گنا زائد ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی آبادی میں غلط انداز سے غذا کھانے کا رجحان عروج پر ہے۔

لینسٹ کے مطابق بالغ افراد کے لیے روزانہ 2500 کیلوریز والی غذا کھانا ضروری ہے جن میں سرخ گوشت صرف 14 گرام یا 58 گرام مرغی کا گوشت یا پھر 100 گرام مچھلی بہت ہے جبکہ 100 گرام ڈیری مصنوعات، دودھ ، لسی اور پنیر وغیرہ بھی اسی غذائی چارٹ کا ایک حصہ ہے لیکن ضروری ہے کہ روزانہ 300 گرام سبزیاں کھائی جائیں جن میں پتے والی، سرخ یا نارنجی رنگ کی سبزیاں شامل ہیں۔

ماہرین نے شکر سے جان چھڑانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ صرف 30 گرام شکر روزانہ کے لیے بہت کافی ہے۔ اس کے علاوہ آلو کی مقدار 39 گرام روزانہ تک محدود ہونی چاہیے۔

ان ہدایات کی روشنی میں ماہرین نے غذائی عادات کو مکمل طور پر تبدیل کرنے پر زور دیا ہے تاکہ غذائی پیداوار کے لیے کرہ ارض پر پڑنے والے بوجھ کو کم کیا جاسکے۔ اس وقت جو غذا ہم کاشت کررہے ہیں وہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کی 30 فیصد ، پانی کے استعمال میں 70 فیصد اور زمین کے استعمال کی 40 فیصد وجہ بن رہی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *