خواتین کا پاکستانی معاشرے میں مقام

میں نے جب بھی پاکستان کے معاشی اور سماجی عوامل کے بارے میں لکھا ، تو بعض قارئین نے مسائل کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ حل بھی پیش کرنے کا کہا۔  یہ ایک حقیقت ہے کہ مسائل کا حل بھی کوئی راکٹ سائنس نہیں۔ تاہم، حل کے لیے   سیاسی طور پر ایک عزم ہونا چاہیے جسکا مظاہرہ تاحال نہیں کیا گیاکیونکہ سیاسی رہنما اور فوجی آامر دونوں ہی ان تمام کڑے فیصلوں سے دور بھاگے جسکی ضرورت پاکستان کو اکسویں صدی میں داخل ہونے کے لے  تھی۔ 
اگر ہم کامیاب اقوام کا سرسری جائزہ لیں تو ہمیں عام عوامل کی ایک بڑی تعداد دیکھنے  کو ملتی ہے۔ قانون کی مکمل پاسداری ایک اہم جزو ہے۔ وہ معاشرہ ترقی نہیں کرتا جس میں اعلی طبقہ قانون سے بالاتر ہو اور عوام کی اکثریت  ریاست کی نا انصافیوں کے نیچے کچلی جا رہی ہو۔  ان ممالک میں وسائل غیر مساواتی طور پر مختص کئے جاتے ہیں، جسمیں امیر کو زیادہ  حصہ ملتا ہے 
لیکن ترقی کی ایک سب سے اہم کلید لڑکیوں اور خواتین کی تعلیم اور انکو با اختیار بنانا ہے۔ بنیادی طور پہ ہر وہ معاشرہ جو ترقی کی راہ پر گامزن ہے وہ اس لئے ہے کیونکہ اسکی خواتین اسکی معیشت میں حصہ لیتی ہیں اور انکے اس اہم کردار کو ادا ہونے کے لئے انھیں تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ بنانا ضروری ہے۔
عالمی اقتصادی فورم کی تیار کردہ گلوبل گیپ رپورٹ (۲۰۱۷) کے مطابق، ۵ میں سے ۴ ممالک جن میں خواتین نے معیشت کی کامیابی میں کردار ادا کیا وہ  بنا کسی حیرانی کے ، سکینڈینیوین  ممالک ہیں۔ اور سروے کے مطابق 144میں سے 143ویں نمبر پر پاکستان ہے۔ اس رپورٹ کے عوامل میں ملک کی معیشت مین کردار کے مواقع، تعلیم کی سہولیات، صحت  کی سہولیات اور سیاسی پختگی  شامل ہیں۔ حال ہی میں پاکستانی معاشرے میں خواتین کے مقام کی تصویر کشی اس وقت ہوئی جب پشاور میں ہونے والی خواتین کی سائیکل ریلی ، مذہبی جماعتوں کی دھکمیوں کے جواب میں مسنوخ کی گئی جنکا کہنا تھا کہ یہ تقریب فحاشی  پھیلانے کا ایک ذریعہ بنے گی یہ دیکھتے ہوئے کہ دنیا بھر میں علماء کی جانب سے بغیر کسی دھمکی کے لاکھوں خواتین کو سائیکل چلانے کی اجازت ہے، ایسا لگتا ہے ہم پستی کی نئی حدوں کو چھو رہے ہیں۔ اس کے باوجود بہت سے جنوبی ایشیائی ممالک میں ان کی بہنیں بلا خوف و خطر  سکوٹر اور سائیکل چلاتی ہیں ۔ در حقیقت پبلک ٹرانسپورٹ کے فقدان کے باعث ان کے پاس کوئی دوسرا چارہ بھی نہیں۔
خواتین کے لئے تعلیم اور روزگار کے راستے بند کرکے پاکستان خود اپنے معاشی نقصان کی وجہ بن رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق، اگر دوسرے ترقی یافتہ ممالک (او۔اے۔ڈی۔سی)، سوئیڈش خواتین کے برابر  خواتین کو معیشت میں کردار کا موقع دیں تو تو وہ اپنے سالانہ جی۔ڈی۔پی میں چھہ ٹریلین کا بڑا اضافہ دیکھ سکیں گے۔ مجھے نہیں معلوم کہ ہمارے معاشی ماہرین نے یہ اندازہ لگایا ہے یا نہیں کہ پتھر کے دور کا رویہ اپنا کر خواتین  کو معیشت مین کردار سے دور رکھنے سے  ہمارا کتنا معاشی نقصان ہو رہا ہے لیکن اتنا معلوم ہے کہ یہ ایک اچھی خاصی رقم ہوگی۔
دیگر مسلم ممالک میں جیسے جیسے خواتین کی شمولیت بڑھتی گئی، ویسے ویسے انکی معیشت میں اضافہ ہوا۔ بنگلہ دیش، ملائیشیاء، ایران، انڈونیشیاء اور ترکی، مسلم ممالک کی اچھی مثالیں ہیں جہاں خواتین کو تعلیم کے ذریعے با اختیار بنایا گیا۔ ان میں سے کوئی یہ نہیں سوچتا کہ انکا عقیدہ خطرے میں ہے، ہمارے علماء کے برعکس جن کے لئے کوئی سماجی ترقی بھی عقائد کے لئے خطرہ ثابت ہوتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ اپنے آپ کو دیگر مسلم ممالک سے زیادہ دیندار سمجھتے ہیں۔
لڑکیوں کو تعلیم دینے کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ تعلیم کے حصول کے بعد عمومی طور پر وہ شادی کر لیتی ہیں اور پھر ان کے ہاں بچوں کی بھی پیدائش ہوتی ہے۔ ایسے ملک کے لئے جہاں بڑھتی ہوئی آبادی معاشی و سماجی مسائل کا باعث ہے، یہ ایک مثبت نتیجہ ہے۔ دنیا بھر کے ممالک میں آبادی میں کمی دیکھنے میں آئی ہے جہاں عورتیں یونیورسٹی جاتی ہیں اور روزگار  کا راستہ اختیار کرتی ہیں۔
افسوس کی بات ہے کہ ہمارے علماء کے نزدیک آبادی کو قابو کرنے کی کوئی بھی کوشش مغرب کی جانب سے سازش کا حصہ سمجھی جاتی ہے۔ سیاستدانوں اور میڈیا کی جانب سے اس جاہلانہ نظریے سے نپٹنے کے لئے کچھ خاص نہیں کیا گیا۔
خلاصہ یہ ہے کہ خواتین کے حقوق کے لئے جدوجہد ایک سیاسی کام ہے۔ بہت سے ممالک میں خواتین روزگار میں فقط جنگ کے باعث محنت کشوں کی قلت ہونے کی وجہ سے داخل ہوئی۔ ابتداء سے ہی  آزادی کے  لیے یہ سیاسی جدوجہد جاری رہی جب تک خواتین اپنے مساواتی حقوق حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوگئیں۔ بلاشبہ، جنس پر مبنی تفاوت اپنی جگہ، مگر مہذب معاشروں میں عورتوں کے مساوی مواقعوں کے حقوق پر سوال نہیں اٹھتا۔
مہذب تعلیم اعلی طبقے کے حصے میں آتی ہے جبکہ پاکستان کے اوسط گھرانوں سے تعلق رکھنے والے لڑکوں اور لڑکیوں کو اگر وہ خوش قسمت ہیں تو صرف ہمارے ہولناک سرکاری اسکولوں تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ ۔ فنڈنگ کی قلت سے مقامات میں فقدان کی وجہ سے کئی بچوں کو مدرسے بھیجا جاتا ہے جہاں وہ محض صحیفوں کو رٹنے کے سوا، کچھ نہیں کرتے۔ لڑکیوں کو خاص طور پر ان سرکاری اسکولوں میں دشواری ہوتی ہے کیونکہ ان میں سے چند کے پاس ہی بیت الخلاء اور پانی کی سہولیات ہوتی ہیں۔ عملی طور پہ اپنی آبادی کے نصف حصے کو کام سے روکنے سے، ہم اپنے ٹیلنٹ پول میں پچاس فیصد کمی کرتے ہیں۔باقیوں کی بھی اکثریت کو معیاری تعلیم نہیں میسر ہوتی اس لیے وہ معیشت میں کردار جیسے پیچیدہ معاملے  میں  موثر کردار ادا نہیں کر سکتے۔ 
دئیے گئے حقائق کو دیکھ کر یہ فیصلہ کرنا آسان ہو جاتا ہے کہ ہم کیوں ہم دنیا کے معاشی ہ سماجی انڈکس میں سب سے نچلے درجے پہ ہیں۔
بہت سے پاکستانی اس عورت مخالف رویے کو اسلیے اپنا لیتے ہیں کہ ان کے مطابق یہ ہماری ثقافت اور دین میں شامل ہے۔ لیکن یقینی طور پہ غربت اور جہالت شامل نہیں ہے۔ تو اگلی بار اگر آپ  کو تعجب  ہو کہ اکستان کیوں اتنا پیچھے ہے، تو ہمارے سماج میں عورت کا مقام دیکھ لیں۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *