پارلیمنٹ کا دفاع

" فرحت اللہ بابر "

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بجائے دوسرے اداروں کے مقابلے  میں پارلیمان اور اس کے ممبران کو زیادہ  ہی سختی سے پرکھا جاتا ہے۔ کبھی کبھار ایسا لگتا ہے کہ  پارلیمنٹ کا مذاق اڑایا جا رہا ہے اور اس کے ممبران کی ہتک کی جا رہی ہے۔

پارلیمنٹ کی کارکردگی ایک بار پھر سپریم کورٹ کی وفاقی اور سندھ حکومت کے درمیان کراچی میں 3 ہسپتالوں کی ملکیت کے بارے میں تنازعہ پر  ایک کاروائی کے دوران ایک خبر بنی رہی ہے۔

اس کاروائی کے دوران محترم چیف جسٹس نے تبصرہ کیا کہ اٹھارہویں ترمیم کا ڈرافٹ تیار کرتے وقت تمام معاملات کو خفیہ رکھا گیا  جب کہ  اس ترمیم کے بارے میں پارلیمنٹ میں ڈیبیٹ ہونا چاہیے تھا۔ چونکہ ایسا تبصرہ چیف جسٹس نے خود کیا ہے تو یہ اشاعتی اور نشریاتی میڈیا کے لیے فطری طور پر ایک ہیڈ لائن ہے۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اس سے یہ تشویش پیدا ہوئی کہ کہیں  عدالت عظمی  اٹھارویں ترمیم پر نظر ثانی کا ارادہ تو نہیں رکھتی اور اس کے کچھ نکات کو مسترد کرنے کا اعلان تو نہیں کرنے والی ؟

ایسے  خدشات مکمل طور پر بے بنیاد نہیں ہیں۔

ماضی میں عدالت نے  ججز کی تعیناتی کے معاملے میں نظر ثانی کے لیے پارلیمنٹ پر انحصار کیا  جو اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے ججز کی  تعیناتی کے سلسلہ میں عدلات کو  محدود اختیارات دینے کے بارے میں تھا۔ اس میں ججز کی بھرتیوں میں پارلیمان کو بہت کم کردار دیا گیا تھا۔

پارلیمنٹ نے عدالت کی بات مان کر انیسویں ترمیم کے ذریعے مسئلہ حل کیا۔  ''کیا اب عدالت اٹھارویں ترمیم  پر نظر ثانی چاہتی ہے؟ ؟'' یہ  خیال فوری طور پر بہت سے ذہنوں میں گھومنے لگا۔

یا کیا عدالت خود ہی اٹھارویں ترمیم  پر نظر ثانی کرنے والی ہے؟

اگست 2015 میں اٹھارویں ترمیم پر اپنے مفصل فیصلے میں ججوں کی اکثریت نے یہ کہا کہ پارلیمنٹ مکمل طور پر با اختیار نہیں ہے ۔ ان کا ماننا تھا کہ عدالت آئین کی محافظ تھی اور اس کا حق ہے کہ وہ کسی بھی ترمیم کا جائزہ لے یا اسے ختم کر دے۔ آرٹیکل 239 (5) اور (6) جن کے مطابق ''کسی ترمیم پر کسی بھی عدالت میں کسی بھی بنیاد پر سوال نہیں اٹھایا جائے گا'' اور ''پارلیمنٹ کے پاس آئین کے قوانین میں کسی قسم کی ترمیم  کا پورا اختیار ہے جس کی کوئی حد مقرر نہیں ہے" کو نظر انداز کیا گیا۔

پچھلے ہفتے جب چیف جسٹس نے ایسے بیانات دیے تو اس سے روح پر زخم لگنا فطری عمل تھا۔

اگلے دن اس کاروائی کے پانچ رکنی بینچ کے ایک ممبر جسٹس اعجاز الاحسن نے  کہا کہ عدالت میں اٹھارویں ترمیم کی شقیں زیر بحث  نہیں ہیں۔ اس ترمیم کو مسئلہ حل کرنے میں مددگار ہونا چاہیے۔ تاہم، پارلیمنٹ کے بارے میں  ''ہر چیز کو پردے میں رکھنے'' والا بیان  مقننہ کا پیچھا کرتا رہے گا۔

اٹھارویں ترمیم کی ڈرافٹنگ کے لیے طریقہ کار کے تعین کے بارے میں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پارلیمنٹری سروسز سے تعلق رکھنے والے  ظفراللہ کی تحریر بہت اہمیت کی حامل ہے ۔۔  ان کے مطالعہ کے مطابق اٹھارویں ترمیم کی ڈرافٹنگ کے لیے اختیار کیا گیا طریقہ ویسا ہی تھا جو 1973 کے آئین کے لیے اختیار کیا گیا تھا۔ دونوں کمیٹیوں  نے کیمرہ کے سامنے میٹنگ کی تھی  اور پھر اس  آئین پر بحث کے بعد اسے منظور کیا گیا تھا۔

اٹھارویں ترمیم کے لیے منتخب کمیٹی  نے 1973 کے آئین  ساز کمیٹی کی بنسبت لمبے عرصے تک کام کیا۔ عام تاثرات کے بر عکس اٹھارویں ترمیم کے ڈرافٹ کو قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں جگہ زیر بحث لایا گیا۔

اٹھارویں ترمیم کا ٹیکسٹ اور آئینی کمیٹی کی رپورٹ کو یکم اپریل 2010 کو عوام کے سامنے لایا گیا اور 2 اپریل کو اسے ہاؤس کی ٹیبل پر رکھا گیا۔ تقریبا 6، 20 اور 8 ایم این ایز نے 6،7 اور 8 اپریل کو اس پر بات کی۔ آخر کار نیشنل اسمبلی کے  342 میں سے 292 ارکان نے 8 اپریل کو اس کے حق میں ووٹ دیا۔

اپریل 12 کو سینیٹ میں  اٹھارویں ترمیم پر بحث شروع  ہوئی ، 17 سینیٹرز نے اس مباحثے میں حصہ لیا۔ دوسرے 23 سینیٹرز نے 13 اپریل کو اس مباحثے میں حصہ لیا اور اس کے بعد 14 اپریل کو 37 اور 15 اپریل کو 28 سینیٹرز نے حصہ لیا۔ 16 اپریل کو 100 میں سے 90 سینیٹرز نے اس کے حق میں ووٹ دیا۔ اس طرح واضح ہوتا ہے کہ پارلیمنٹ نے اس کو مکمل طور پر زیر بحث لایا۔

1973 کے آئین کے ڈرافٹ کو قومی اسمبلی میں زیر بحث لانے اور اس کی آخری منظوری تک صرف ایک ماہ کا وقت لگا۔ اس کے بر عکس اٹھارویں ترمیم کے ڈرافٹ پر پارلیمنٹ میں ایک ماہ سے زائد عرصہ تک مباحثہ ہوتا رہا۔

1973 کے آئین کے اصول اور فلسفہ کو پہلے ایک سیاسی تقریب میں زیر بحث لایا گیا  جب کہ 18ویں ترمیم کا نقطہ آغاز چارٹر آف ڈیموکریسی  کے لیے منعقد ہونے والے اجلاس تھے۔

ایک ادارے کے طور پر پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ کے ارکان کی کچھ کمزوریاں ہوں گی لیکن اسی طرح دوسرے اداروں اور اس میں کام کرنے والے لوگوں میں بھی ہیں۔ پارلیمنٹ کا کام قانون سازی کرنا ہے نہ کہ قوانین کو نافذ کرنا۔ مثال کے طور پر اس نے قانون بنایا کہ انتہا پسند عناصر پر پابندی لگائی جائے اور ان کو دوبارہ سر اٹھانے کا موقع نہ دیا جائے لیکن یہ ہر گز ذمہ دار نہیں ہو گی اگر یہ عناصر ابھی بھی دندنا رہے ہوں اور انتہا پسند تنظیموں کو مین سٹریم کا حصہ بنایا جا رہا ہو۔

ایسی کئی مثالیں ہیں۔ پارلیمنٹ نے اداروں کی سرگرمیوں کے بارے  میں شفاف معلومات فراہم کرنے کے حق کا قانون بنایا۔ اگر سوال کردہ معلومات مہیا نہ کی جائیں، حتی کہ پارلیمنٹ کو بھی، تو کون مجرم ہو گا؟ اس کے لیے صرف پارلیمنٹ کو الزام دینا صحیح نہیں ہو گا۔

ایک سابق آرمی چیف کو 90 ایکڑ زمین کی الاٹمنٹ کے بارے میں ایک سوال کیا گیا۔ فوج کے ترجمان نے ناراضگی کے ساتھ ٹویٹ کیا کہ یہ الاٹمنٹ قانونی تھی۔ میں حیران ہوں کہ آئین کے کس آرٹیکل میں ایسی الاٹمنٹس کی اجازت دی گئی ہے۔ ایک وارننگ دی گئی کہ ایسے سوالات اداروں کے مابین  ہم آہنگی پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ اگر پارلیمنٹ کی طرف سے پوچھے گئے سوال کو قومی مفاد کے لیے خطرہ سمجھا جائے تو اس میں پارلیمان کیا کر سکتی ہے؟  ایک عدالت نے سو موٹو کیسز کے بارے میں کیے گئے ایک پارلیمانی سوال کو مسترد کر دیا کیوں کہ اسے عدلیہ کی آزادی کے خلاف بغاوت سمجھا گیا۔  ہو سکتا ہے کہ پارلیمنٹ کسی مخصوص  معاملے پر قانون سازی میں ناکام ہوئی ہو یا اس نے کچھ خاص چیزوں کو پردے میں بھی رکھا ہو لیکن ایسی کون سی چیزیں ہیں ؟

دو سال قبل جب موقع تھا تو  پارلیمنٹ شفاف  اور اداروں کے مابین برابری کی سطح پر احتساب   کے بارے میں قانون سازی کرنے میں ناکام رہی جس کے تحت جرنیلوں اور ججز جن کو قومی خزانے سے تنخواہیں دی جاتی تھیں ان کا محاسبہ کرنا مقصود تھا۔  یہ سو موٹو اختیارات کے استعمال کو ریگولیٹ کرنے کا قانون بنانے میں ناکام رہی۔ یہ ریاستی انٹیلیجنس ایجنسیوں خاص طور پر  انٹر سروسز انٹیلیجنس کے کاموں اور مینڈیٹ کو طے کرنے کا قانون بنانے میں بھی ناکام رہی۔ اگر پارلیمنٹ کی ان ناکامیوں پر پوری طرح تحقیق کی جاتی تو دلچسپ حقیقتیں سامنے آ سکتی تھیں ۔

بد قسمتی سے پارلیمنٹ کے پاس دفاع کرنے والا کوئی نہیں ہے جب کہ آرٹیکل 62 (1)(ف) کو پارلیمانی ارکان کے خلاف پوری طرح استعمال کیا جاتا ہے۔ لوگوں کی اجتماعی آواز کے میگا فون کے طور پر پارلیمنٹ کو تعمیراتی طور پر اہم قومی معاملات پر مباحثے کے ذریعے خود کا دفاع کرنا چاہیے۔ جب سپریم کورٹ نے مطالبہ کیا کہ اٹھارویں ترمیم میں ججوں کی تعیناتی سے متعلق آرٹیکل  پر نظر ثانی کی جائے تو   یہ ممکن ہے کہ ایسا پارلیمان نے کیا ہو لیکن  ایسا کرنے سے پہلے اس معاملے پر تفصیلی بحث ہونی چاہیے تھی اور اس میں کسی معاملے کو خفیہ بھی نہیں رکھنا چاہیے تھا۔

آئین کے دائرہ میں رہتے ہوئے سکیورٹی اور عدلیہ سے تعلق رکھنے والے مسائل پر  مکمل بحث و مباحثہ نہ کرنے کی وجہ سے پارلیمان کی کمزوری  کا تاثر مزید واضح ہو جاتا ہے۔ اگر پارلیمنٹ اپنا دفاع کرنا چاہتی ہے تو  کمزوری کے اس تاثر کو زائل کرنا سب سے اولین ترجیح ہونا چاہیے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *