چیف جسٹس پاکستان نثار کے دور کا تجزیہ

ہمارے کلچر میں گزر جانے والے شخص کے بارے میں کوئی رائے قائم کرنا برا سمجھا جاتا ہے۔ ہم ان کے لیے صرف بخشش کی دعا کرتے ہیں۔ کسی کے چلے جانے کے بعد اس کے کارناموں کو نظر انداز کر دینا بھی غلط ہے۔

لیکن ریٹائرڈ چیف جسٹس ثاقب نثار کی تعریف میں کچھ لکھنا کوئی ذاتی معاملہ نہیں ہے۔جس شخص نے بغیر دباؤ کے ہمارے ملک کے معاملات پر حکومت کی ہو، تو سبق لینے کے لیے اس کے رویے اور اعمال  پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔ ایک تقویت پسند وفادار  شہری کے طور پر ہم میں سے ہر ایک کے لیے ان کے کارناموں کے کچھ اثرات واقع ہوئے ہیں جن سے واقفیت لازمی ہے۔

اہم سوالات جو پوچھے جانے کے قابل ہیں یہ ہیں: کیا ان کا سو موٹو اختیارات کا استعمال آئینی تھا (اور اس کے نتائج سود مند تھے)؟ کیا انہوں نے عدلیہ کی آزادی کی مدد کی یا اسے مجروح کیا؟ کیا انہوں نے عدلیہ کی بطور غیر جانب دار ثالث کی تصویر پیش کی؟ کیا انہوں نے آئین کی اختیارات کی درجہ بندی کی سکیم کو تقویت دی یا اسے کمزور کیا؟ کیا وہ توجہ پانے میں زیادہ دلچسپی رکھتے تھے یہ نرم رویہ اپنانے کی وجہ سے جانے جاتے تھے؟ کیا ان کا رویہ ایک جج کے عہدہ کے مطابق تھا؟  کیا ان کی بحیثیت مجموعی کارکردگی  سے وہ ایک ایسا ملک چھوڑ کر گئے جو پہلے سے بہتر اور زیادہ مستحکم ہو؟

سپیریئر کورٹ جج کے طور پر اٹھارہ سال کے کام  کرنے کے بعد جسٹس نثار  کو ایک  قانون فہم اورا سنجیدہ ذہنیت کے حامل شخصیت کے طور رپ جانا جاتا تھا اور ان سے توقع کی جاتی تھی کہ وہ قانون کے مطابق انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں گے۔ جسٹس افتخار چوہدری کی طرف سے اختیارات کے غلط استعمال پر ثاقب نثار کی ناراضگی کسی سے ڈھکی چھپی نہ تھی۔  جب جسٹس نثار نے کرسی سنبھالی تو توقع تھی کہ وہ عدالتی اصلاحات لائیں گے، اپنے ہاؤس کو  ٹھیک کریں گے ، عدالتی مہم جوئی کو کنٹرول کے لیے مناسب اقدامات کریں گے اور  ملک کی سب سے اعلی عدالت میں سنجیدگی کا ماحول پیدا کریں گے۔ لیکن چیف جسٹس بننے کے 10 ماہ کے اندر ہی وہ اپنی سمت کھو بیٹھے۔

چیف جسٹس نثار نے عوامی سطح پر وعدہ کیا تھا کہ آرٹیکل 184 (3) کی حدود اور سکوپ  کو اپنی نگرانی میں تعین کریں گے۔ وہ اپنی بات پر پورے نہ اترے بلکہ 184 (3) کا لگاتار استعمال کرتے رہے۔ جس طرح سے انہوں نے اس اختیار کا استعمال کیا اور اپنی عدالت کو چلایا  اس سے قانون کی حکمرانی اور مردوں کی حکمرانی کے بیچ کا فرق ختم ہو نے لگا ۔ وہ ایک  بادشاہ کے دربار کا منظر پیش کرنے لگے ۔ انہوں نے اپنی مرضی سے انصاف فراہم کرنے کی روش اپنائی۔

اس کی کیا اہمیت ہے؟   امریکی سپریم کورٹ کے جسٹس الیٹو ایک حالیہ کیس میں تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ''ایک جج کسی خاص کیس میں کسی ترجیحی بنیاد پر نتیجہ نہیں نکال سکتا۔ جج کا واحد فرض  قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا ہے ۔'' ''ہم ایک آئین کے تابع ہیں، لیکن آئین وہ ہے جو جج کہتے ہیں،''چارلز ہیوز نے  مزاح  کرتے ہوئے کہا تھا۔ لیکن قانونی متن اور عدالتی کارناموں کو اس  نقطہ نظر سے دیکھنے کے عمل کو ایک جاہلیت سمجھا جاتا ہے ۔ کسی لفظ کا مطلب کسی خاص نقطہ نظر سے ہٹ کر نہیں نکالا جا سکتا، کم از کم کسی سادہ سی بات کا حلیہ بگاڑ کر تو بلکل بھی نہیں۔

چیف جسٹس پاکستان نثار نے مصطفی امپیکس میں کہا کہ وفاقی حکومت کا مطلب کابینہ ہے اور یہ کہ وزیر اعظم کے پاس حکومت کے نام پر اکیلے ہی کاروائی کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ یہ  بیانیہ اختیار کر کے انہوں نے یہ تعین کر دیا کہ سپریم کورٹ سے مراد بھی پوری عدالت ہے نہ کہ صرف چیف جسٹس ۔ پھر بھی انہوں نے 184 (3) کا استعمال صرف چیف جسٹس کے اختیارات کے اندر شامل کر کے  کیا۔ جب ایک کاروائی کے دوران جسٹس فائز عیسی نے سوال کیا کہ 184 (3) کو کیسے استعمال کیا جائے تو  چیف جسٹس پاکستان نے اچانک اس  بینچ کو توڑ کر نیا بینچ ترتیب دے دیا (جسٹس فائز عیسی کا اختلافی  نوٹ  اور حال ہی میں سامنے آنے والا جسٹس منصور علی شاہ کا نوٹ جس میں انہوں نے اس عمل کو عدالتی آزادی کا غلط استعمال قرار دیا ریکارڈ پر موجود ہے۔)

صرف یہ موقع نہیں ہے جب چیف جسٹس پاکستان نثار نے 184 (3) کو استعمال کرتے ہوئے عدلیہ کی آزادی کو مجروح کیا ہو۔ ان کے دور میں آئینی طور پر خودمختار اعلی عدالتوں کو ماتحت عدالتوں کی طرح ٹریٹ کیا گیا  ااور ان کے ساتھ ہتک آمیز رویہ اختیار کیا گیا ۔ انہوں نے کیسز کا از خود نوٹس لیا اور ان کا فیصلہ کیا جب کہ اصل معاملات ابھی ہائی کورٹس کے سامنے زیر التوا پڑے تھے۔ انہوں نے ہائی کورٹ  کے بینچ خود بنائے  جو کہ صرف ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کا دائرہ اختیار تھا ۔ ہم نے انہیں سیشن کے دوران کورٹ کا معائنہ کرتے اور ایک ڈسٹرکٹ کورٹ جج کو بے عزت کرتے دیکھا  جب کہ یہ اختیار صرف ہائی کورٹ کے پاس ہوتا ہے نہ کہ سپریم کورٹ کے پاس۔

چیف جسٹس نثار کی  ایکٹوازم سے عدلیہ کو جو نقصان پہنچا (عوام کا عدالتوں پر سے اعتماد ختم ہونا ، قانون کی حکمرانی سے  بد دلی ، ملک میں سیاسی ، معاشی اور قانونی  عدم استحکم پیدا کرنا وغیرہ ) اس کے اثرات کافی عرصۃ تک ہمارا پیچھا کرتے رہیں گے۔ چیف جسٹس پاکستان  افتخار چوہدری کی  ایکٹوازم سے ہونے والے نقصانات اس کے مقابلے میں پھیکے پڑ گئے ہیں۔ مشرف کے ججوں کو نظر بند کرنے اور گھر بھیجنے کے بعد  جب افتخار چوہدری بحال ہوئے  اور انہوں نے جو اپنی کارکردگی کے ذریعے عدلیہ کو ایک اعلی مقام دلوایا۔ اب اگر اختیارات کی تقسیم میں تیسری طاقت تھی تو وہ عدلیہ تھی ۔

ان کے دور میں مشرف کو غاصب قرار دیا گیا  ، عدالت میں  لاپتہ افراد کو سٹریچر پر ڈال کر پیش کیا گیا ، اصغر خان کیس  پر فیصلہ ہوا اور جرنیلوں کو سیاسی انجینئرنگ پر احتساب کے عمل سے گزارا گیا۔ اس سے لگتا تھا کہ عدلیہ کا اسٹیبلشمنٹ کے لیے کام کرنا اب  ماضی  بن چکا ہے۔ چیف جسٹس ثاقب  نثار کےدور میں یہ تاثر محو ہو گیا ۔ مسنگ پرسنز کے معاملے میں کوئی پیش رفت نہ ہوئی۔ ایک طرف بڑے بڑوں کی پگڑیاں اچھالی گئیں تو دوسری طرف راؤ انوار کو خاص عزت افزائی سے نوازا گیا۔ اصغر خان کیس دفن ہونے سے بمشکل بچ سکا۔

سیاسی کیسز کی ٹائمنگ جن کے گہرے سیاسی اثرات دیکھنے کو ملے ، ججز کے عدالت میں ریمارکس  اور اس کے ذریعے میڈیا ٹرائل  بہت اہمیت کے حامل رہے (جیسے کہ نئے منتخب شدہ سینیٹرز کی غیر ملکی قومیتوں کا سوموٹو اور سینیٹ انتخابات سے پہلے حلف لینے کے احکامات)۔ چیف جسٹس پاکستان ثاقب  نثار کے دور میں ہم نے 184 (3) کے  تحت آرٹیکل 62/63 کو  ایک خطرے  کے طور پر دیکھا  اور دھمکی آمیز رویہ نے آرٹیکل 58 (2) (بی) کی ناخوشگوار یادیں تازہ کر دیں۔

اگر چیف جسٹس  افتخار چوہدری نے سٹیل ملز کی نجکاری ختم کر کے معاشی عدم استحکام پیدا کیا  تو جسٹس ثاقب نثار نے اس  ایکٹوازم کو اگلے لیول تک پہنچا دیا۔ اگر چیف جسٹس پاکستان  افتخار چوہدری نے عدالتی نظر ثانی کے نام پر معائدوں کی روح پر اثر انداز ہونےکی کوشش کی تو جیسے کہ ریکو ڈک کیس)، تو چیف جسٹس پاکستان ثاقب  نثار نے اپنے ہیی ماضی کے فیصلوں کو ڈی گریڈ کرتے ہوئے ججوں کو  اپنی چائس کا پالیسی بنانے پر وارننگ دی  اور خود اپنی مرضی کی پالیسیوں پر کاربند رہے۔

پھر انہیں خیال آیا کہ وہ اپنے اختیارات استعمال کر کے ڈیم بنانے کی جدو جہد کریں۔ یہ فیصلہ کر کے انہوں نے نہ صرف حکومت کے دائرہ کار میں دخل دیا بلکہ انہوں اپنے عدالتی اختیارات کو استعمال کر کے  جرمانے بھی بٹورنے شروع کیے اور  حکم دیا کہ وہ جرمانے ڈیم فنڈ میں جمع کیے جائیں گے۔ انہوں نے ڈیم کی افادیت کے بارے میں تنقیدی رائے رکھنے والوں کے لیے غداری کے قانون  کے ذریعے کاروائی کرنے کی دھمکی دی۔  انہوں نے سب کو یہ بتا دیا کہ  اگر ان کی نظر میں عزت دار بننا ہے تو  ڈیم فنڈ میں  حصہ ڈالنا ضروری ہو گا۔

ان کے دور میں، عدالتی ماہرین کی کمی کی وجہ سے کیا ہو سکتا ہے اور عدلیہ کے دائرہ کار میں کیا آتا ہے اور کیا نہیں آتا کے بارے میں سوالات بے معنی ہو کر رہ گئے۔ انہوں نے ایگزیکٹو کو حکم دیا کہ وہ ان کی مرضی  کے مطابق پالیسیاں بنائے  اور قانو ن سازی کے ذریعے ان کی من مانی سفارشات کو قانونی شکل دے ۔ (اس میں ایسے فیصلے بھی شامل تھے کہ کونسے ٹیکس لگائے جائیں اور ان کی وصولی کیسے کی جائے۔) جس طرح کا رویہ  سیمنٹ، ڈیری اور مشروبات کی صنعتوں کے  ساتھ اپنایا گیا ، اور پرائیویٹ ہسپتالوں اور سکولوں سے جو سلوک کیا گیا  اس کے بعد ان تمام شعبوں میں جو لوگ اب بھی سرمایہ کاری کر رہے ہیں انہیں خراج تحسین پیش کیا جانا چاہیے۔

چیف جسٹس پاکستان نثار کی عدالت  میں داخل ہونے والا ہر شخص اپنی گارنٹی پر ہی داخل ہو سکتا تھا۔ ہماری اعلی ترین عدالت  میں اس طرح کی بد دیانتی  دیکھ کر شرمندگی محسوس ہوتی تھی۔ بد تمیزی  اور بد تہذیبی کی کوئی حد نہ تھی۔ اپنا نقطہ بیان کرنےو الے کی  تضحیک کی جاتی تھی اور بڑے بڑے بیوروکریٹس کی ٹانگیں کانپتی تھیں  اور وہ دعا کرتے تھے کہ ان کی عزت بچی رہے اور ذلت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔سینئر وکلا ایسے کیس لینے سے گریزاں تھے جن کی سماعت کرنے والے ججز میں ثاقب نثار موجود ہوں ۔ یہ نئے  معمول کے حالات تھے۔

ایک بات جب ہو چکی اسے واپس کیا جا سکتا ہے؟ چیف جسٹس  افتخار چوہدری  نے 184 (3)  کے غلط استعمال کی بنیاد رکھی۔ جب ایسا ہو چکا تو  اگلے چیف جسٹس ثاقب نثار سے یہی توقع تھی کہ وہ اس غلط استعمال کو اگلی سطح تک لے جائیں گے۔  ثاقب نثار نے ایک بے مہار بادشاہ کی طرح کا رویہ اپنائے رکھا۔ ایسا رویہ اختیار کرنے سے سب سے زیادہ خطرہ  قانون کی حکمرانی کو تھا جسے اپنے ذاتی مقاصد اور شہرت کی خاطر  قربان کر دیا گیا۔ اور مزید افسوسناک یہ حقیقت تھی کہ اس پر کسی طرف سے رد عمل کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔ نہ سول سوسائٹی  کی طرف سے ، نہ کورٹ بار کی طرف سے اور نہ میڈیا اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے کوئی رد عمل آ سکا۔

آئیں چیف جسٹس پاکستان نثار کو الوداع کہتے ہوئے  ان کے جانشین چیف جسٹس پاکستان  کے وہ الفاظ دہراتے ہیں جو انہوں نے خلیل جبران کا حوالہ دیتے ہوئے ذکر کیے تھے: "قابل رحم ہے وہ قوم جو  زبردستی اور دھونس کا رویہ اپنانے والے کو اپنا ہیرو مانتی ہے۔ ''

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *