بھٹائی کا رکھوالا میرا گونگا مُرید

مستنصر حسین تارڑMHT

مزار کی جالی کو آنکھوں سے چومتے شخص نے میری حیرت بھانپتے ہوئے کہا ’’سائیں، یہ غلام حسین شاہ لطیف کا اتنا شیدائی تھا کہ اپنی مرضی سے بغیر کسی معاوضے کے یہاں جھاڑو دیا کرتا تھا، ان کے عشق میں اتنا فنا تھا کہ اوقاف والوں نے متاثر ہو کر اسے یہاں کا رکھوالا متعین کردیا۔۔۔ یہ جب چاہے جسے چاہے شاہ کا دیدار کروادے اور جسے چاہے دھتکار دے۔۔۔ اس کے موڈ پر منحصر ہے۔
وہ مسرت سے مغلوب ہوتا میرے رخساروں کو چھوتا اور پھرانگلیوں سے فضا میں ایک مستطیل کھینچ کر اپنے تئیں ٹیلی ویژن کی سکرین بناتا کہ میں نے تمہیں اس میں دیکھا ہے۔ کبھی میرے سفید بالوں کو ہاتھ لگا کر منہ بناتا اور غوں غوں کرتا گویا کہتا کہ تم بوڑھے ہو گئے ہو، تب تمہارے بال سیاہ تھے، بہت شکل والے تھے۔۔۔ تمہیں کیا ہو گیا ہے۔۔۔
بعد میں محکمہ اوقاف کے ایک اہلکار نے ترجمانی کی کہ یہ آپ کو صبح کی نشریات میں برسوں دیکھتا رہا تھا اور کہتا ہے کہ آج آپ کو دیکھنے سے میرے من کی مراد پوری ہو گئی ہے، یہ آپ سے ملاقات کے لئے شاہ کے حضور روزانہ دعائیں کرتا تھا۔۔۔ اس نے اخباروں میں شائع ہونے والی آپ کی تصویریں کاٹ کر گھر میں سجا رکھی ہیں۔۔۔
میں اس اُلفت کے اظہار پر کیسے متاثر نہ ہوتا۔۔۔ میرا گلا رندھ گیا۔۔۔ ٹیلی ویژن پر نموداری کی جھوٹی اور عارضی شہرت آج شاہ لطیف کے دربار میں میرے کام آگئی تھی۔۔۔ اس کا بس چلتا تو وہ مجھے شاہ لطیف کے مزار کے برابر میں لٹا کر مجھ پر سبز رنگ کی ایک چادر ڈال کر میرے گرد جھومر ناچنے لگتا۔۔۔ میرے ہم سفر غلام حسین کی گونگی محبت اور میری شکر گزار لاچارگی دیکھ دیکھ مسکراتے تھے۔
غلام حسین نے ذرا سختی سے اشارہ کیا کہ یہیں ٹھہرو۔۔۔ کہیں مت جانا اور پھر جانے کہاں گیا، واپس آیا ہانپتا ہوا تو اس کے ہاتھ میں چابیوں ا یک گچھا تھا۔ ان میں سے جو سب سے بڑی چابی تھی وہ شاہ کے مزار کے چھوٹے سے کھڑکی نما مقفل دروازے کی تھی۔ اس نے وہ در کھول کے اس کے کواڑ وا کردیئے۔۔۔ غاں غاں۔۔۔ اس نے مجھے دھکیلا۔۔۔ یعنی تم اندر چلے جاؤ، شاہ کے سرہانے بیٹھ کر اپنے دل کی بات کہہ دو۔۔۔ چلو چلو۔۔۔ اس لمحے مرقد کے اندرموجودجو شاہ کے شیدائی اور متوالے تھے وہ مجھے حسرت سے دیکھتے تھے۔۔۔ میں فاتحہ پڑھ کر فارغ ہوا تو اس نے مجھے اشارہ کیا کہ ابھی وہیں ٹھہرے رہو۔۔۔ میں ابھی آیا اور پھر غائب ہوگیا۔
کچھ دیر بعد نمودار ہوا تو رنگ رنگ کے کپڑوں اور چادروں کا ایک پلندہ اٹھائے ہوئے تھا۔۔۔ اور ان میں ایک نہایت دبیز گہری ہریاول والی چادر تھی جس پر چاندی رنگ تاروں سے گُل بوٹے نقش تھے اور آیات قرآنی کی دل کش سیاہ رنگ میں خطاطی تھی۔ یہ ۔۔۔ تم شاہ لطیف کی قبر پر چڑھا دو۔۔۔‘‘
شاہ نے پہلے بھی متعدد چولے پہن رکھے تھے۔۔۔ ایک دبیز سراسر سُرخ چادر کے اوپر نیلے حاشیے والی ایک اور بیش قیمت چادر بچھی تھی جس پر سنہری آرائشیں جگمگاتی تھیں اور ان کے اوپر میں نے غلام حسین کی عنایت کردہ سبز چادر ایک عجیب دل گرفتہ اور دل فریب سی کیفیت میں یوں پیار سے بچھا دی جیسے اس کے نیچے جو وجودہے وہ زندہ ہے، حق موجود رہتا ہے، سچ زندہ رہتا ہے۔ اس چادر کو تھپک تھپک کر سنوارا جیسے کسی سوتے ہوئے بچے پر کمبل ڈال کر اسے یوں تھپکتے ہیں کہ وہ جان تو جائے کہ یہ کمبل مجھے وہ اوڑھاتا ہے جو مجھ سے بے پناہ الفت رکھتا ہے لیکن اس کی نیند میں خلل بھی نہ آئے، یہ دھیان بھی رکھتے ہیں۔۔۔ مجھے تو گمان بھی نہ تھا کہ مجھے اتنی قربت نصیب ہو جائے گی۔
روئے زیبا دکھا گیا کوئی
مست و بے خود بنا گیا کوئی
کل سرِ شام چاندنی کی طرح
بزم گیتی پہ چھا گیا کوئی
یوں نظر میں سما گیا کوئی
محو حیرت بنا گیا کوئی
خرقۂ سبز فام میں آکر
روح میں لہلہا گیا کوئی
اب ابد تک سکوت برلب ہوں
راز ایسا بتا گیا کوئی
(سُرمومل رانو، ترجمہ شیخ ایاز)
بھٹ شاہ میں داخل ہونے پر بائیں جانب ایک جھیل نظر آئی جس کے پار کسی مقبرے کے آثار تھے۔
’’شیخ ایاز نے وصیت کی تھی کہ انہیں کسی قبرستان میں نہیں، اس جھیل کے کناروں پر دفن کیا جائے۔۔۔ شاعری کی پرکھ رکھنے والے کہتے ہیں کہ شاہ لطیف کے بعد شیخ ایاز سندھ کے سب سے بڑے شاعر ہیں‘‘۔ واپسی پر حاضری دیں گے کہ ۔۔۔ جمیل بتا رہا تھا۔
اس گونگے دلدار نے صرف اس پر اکتفا نہ کیا۔۔۔ اس نے ایک سرخ رنگ کی رومال نما چادر میرے گلے میں ڈال دی۔۔۔ یہ شاہ کی جانب سے تمہارے گلے کا ہار ہے۔۔۔ نہ صرف مجھے بلکہ اس نے دیدہ دل اور جمیل کو بھی رنگین چادریں اوڑھا دیں۔ میرے سامنے ایک تصویر ہے۔۔۔
شاہ لطیف کے مقبرے کی پُرپیچ اور نہایت پیچیدہ شکل کی جالی ہے جس میں سے شاہ لطیف کا ابدی گھر پھولوں اور چادروں میں ڈھکا ہوا ہے۔۔۔ اس کے دروازے میں گلاب کے پھولوں کی کھڑکی میں غلام حسین کا مسکراتا ہوا بے زبان چہرہ ہے اور اس کے آگے ہم تینوں روشنیوں میں آتے ہوتے ہیں۔ ہمارے چہرے روشن۔۔۔ میرے سفید بال روشن اور گلے میں ڈالی ہوئی چادر سرخ روشن۔۔۔ درمیان میں باریش مسکراتا ہوا دیدہ دل ایک سبز اور سرخ چادر اوڑھے ہوئے، جیسے موہنجو ڈارو کا گرینڈ پریسٹ ابھی ابھی مسلمان ہوا ہے کہ چادر پر مقدس آیات نقش ہیں اور پھر جمیل۔۔۔ وہ اگر شاہ لطیف کی اس چادر کو زندگی بھر اوڑھے رکھے تو یہ اس کا سب سے دیدہ زیب پہناوا ہو سکتا ہے۔ وہ اتنا خوش وجاہت لگ رہا تھا۔
ہم تینوں کی دائیں جانب مزار کی جالی کو چھوتا ایک سفید ریش ملنگ دکھائی دے رہا ہے۔ غلام حسین ہم سب کو اپنی محبت سے زیر کرتا، ہمیں ہانکتا ہوا اس حجرے میں لے گیا اور یہ بھی مقفل تھا۔ کسی کسی کے لئے کھلتا تھا، ہمارے لئے کھل گیا۔۔۔ اس حجرے میں لے گیا جس کی نیلی آرائشیں کمال کی تھیں، دیواریں نقش در نقش نیلاہٹ کے جمال میں دل کش۔۔۔
اور اس حجرے میں شاہ کا رانگلا پلنگ موجود تھا جس پر رَلی کی سندھی چادر بچھی ہوئی تھی اور اس پر شاہ کا عصا جس کی مٹھی چاندی کی بنی ہوئی تھی۔ ایک عقاب کی صورت میں، وہ عصا اس پلنگ پر رکھا تھا۔۔۔ چاندی کی مٹھی پر کوئی عربی عبارت ابھرتی تھی۔
یہ گویا معرفت اور جذب کے جنگل بیلے میں، بچھا ہیر کا رانگلا پلنگ تھا جو وصال کی خواہش میں تھا اور وہ عصا گویا عشق کے سمندروں کو دونیم کرتا ان میں ایک ایسا راستہ تخلیق کرتا تھا جو محبوب کے گھر تک جاتا تھا۔ اگرچہ غلام حسین مجھ پرنچھاور ہوا جاتا تھا لیکن جب میں نے اس سے پوچھا کہ کیا میں ایک پل کے لئے شاہ کے پلنگ پر بیٹھ جاؤں تو اس نے غوں غاں کرتے سنجیدگی سے اظہار کیا کہ نہیں۔۔۔ یہ شاہ کا پلنگ ہے۔۔۔ اس پر تم نہیں بیٹھ سکتے البتہ اس نے ہمیں شاہ کے عصا کو تھامنے دیا۔۔۔اب ایک عصا، عام سی لکڑی سے تراشیدہ، بے شک اس کی مٹھی چاندی کی ہو وہ ہم جیسوں کے تھامنے سے تو معجزہ آور نہیں ہو سکتا۔۔۔ اس کے لئے ایک موسیٰ، ایک شاہ لطیف کا ہاتھ درکار ہوتا ہے۔
اور ہاں شاہ کے حجرے کے باہر جو صحن تھا وہ اس پوری عمارت میں سب سے دل نشیں اور دل کو گرفت میں لے لینے والی خوبصورت نقاشی سے مزین تھا، حجرے سے باہر ایک برآمدے میں شیشے کے شو کیسوں میں شاہ کی نشانیاں محفوظ تھیں۔۔۔
ایک قدیم قرآن پاک جو ایک روایت کے مطابق شاہ نے اپنے ہاتھوں سے لکھا۔۔۔ اور یہ بہر طور طے ہے کہ وہ ان کے ہاتھوں کا لکھا ہوا اگر نہیں ہے تو بھی یہ ان کے زیر مطالعہ رہتاتھا۔
اور پھر ایک شو کیس میں ایک متروک شدہ پرانا ساز تھا۔ جس کی نسبت شاہ سے جڑتی تھی۔ جس شخص نے اپنی شاعری کو درجنوں راگوں اور سُروں میں ڈھالا ہو وہ خود بھی تو موسیقی کی نہ صرف پرکھ رکھتا ہو گا بلکہ کسی نہ کسی ساز کی تاروں کو چھیڑ کر اپنی شاعری ترتیب دیتا ہوگا۔ اور خود بھی گاتا ہوگا۔
تمام تو نہیں پر بیشتر صوفی شعراء ساز بجاتے تھے اور ان کی دُھن پر اپنا کلام گاتے تھے۔۔۔ بابا فرید کے بارے میں بھی یہی روایت ہے۔
بابا گورونانک اپنے مسلمان مرید بھائی مروانہ کے ہمراہ پنجاب کے دیہات میں اپنے شبد گاتے، خلق خداکو وحدانیت کا پرچار کرتے دربدر ہوتے تھے۔ بابا بلھے شاہ کے مزار سے متصل جو اُن کے آثار کا ایک عجائب خانہ ہے اس میں ان کے لبادے اور ٹوپی کے علاوہ انکا ذاتی سازبھی نمائش پر ہے۔
مولانا روم کو بھی بانسری سے شغف تھا۔
امیر خسرو کا کیا ذکر کہ وہ تو خود ایک ساز تھے۔
شاہ لطیف بھی سُروں کی اسی مالا میں پروئے ہوئے ہیں۔ شاعر بھی، سازندے اور گلوکار بھی۔۔۔ جو سوہنی کے مزار پر رات بھر گاتے تھے:
او پیارے مہینوال بچا لے گہری ہے منجدھار
کوئی نہیں اس گھاٹ پر ساجن میرا کھیون ہار
کچا گھڑا ہے رین اندھیری، کون سنے گا بپتا میری
تاک میں چاروں اور کھڑے ہیں کتنے ہی خونخوار
او پیارے مہینوال بچا لے گہری ہے منجدھار
غلام حسین نے ہمیں اوقاف کے دفتر میں لے جا کر ہمارے سامنے شاہ کا لنگر سجا دیا۔ اور جب رخصت ہونے لگے تو دیدہ دل نے محض شکرگزاری کے جذبے کے اظہار کے طور پر کچھ رقم اس کی خدمت میں پیش کی جو اس نے ٹھکرا دی۔۔۔ اسے ناگوارگزرا۔۔۔ اور وہ میری جانب اشارے کرتا گویا کہتاتھا کہ۔۔۔ اس کے لئے بس اس کے لئے۔۔۔
شاہ لطیف کے مزار پر مجھے قرار آ گیا، میں بہت آسودہ اور ذہنی طور پر ایک اطمینان اور امن میں آیا۔۔۔ سچل کے مزار پر بھی اسی کیفیت سے شناسائی ہوئی جبکہ شہباز قلندر کے ہاں ایسانہ ہوا۔۔۔ بے شک ہند سندھ میں اس کی نوبت باجتی تھی پر میرے من میں نہ باجی۔۔۔
شاید اس لئے کہ شاہ لطیف اور سچل محض درویش نہ تھے، صوفی نہ تھے بلکہ شاعر، گلوکار اور موسیقار بھی تھے۔ تخلیق کارتھے اور مجھے بھی کچھ زعم تھا کہ میں حرف کے معجزے کو زنجیر کر سکتا ہوں۔۔۔ وہ میرے ہم پیشہ اور ہمسائے تھے۔۔۔ محض قلندر نہ تھے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *