پاکستان کھپے

OLYMPUS DIGITAL CAMERAانہوں نے صرف دو الفاظ کہے اورعوام نے ان کے کردہ و ناکردہ، صغیرہ و کبیرہ گناہ معاف کر دئیے، ”پاکستان کھپے“ ۔۔27 دسمبر 2007 کی شام یوں تو پورے پاکستان کے لئے حزن و ملال لائی تھی لیکن سندھ میں قیامت کی نوعیت اور تھی۔ وہاں ریل کی پٹڑیاں اکھاڑی جا رہی تھیں، ٹرینوں پر حملے ہو رہے تھے۔ کراچی بھی تشدد کی زد میں تھا۔ یوں لگتا تھا، سندھ آتش فشاں بن گیا ہے۔ پنجاب سے اب ”سندھ کی بیٹی“ کی لاش آئی تھی۔ایسے میں انتہاپسند عناصر کی بن آئی تھی۔ غم سے نڈھال پُرجوش نوجوان بھی جذبات کی رو میں بہہ گئے تھے اور گڑھی خدا بخش میں ”پاکستان نہ کھپے“کے نعروں کی گونج تھی۔ نواز شریف راولپنڈی کے جنرل ہسپتال میں (جسے اب بے نظیر بھٹو ہسپتال کا نام دے دیا گیا ہے)میں سب سے پہلے پہنچے تھے۔ غمزدہ جیالے ان کے گلے لگ کر روتے رہے۔ وہ گڑھی خدا بخش میں محترمہ کی آخری رسوم میں شرکت کرنا چاہتے تھے لیکن وہاں اشتعال کا یہ عالم تھا کہ زرداری صاحب نے انہیں ایک دو دن بعد آنے کا کہا کہ اس دوران وہ کھولتے ہوئے جذبات کو ٹھنڈا کر سکیں۔ ”پاکستان نہ کھپے“کے جواب میں جناب زرداری صاحب نے پوری قوت کے ساتھ نعرہ لگایا، ”پاکستان کھپے“ ۔ ان دو الفاظ نے انہیں کہاں سے کہاں پہنچا دیا تھا۔ جب ججوں کی بحالی کے معاہدہٴ بھوربن کے حوالے سے ایک سوال پر ان کا جواب تھا، ” وہ ایک سیاسی معاہدہ تھا، میں نے کوئی حدیث تو نہیں لکھ دی تھی“۔
قدرت کے اپنے کھیل ہوتے ہیں۔ اقتدار سے دوسری محرومی کے بعد نہایت قریبی احباب سے محترمہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے زرداری صاحب کو دوسری بار حکومت میں شامل کر کے غلطی کی۔ مخالفین نے پہلی بار انہیں مسٹر ٹین پرسینٹ کا خطاب دیا تھا، تو دوسری بار سینٹ پرسینٹ کہنے لگے تھے۔ محترمہ کا کہنا تھا، سیاست میں اصل چیز Reality نہیں، Perception ہوتا ہے اور جناب زرداری کے بارے میں غلط ہی سہی، جو Perception بن گیا تھا، اس نے پارٹی کی ساکھ کو بہت نقصان پہنچایا تھا۔
2004 ء کے اواخر میں طویل اسیری سے رہائی کے بعدزرداری صاحب نے لاہور کو اپنی سیاست کا مرکز بنانے کی کوشش کی، اس کے لئے لاہور کینٹ میں بلاول ہاوٴس بھی لے لیا گیا لیکن تب یہاں چودھری پرویز الٰہی کی حکمرانی تھی۔ انہوں نے زرداری صاحب کو قدم نہ جمانے دئیے اور وہ لاہور سے دبئی اور وہاں سے امریکہ کوچ کر گئے۔ اس دوران محترمہ کا بیشتر وقت دبئی میں بچوں کے ساتھ گزرتا ۔ وہ امریکہ جاتیں تو زرداری صاحب سے ان کی ملاقات ایک ”خبر“ کی صورت میں شائع ہوتی۔ ایک انڈین اخبارمیں ماریانہ بابر نے تو دونوں میں علیحدگی کی خبر بھی دے دی تھی۔
ایک وفا شعار بیوی کے طور پر محترمہ، جناب زرداری کو ٹوٹ کر چاہتی تھیں لیکن سیاست کے اپنے تقاضے تھے اور زرداری بھی اس حقیقت کو سمجھتے تھے، چنانچہ وہ پارٹی پالٹکس سے مکمل طور پر لاتعلق تھے۔ لندن میں میثاقِ جمہوریت پر دستخطوں کی تقریب ہو یا نواز شریف کی طلب کردہ آل پارٹیز کانفرنس، جناب زرداری کہیں موجود نہ ہوتے۔ وہ پارٹی میٹنگز میں بھی نظر نہ آتے۔ 18 اکتوبر 2007 کو محترمہ کی وطن واپسی پر دبئی میں بچوں کی دیکھ بھال زرداری صاحب کی ذمے داری قرار پائی اور پھر 27دسمبر کا المیہ ہو گیا اور جناب زرداری وطن لوٹ آئے۔ گڑھی خدا بخش میں محترمہ کی تدفین کے بعد، پارٹی میٹنگ میں محترمہ کی وصیت منظرِ عام پر آئی جس میں انہوں نے کسی ”حادثے“کی صورت میں نئے چیئرمین کے انتخاب تک زرداری کو اپنا جانشین نامزد کیا تھا۔ وصیت میں بلاول نہیں تھا۔ جناب زرداری نے دوراندیشی اور معاملہ فہمی سے کام لیتے ہوئے بلاول کے ساتھ بھٹو کا لاحقہ لگایا۔ انہیں پارٹی کا چیئرمین بنایا اور خود شریک چیئرمین بن گئے۔
18 فروری 2008 کے انتخابات کے بعد وہ جاتی عمرہ آئے۔ بڑے میاں صاحب کی قبر پر حاضری دی۔ ان کا کہنا تھا، وہ آج جس دوستی کی بنیاد رکھنے آئے ہیں، یہ آئندہ نسلوں تک چلے گی۔ انہوں نے اسے بلاول اور حسن نواز کی دوستی کا نام دیا۔ نائن زیرو میں انہوں نے آصفہ اور فضہ الطاف میں دوستی کی بنیاد رکھی۔ وفاقی حکومت میں مسلم لیگ ن کو شمولیت پر آمادہ کرنے کے لئے انہوں نے میاں صاحب کے ساتھ معاہدہٴ بھوربن کیا۔ نئی حکومت کے قیام کے بعد 30 دن کے اندر 2 نومبر والی عدلیہ کی بحالی جس کا بنیادی نکتہ تھا۔ اس شرط سے انحراف پر، مسلم لیگ ن 13وفاقی وزارتوں کو ٹھوکر مار کر حکومت سے باہر آگئی۔
نواز شریف کے دباوٴ پر زرداری صاحب، مشرف سے نجات پر آمادہ ہو گئے، حالانکہ این آر او کے تحت مشرف کو 5 سال پورے کرنا تھے۔ مشرف مستعفی ہو گئے لیکن معاہدہٴ اسلام آباد کے تحت جنابِ زرداری 24گھنٹوں کے اندر ججوں کی بحالی کے وعدے پر بھی عملدرآمد نہ کر پائے۔ اب وہ مشرف کو انڈمنٹی دینے کی بات کر رہے تھے (کہ ملکی و غیر ملکی ضامنوں سے ان کا یہی وعدہ تھا) ۔ نواز شریف اس پر آمادہ نہ ہوئے۔ مشرف کی جگہ زرداری صاحب نے خود منصبِ صدارت سنبھالنے کا فیصلہ کیا، حالانکہ نواز شریف سے مفاہمت کے مطابق ، 17 ترمیم کی موجودگی میں اتفاق رائے سے کوئی غیرجانبدارصدر لایا جانا تھا۔
پنجاب میں گورنر راج، ڈوگر کورٹ کے ذریعے دونوں بھائیوں کی نااہلی کا فیصلہ، ججوں کی بحالی کے لئے نواز شریف کا (کامیاب) لانگ مارچ، پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت کی بحالی کے بعد تحریکِ عدم اعتماد کے لئے قاف لیگ کی قیادت کے ساتھ مل کے مختلف ناکام منصوبے، اتفاق رائے کے ساتھ 18 ویں ترمیم کی منظوری، کیری لوگر بل (اور اس پر فوج کا شدید ردِ عمل)، آئی ایس آئی کو وزارتِ داخلہ کے تحت لانے کی (ناکام) کوشش، جنرل کیانی کی مدت ملازمت میں فُل ٹرم توسیع اور جنرل پاشا کے لئے ایک سال کی ایکسٹینشن، ”میمو“ مسئلے پر فوج کے ساتھ کشیدگی، کرپشن کے کتنے ہی سکینڈلز میں سپریم کورٹ کے سوموٹو نوٹس، 2 مئی کا ایبٹ آباد کا واقعہ، ریمنڈ ڈیوس کا معاملہ، 26 نومبر 2011 کو سلالہ پوسٹ پر امریکی حملے کے بعد پاک امریکہ تعلقات میں بحران، شمسی ایئربیس سے امریکی انخلا اور ساڑھے 6 ماہ تک نیٹو سپلائی پر پابندی، توہین عدالت کیس میں وزیرِ اعظم گیلانی کی برطرفی، گوادر بندرگاہ پر چین سے جرأت مندانہ معاہدہ اور امریکیوں کی مخالفت کے باوجود پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ، ڈرون حملوں میں اضافہ، تاج ہوٹل بمبئی پر دہشت گرد حملے کے بعد پاک، بھارت تعلقات میں کشیدگی، 11 مئی کے انتخابات میں ملک کے 3 صوبوں میں پیپلزپارٹی کی شکست جناب زرداری کے عہد ِاقتدار کے اہم واقعات ہیں۔
میاں صاحب کی طرف سے رخصت ہوئے صدر کے لئے الوداعی ظہرانہ ایک اچھی سیاسی روایت کا آغاز ہے۔ اگر دو بار آئین شکنی کے مرتکب، لال مسجد سے لے کر اکبربگٹی کے قتل تک کتنے ہی سنگین جرائم میں ملوث اور اپنے اقتدار کے لئے پاکستان کو امریکی چراگاہ بنا دینے والے آمر کو گارڈ آف آنر کے ساتھ رخصت کیا جاسکتا ہے تو ایک سویلین صدر کی احترام کے ساتھ رخصتی کیوں نہ ہو؟ البتہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس ظہرانے کو اگر جشن کی صورت نہ دی جاتی، سادگی مدِ نظر رہتی اور تعریف و توصیف میں الفاظ کے جام و مینا نہ لنڈھائے جاتے تو معترضین کو اعتراض کا موقع نہ ملتا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *