بے انتہاشرمندگی

ایاز امیرAyaz Amir

 اگرچہ بدترین شکوک و شبہات اپنی جگہ پر لیکن ہم ایبٹ آباد میں بن لادن کے احاطے میں کارروائی، جس کے نتیجے میں ہمارے دفاعی اور خفیہ اداروں کو مہان شرمندگی اور عقربی خجالت کا سامنا کرنا پڑا،کے متعلق حقائق سے آشنا نہ تھے، تاہم سیمور ہرش کی شائع ہونے والی کہانی۔۔۔۔ایسی کہانی جس کی مثل جیمز بانڈ کی فلموں میں بھی بمشکل ملے گی۔۔۔۔سامنے آنے کے بعد لفظ شرمندگی یا خجالت ناکافی دکھائی دیتے ہیں۔ ہرش کے مطابق حقائق بہت دھماکہ خیز ہیں۔ اُن افراد کی کمی نہیں جن کا موقف تھا کہ بن لادن پاکستان ملٹری اکیڈمی سے بمشکل ایک میل کے فاصلے پر اس طرح چھپ نہیںسکتا تھا تاوقتیکہ کہیں نہ کہیں، کوئی نہ کوئی اس راز سے واقف ہو ، لیکن ہم میںسے بہت سے سنجیدہ افراد نے اس موقف کو درخور ِا عتنا نہ گردانا۔ تاہم اب ایسا لگتا ہے کہ سازش کی تھیوریاں تخلیق کرنے والے اس مرتبہ اپنے ہدف کے قریب ترین تھے، کیونکہ اگر ہم ہرش کی کہانی پر یقین کر لیں تو بن لادن پاکستانی خفیہ ادارے کی تحویل میں تھا اور وہ جس احاطے میں رہتا تھا، وہ بھی اسی خفیہ ادارے کے کنٹرول میں تھا۔
امریکیوں کو اس کی موجودگی کی بھنک کیسے پڑی؟یقینا پچیس ملین ڈالر کی انعامی رقم بہت بڑا محرک تھی۔ ایک سابق انٹیلی جنس آفیسر امریکی سفارت خانے میں جاکربتاتا ہے کہ اس کے پاس دنیا کے مطلوب ترین شخص کے بارے میں اطلاع ہے۔ امریکی اُس پر یقین نہیں کرتے ہیں۔ اس کا پولی گراف ٹیسٹ کیا جاتا ہے جس میں وہ پاس ہوجاتا ہے۔ چنانچہ اُسامہ بن لادن کو ٹھکانے لگانے کی کارروائی کا آغاز ہوتا ہے۔ ہرش کے مطابق ، امریکیوں کو جلد ہی احساس ہوگیاکہ اُنہیں پاک فوج کو اعتماد میں لینا پڑے گا۔ اُس وقت ہمارے دفاعی اور خفیہ امور کے نگران افسران، جنرل کیانی اور جنرل پاشا نے کوئی رد ِ عمل ظاہر نہ کیا، لیکن جب امریکیوں نے بڑی ہوشیاری کے ساتھ دبائو بڑھایا تو وہ بھی راضی ہوگئے۔ اس دبائو میں بلیک میل کرنے کی دھمکی ۔۔۔ ہم دنیا کو بتائیں گے کہ بن لادن کو تم نے چھپایا ہوا ہے اور یہ تمہارے حق میں اچھا نہ ہوگا۔۔۔ کے علاوہ ذاتی فائدے کی بات بھی شامل ہوگی۔ہرش کے الفاظ میں۔۔۔’’اُنہیں ضابطے کی کارروائی سے ہٹ کر پینٹاگون کے خفیہ فنڈ سے ادائیگی کی گئی‘‘۔ اگر یہ بات درست ہے تویہ جاننا دلچسپی سے خالی نہیںہوگا کہ کس نے کتنا مال حاصل کیا۔
ہرش کی طرف سے کیا گیایہ بہت بڑا دعویٰ ہے کیونکہ اس کی زد میں ہمارے چیف صاحبان آتے ہیں، تو دوسری طرف ہم بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے بن لادن کو اس لئے اپنے پاس رکھا ہواتھا تاکہ ہم القاعدہ اور طالبان کو کنٹرول میں رکھ سکیں۔ تاہم یہ موقف انتہائی احمقانہ دکھائی دیتا ہے کیونکہ اُس وقت طالبان اور القاعدہ کی دہشت گردی نے پاکستانیوں کا جینا حرام کیا ہوا تھا، تو پھر اُسے پناہ دینے سے ہمیں کیا حاصل ہوا؟ اُس وقت بن لادن اتنا بیمار کہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ بستر ِ مرگ پر تھا(اس کے لئے لاہور کے ایک آرتھوپیڈک سرجن کا انتظام کیا گیا کہ وہ علاج معالجے کے لئے بن لادن کے پاس رہیں)۔ پاکستانی دفاعی قیادت اس بات پر رضا مند ہوگئی کہ وہ اس کارروائی کا راستہ نہیں روکیں گے۔۔۔ نہ ریڈار کام کرے گا اور نہ ہی کوئی بھولا بھٹکا جہاز ان کے راستے میں مداخلت کرے گا۔ اس کی بجائے ہفتے یا دس دن بعد یہ کہا جائے گاکہ بن لادن پاک افغان بارڈر پر ہندوکش کی کسی دشوار گزار وادی میں امریکی ڈرورن کا نشانہ بن گیاہے۔
تاہم یہاں پاکستان کے لئے معاملہ اُس وقت خراب ہوگیا کہ جونہی حملہ آور ہیلی کاپٹر افغانستان میں اپنے ٹھکانے پر پہنچے، صدر اوباما نے ٹی وی پر اعلان کردیا کہ بن لادن کو ہلاک کردیا گیا ہے۔ لگتا ہے کہ پاکستانی افسران اس بات کو بھانپنے میں ناکام رہے کہ انتخابات کی تیاری کرنے والے امریکی صدر اس اہم ترین کامیابی پر اپنے ہونٹ نہیں سی سکتے تھے۔ کسی ستم ظریف نے یہ تبصرہ بھی کیا کہ اگر وہ کارروائی ناکامی سے دوچار ہوتی تومسٹر اوباما ’’سیاہ فام جمی کارٹر ‘‘ قرار پاتے۔ تاہم کارروائی کامیاب ہوئی ، اوباما فتح یاب ہوئے لیکن جنرل کیانی اور جنرل پاشا ایک پریشان کن صورت ِحال سے دوچار ہوگئے۔ ہم جانتے ہیں کہ جی ایچ کیو پر ایک صدمے کی سی کیفیت طاری تھی ۔ ہم میں سے زیادہ ترکا خیال تھا کہ اس صدمے کی وجہ اس پیش رفت کا اُن کے لئے انتہائی غیر متوقع ہونا ہے۔ ہرش کا بیان تو کچھ اور ہی داستان سناتا ہے، لیکن اُس وقت جنرل کیانی اور جنرل پاشا، دونوں مایوس اور پریشان دکھائی دیتے تھے۔ اس واقعے کو بادی النظر دیکھنے سے تاثر ابھرتا تھا کہ یا تو پاکستانی انٹیلی جنس کے افسران ایبٹ آباد میں بن لادن کی موجودگی کو جانتے تھے اور جان بوجھ کر اغماض برت رہے تھے ، یا پھر اُنہیں انتہائی حساس جگہ پر دنیا کے مطوب ترین شخص کی مطلق خبر نہ تھی اور اب اس کارروائی نے اُنہیں چونکا کررکھ دیا ہے۔ سابق آرمی چیف اور سپائی چیف کے لئے بدترین بات یہ تھی کہ وہ لگنے والے اس چرکے کے رد ِعمل میں کچھ بھی نہیں کرسکتے تھے۔ وہ نہ تو امریکیوں کی مذمت کرنے کے قابل تھے کہ اُنھوں نے اُنہیں معاملے سے بے خبر رکھا اور نہ ہی وہ دعویٰ کرسکتے تھے کہ اُنھوں نے حملے میں امریکیوں کی مدد کی ،کیونکہ اس سے یہ تاثر ملتا کہ اُنھوں نے کسی مفاد کے عوض امریکیوں کا ساتھ دیا ہے۔چنانچہ اپنی ناراضی کو خاموشی سے دل میں ہی پالتے رہے۔
جنرل کیانی اور جنرل پاشا ایبٹ آباد سانحہ سے پہنچنے والے صدمے کے اثر سے کبھی باہر نہ نکل پائے۔ اس کے بعد ان میں پہلی سی تاب و تواں کا فقدان دکھائی دیا، تاہم میں یہ ضرور کہوں گا کہ جب وہ پارلیمنٹ کے ان کیمرہ اجلاس، جس میں، میں بھی موجود تھا، جنرل پاشااس واقعے کی وضاحت پیش کرنے آئے توکیانی صاحب فل یونیفارم میںا سپیکر کے باکس میں بیٹھ کر پاشا صاحب کی پرفارمنس دیکھ رہے تھے کہ وہ کس طرح نہایت تیاری اور طمانیت کے ساتھ ارکان ِ پارلیمنٹ کو قومی وقار اور عظمت کا درس دے رہے ہیں۔ میں نے اُس وقت بھی سوچا تھا اور اب تو مجھے یقین ہے کہ پاشا صاحب نے غلط پیشے کا انتخاب کیا۔۔۔ وہ اداکاری کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر کہیں بہتر انداز میں دکھا سکتے تھے۔ جنرل کیا نی کے الفاظ یاد ہوں گے کہ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے، لیکن ایبٹ آباد کارروائی اس قلعے کی گہنائی ہوئی شوکت اور شکستہ فصیل کو بے نقاب کررہی تھی۔
تاہم یہ سب کچھ اُس وقت جب ہرش کی کہانی کو درست مان لیاجائے۔ میں نے ایک ریٹائرڈ جنرل، جو امریکہ میں سفیر رہے ہیں ، سے بات کی تو اُنھوں نے کہا کہ وہ ہرش کی کہانی کو درست نہیں مان سکتے۔ اُن کا کہنا تھا کہ وہ ایبٹ آباد حملے کے چند دن بعد جنرل کیانی سے ملاتو وہ اس پر بہت پریشان تھے۔ کیانی صاحب نے کہا کہ اگر امریکی اُنہیںبن لادن کی موجودگی کی اطلاع کردیتے تو وہ خودآپریشن کر کے اُسے انجام تک پہنچا دیتے۔ اُن ریٹائرڈ جنرل صاحب کا کہنا تھا کہ اگر کیانی صاحب کوئی بہت بڑی اداکاری نہیں کررہے تھے تو اُن کی بات درست معلوم ہوتی تھی۔
تحقیقاتی جنرل ازم میں ہرش کا کیا مقام ہے؟ان کی کچھ اہم کہانیاں، جیسا کہ ’’My Lai massacre‘‘ سچی ثابت ہوئیں۔ ٓاس پر اُنہیں Pulitzer Prize ملا۔ اس کے برعکس کچھ کہانیاں، جیسا کہ جان ایف کینیڈی کی نجی خفیہ تعلقات کی رپورٹنگ…. بالکل غلط ثابت ہوئیں۔ اُن پر گمنام ذرائع استعمال کرنے کی وجہ سے تنقید بھی کی جاتی ہے۔
بن لادن کی موجودہ کہانی بھی صرف ایک ذریعے پر انحصار کرتی ہے جو ان رازوںسے باخبر کوئی امریکی آفیشل ہے۔ مجموعی طور پر اُنہیں ایک سنجیدہ اور بااثر رپورٹر، جو بہت محنت سے اپنی کہانیوں کے متعلق مواد حاصل کرتا ہے، مانا جاتا ہے۔ رپورٹ کا یہ حصہ کہ کوئی صاحب امریکی سفارت خانے میں گئے اور دعویٰ کیا کہ اُن کے پاس بن لادن کے بارے میں اطلاع ہے، درست معلوم ہوتا ہے۔ اس سے پہلے رمزی یوسف کو بھی انسانی ذرائع کی مدد سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اسی طرح خالد شیخ کو بھی جماعت ِ اسلامی کے کسی ہمدرد کے گھر سے گرفتار کیا گیا کیونکہ کسی نے امریکیوں کو اس کی اطلاع کردی تھی۔ دولت میں بہت کشش ہوتی ہے اور پھر امریکیوںنے مطلوبہ افراد کی اطلاع کی بھاری قیمت رکھی ہوئی تھی۔ مجھے کچھ شک ہے کہ یہ اطلاع کس نے دی ہوگی۔۔۔ کئی سال پہلے اسلام آباد میں میری ملاقات ایک رنگین مزاج کردار سے ہوا کرتی تھی ۔ اُن کا تعلق ایک مقتدر ادارے کی حساس برانچ سے تھا۔ اُن کے پہلو میں ایک حسینہ ہوا کرتی تھی جو غالباً کوئی فضائی میزبان تھی۔ میں انہیں دیکھ کر واجب رشک میں مبتلا ہوجایا کرتا تھا۔ ایبٹ آباد کارروائی کے فوراً بعد اُس کے نام کی باز گشت سنائی دی۔ اگر امریکیوں کو اطلاع دینے والا شخص وہی تھا تو مجھے یقین ہے کہ اس وقت وہ وہیں رہ رہا ہو گا جہاں اُسے ہونا چاہیے تھا۔ آخر میں، اصل حقائق کا تو صرف اﷲ کوہی علم ہے لیکن اس حقیقت سے بھی مفر ممکن نہیں کہ شیخ صاحب پانچ سال تک اُس احاطے میں موجود رہے۔ وہ وضع قطع کے اعتبار سے بہت منفرد تھے تو پھر اتنے طویل عرصے تک ارد گرد مرتکز عقابی نگاہوں سے کیسے روپوش رہے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *