’کاروبار میں آسانی کیلئے اصلاحات کی منصوبہ بندی مکمل‘

اسلام آباد: پاکستان کو آئندہ 5 سال کے عرصے میں دنیا کے ان 50 ممالک میں شامل کرنے کے مقصد کے تحت، جہاں کاروبار کرنا نہایت آسان ہے، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے آسان اور کاروبار دوست اقدامات کرنے کا منصوبہ بنا لیا۔

رپورٹ کے مطابق یہ بات چیئرمین بورڈ آف انویسٹمنٹ (بی او آئی) ہارون شریف نے وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت و سرمایہ کاری عبدالرزاق داؤد کے ہمرہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

ہارون شریف کا کہنا تھا کہ کراچی میں تعمیراتی پرمٹ کا خودکار طریقہ کار جبکہ لاہور اور کراچی میں جائیداد کی رجسٹریشن کا عمل ان اصلاحات کا حصہ ہے جو آئندہ 3 ماہ میں ملک میں متعارف کروادی جائیں گی۔

دیگر اقدامات میں کاروبار کے آغاز کے لیے سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ای ای سی پی) کا سندھ پورٹل اور ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹیٹیوشن (ای او بی آئی) کے ساتھ انضمام اور رسک مینجمنٹ سسٹم میں بہتری شامل ہے تاکہ فزیکل آڈٹ کو 75 فیصد تک کم کیا جاسکے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی آسان کاروبار سے متعلق درجہ بندی میں بہتری آئی ہے اور اس میں 11 اعشاریوں کا اضافہ ہو کر 147 سے 136 کی سطح پر آگئی ہے لیکن ہم اسے مزید کم کر کے 2 سال کے عرصے میں 100 کے اندر لانا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کاروبار کے آغاز کے لیے ایس ای سی پی اور حکومتِ پنجاب کا مشترکہ پورٹل متعارف کروادیا گیا ہے تاکہ کاروبار کی رجسٹریشن کی جاسکے جس سے رجسٹریشن کے عمل کا دورانیہ کم ہو کر محض ایک دن رہ گیا ہے۔

بی او آئی چیئرمین کا کہنا تھا کہ لاہور میں پراپرٹی رجسٹریشن کا عمل خودکار کردیا گیا ہے جس کے نتیجے میں اس کا دورانیہ 56 دن سے کم ہو کر 18 دن ہوگیا ہے جبکہ کراچی میں بجلی کا کنیکشن حاصل کرنے کی مدت بھی 215 دن سے کم کر کے 185 دن کردی گئی ہے۔

انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ یہ اقدامات عالمی بینک کے طریقہ کار کے تحت آسان کاروبار والے ممالک کی فہرست میں پاکستان کی بہتر درجہ بندی کو بہتر بنانے کا باعث بنیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت ایک رجسٹری قائم کرے گی تاکہ چھوٹے کاروبار کے لیے منقولہ اثاثوں کے عوض قرض حاصل کرنا آسان ہو، دیگر مجوزہ اقدامات میں کانٹریکٹ نافذ کرنا اور بجلی کی یقینی فراہمی شامل ہے۔

مشیر صنعت و تجارت کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت ٹیکس اور ویزہ کے نظام کو سادہ بنانے کے لیے کام کررہی ہے کیوں سرمایہ کاروں کو راغب کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ملیشیا اور چین کے سرمایہ کاروں نے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری میں خاصی دلچسپی ظاہر کی ہے، حکومت سیاحت اور ہوٹل کی صنعت کو فروغ دینا چاہتی ہے لیکن بہت سے تاجر خوراک میں بھی سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔

اس ضمن میں ہارون شریف کا مزید کہنا تھا کہ سرمایہ کاری کی سہولت کے لیے ون ونڈو آپریشن کا دائرہ کار پراپرٹی رجسٹریشن تک بڑھا کر ایک ویب پورٹل بھی لانچ کردیا گیا ہے جبکہ بجلی، گیس، پانی کے کنیکشن حاصل کرنے کے لیے آن لائن طریقہ کار وضع کردیا گیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *