میں اکیس سالہ پاکستانی مسلمان ہوں اور میں شادی نہیں کرنا چاہتی

" نیہا مقصود "

میں جانتی تھی کہ جیسے جیسے میں  20 سال کی عمر کی طرف بڑھتی جاوں گی میرے گھر والوں کے دماغ میں نہایت قدامت پسند سوالات  اٹھنے لگیں گے.

ہال ہی میں جب میں اپنی سردیوں کی چھٹیاں منانے پاکستان آئی، ، تو میں نے اپنی اکیسویں سالگِرہ بھی منائی. 21 ایک دلچسپ عمر ہے. میں ہمیشہ اس بات پہ یقین رکھتی تھی کہ  20 سال کی عمر نوجوانی کی عمر ہے ۔جب انسان اپنی عمر میں 20 کے ہندسے سے آگے نکلتا ہے، درحقیقت تبہی وہ دنیا کو اپنے لحاظ سے دیکھ سکتا ہے ۔

لیکن کچھ دنوں پہلے ہی میں نے دیکھا کہ میرے سکول کے کچھ پرانے دوستوں نے ازدواجی زندگی میں قدم رکھ دیا ہے جب کہ کچھ انسٹاگرام پر اپنے ہنی مون کی تصاویر اپلوڈ کر رہی ہیں.

اس چیز نے میرے دل میں ڈر پیدا کردیا.

اس سے زیادہ خوفناک میرے لیے یہ سننا تھا کہ میری کزن جو کہ عمر میں مجھ سے چھوٹی ہے، وہ بھی ازدواجی رشتے میں منسلک ہونے جا رہی ہے.

اب مجھے غلط مت سمجھے گا. میں بالکل اُن لوگوں کے خلاف نہیں جنہوں نے جلدی شادی کرنے کا فیصلہ کیا. انہوں نے کچھ سوچ سمجھ کر ہی یہ قدم اٹھایا ہوگا اور شاید وہ اس فیصلے سے خوش بھی ہوں.

لیکن اس سے مجھے یہ احساس ہوا کہ  میں 20 کی دہائی کی عمر میں شادی نہیں کرنا چاہتی۔

ثقافتی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو

میں جانتی تھی کہ جیسے جیسے میں  20 سال کی عمر کی طرف بڑھتی جاوں گی میرے گھر والوں کے دماغ میں نہایت قدامت پسند سوالات  اٹھنے لگیں گے.

کچھ لوگوں نے تو سوال داغنے کا عمل شروع کر بھی دیا ہے۔

ان میں سب سے عام سوال یہ ہوگا "شادی کب کروگی؟ جب ہم بوڑھے ہو جائینگے؟" اگرچہ یہ طنزیہ جملے ہوتے ہیں لیکن مگر پھر بھی تکلیف تو ہوتی ہے ۔

 یہ بھی غلط ہے کہ میں ایک ساوتھ ایشین اور پاکستانی مسلمان ہونے کی  وجہ سے شادی کے معاملے پر یہ سوچنے لگی ہوں  اور یہ خیال کرتی ہوں کہ  ایسا کیوں ہے کہ میں اس عمر میں شادی کرنے سے گریزاں رہنا چاہتی ہوں۔  اب تو بہت سے انکلز اور آنٹیاں آہیں بھرتی دکھائی دیتی ہیں۔

میرے لیے ایک سپر ٹائپ شخصیت، شادی اور رشتے معنی نہیں رکھتے. میں نے ابھی اپنی زندگی کے قیمتی وقت میں قدم رکھا ہے اور میں اپنے گرد موجود مواقعوں کو حاصل کرنا چاہتی ہوں.

مجھے پتہ ہے کہ اس قسم کی سوچ نایاب ہوتی ہے. لیکن مجھے پتہ ہے مجھے کیا چاہیے.

یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے اور بیرون ملک رہائش پذیر ہونے کی وجہ سے میری سوچ آزاد ہے،کہ جس کی بنیاد پر مجھے آگے بڑھنا ہے اور اپنے خیالات کو چیلنج کرنا ہے.

20-30  سال کی عمر ایک ایسا دور ہے جس میں  انسان کو چاہیے کہ وہ زندگی میں بڑے رسک لے اور اپنے مقاصد حاصل کرے۔

یہ ایسی عمر ہے جس میں  آپ ابھی کالج تعلیم سے فارغ ہوتے ہیں  اور حقیقی زندگی میں قدم رکھتے ہیں ۔ ایک ایسی عمر شروع ہو چکی ہوتی ہے  جب انسان اپنی مرضی کے رسک لے سکتا ہے۔

میرے خیال میں شادی ایک ایسا سمجھوتہ ہے جس میں  ایک عورت اپنے تمام خواب قربان کر دیتی ہے تاکہ وہ  بچے پیدا کرے اور اپنے میاں کو زندگی کی ترقی کرتا دیکھنے کے لیے ہر حال میں اس کا ساتھ دے۔

ایکٹنگ، رائٹنگ  اور لرننگ میرے ایسے مقاصد ہیں جن پر میں دل وجان سے  کام کرنا چاہتی ہوں اور جب بات محبت اور کیریئرکی  آئیگی، میں ہمیشہ کیریئر کو کئی گنا زیادہ اہمیت دوں گی۔

ہم اپنے باپ کی 3 بیٹیاں ہیں اور ہمارے باپ نے ہمیشہ یہی سکھایا  ہے ک کہ  تعلیم حاصل کرو  کیونکہ تعلیم اور اپنے دماغ کو علم سے روشناس کرنے سے انسان کو ایک مقصد مل جاتا ہے۔ تعلیم انسان کو معاشرے میں قابل عزت  اور اہمیت کا حامل بنا دیتی ہے۔. ایک بار تعلیم تمہارے پاس آگئی، کوئی اسے تم سے اسکے بعد چھین نہیں سکتا. ایک وجہ یہ بھی ہے کہ میں اپنی زندگی یونیورسٹی سے جاب جا ب سے شادی، پھر سیٹلنگ اور پھر بچے پالنےوالے طریقہ کار پر ضائع نہین کرنا چاہتی۔ میری زندگی  صرف شادی کے نظریہ کے گرد گھومے یہ میں نہیں چاہتی۔

2019 میں خواتین اپنی اعلی تعلیم، سرکاری نوکری، لیڈر شپ اور یہاں تک کہ ایکٹنگ کےلیے بھی کمپرومائز کے لیے تیار نہیں ہوتیں۔ اب وہ مردانہ معاشرے  کی چاردیواری میں رہنے کی پابندیوں   سے باہر نکل رہی ہیں۔ اب خواتین  ہی ہیں جو اپنے عزائم اور خواہشات کو حقیقت میں بدلنے کے لیے تگ و دو کرنے کا جذبہ دکھا رہی ہیں۔

میری طرف سے ان خواتین سے معذرت جو مجھے اپنے معاشرے میں ایک اجنبی  ہونے کا احساس دلانے کی کوشش کرتی ہیں  کیونکہ میں اس کمرے سے کافی بڑی ہوں  اور کسی صورت ان کی جاہلانہ رسموں میں اپنے آپ کو عمر کے اس خوبصورت حصے میں قید کرنا نہیں چاہتی جیسا کہ اس عمر میں شادی سے ہوتا ہے۔ اب میرے لیے  گول روٹی بنانے اور اپنے شوہر اور سسرال کو خوش کرنے  جیسی گھریلو ذمہ داریاں اہمیت نہیں رکھتیں۔

میں ایک 21 سالہ مسلم پاکستانی لڑکی ہوں، جو شاید کبھی شادی نہ کرے اور اس سال میں اپنے لیے جینے والی ہوں.

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *