مرد مرد ہی رہتے ہیں

" ہاجرہ ممتاز "

جنس کے مابین ہمیشہ کی جنگ خود بخود ختم ہونے سے رہی۔ می ٹو مہم کے بعد میڈیا میں سنسنی پیدا کر دینے والا اس کڑی کا تازہ ترین تنازعہ جلٹ کا اشتہار ہے۔ اس کا عنوان، 'مرد کے لیے بہترین چیز ' 30 سال پرانا  ہے۔ لیکن اس اشتہار کا  مواد بلکل نیا  اور حال ہی میں تیار شدہ ہے۔

اس میں دکھایا گیا ہے کہ مردوں کو صرف مرد ہونے کی وجہ سے ان کے بر ے رویہ پر کس قدر چھوٹ دی جاتی ہے۔ مردوں کو تعلیم دینے کا فرض بھی مردوں کے ہی سپرد کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ لڑکوں کو چاہیے کہ اپنے سے بڑھے مردوں سے سیکھیں  تا کہ وہ شدت پسندی، اذیت پسندی، اور گالی گلوچ جیسی عادات سے خود کو محفوظ رکھ سکیں  ۔

ویڈیو میں می ٹو مہم کے لیے ایک اثبات ہے، جو اس حقیقت کو تسلیم کر رہا ہے کہ عورتوں کو ہمیشہ سے ہراساں کیا جاتا رہا ہے اور ان کے ساتھ تشدد کیا جاتا رہا ہے، اور ایسی سرگرمیاں کرنے والے لوگوں کو معاف کیا جاتا رہا ہے۔اس میں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مرد والدین کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں سے کیسے روگردانی کرتے ہیں اور عورتوں کے ساتھ  کیسا  ناروا سلوک  کیا جاتا ہے۔ اشتہار کے مطابق لڑکوں  ہجوم اکٹھا کرنے پر سزا ملنی چاہیے اور سزا دینے والے اشخاص لڑکوں کے رول ماڈل ہونے چاہیے۔

عام آدمی کو شاید یہ لگتا ہو کہ اشتہار میں شامل یہ سب چیزیں فطری اور درست ہیں ۔  حیران کن طور پر لگتا ہے کہ اشتہار کو تعریف سے زیادہ تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بہت سے مردوں اور عورتوں کے سوشل میڈیا پر ویڈیو شیئر کرنے کے باوجود ویڈیو کو پسند نہ کرنے والوں کی تعداد  ہزاروں  کے فرق سے زیادہ ہے۔ اشتہار کے مرکزی خیال کا ' نشہ آور مردانگی ' ہونے کی وجہ سے یہ چیز حیران کن نہیں ہونی چاہیے کہ دنیا بھر کے بہت سے لوگوں  کے مطابق یہ اشتہار مردانگی کے کانسیپٹ کو پروموٹ کرتا ہے اور کچھ مردوں کو عورت کی طرح  کم تر بنا کر دکھاتا ہے۔

تاہم، حقیقت یہ ہے کہ اس کمپنی نے یہ اشتہار جاری کر کے بہت فائدہ حاصل کیا ہے  کیونکہ اس میں یہ دکھایا گیا ہے کہ خواتین کے خلاف تشدد آمیز رویہ کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ یہ بتایا گیا ہے کہ لڑکوں کو صرف لڑکے ہونے کی وجہ سے کسی صورت چھوٹ نہیں دی جا سکتی۔ اچھے اخلاق کے اصول واضح اور عام فہم ہیں، اور ان کی اہمیت  کو کم نہیں کرنا چاہیے کہ لوگون کے لیے انہیں توڑنا آسان ہو جائے۔ تعلیم کی ذمہ داری بھی خواتین پر ڈالنے کی بجائے مردوں پر ڈالی گئی ہے کہ وہ اپنے چھوٹے لڑکوں کو سمجھائیں کہ  کیسے ایک مہذب رویہ اختیار کیا جانا چاہیے۔

پاکستان جیسے ایک ملک میں، جہاں اگرچہ عورتوں پر تشدد کی شرح کافی زیادہ ہے،  ایک مردانہ معاشرہ ہے جس میں خواتین سے نفرت اور تحقیر آمیز رویہ برتا جاتا ہو،  اور بے پنا ہ ہٹ دھرمی  کا رویہ اختیار کیا جانا ایک معمول ہو  وہاں اس طرح کے اشتہار  غیر اہم ہو سکتے ہیں۔لیکن اس اشتہار کا معاملہ الٹ ہے۔  یہ ایک ایسی چیز ہے جس میں عوام کے لیے سب سے اہم چیز کو موضوع بنایا گیا ہے اور وہ اہم چیز خود کو با خبر رکھنا ہے۔ اس کے علاوہ انسان کو بنیادی انسانی حقوق کے بارے میں اور اپنے فرائض کے بارے میں بھی آگاہی فراہم کی گئی ہے۔

اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ ماڈرن  پاکستان میں عورتوں کو بڑی مشقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ غیرت کے نام پر قتل، گھریلو تشدد، اور دوسرے بھیانک خواب جیسے جرائم کو تو ایک سائیڈ پر رکھ دیں۔ ایک دوسری بڑی حقیقت پر نظر ڈالیے۔ جیسے جیسے اربنائزیشن میں اضافہ ہوتا ہے، کالج جانے والی لڑکیوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا ہے  اور دفاتر میں بھی خواتین  کی تعداد بڑھتی جاتی ہے۔ اس منظر کے بھی اپنے ہی چیلنجز ہوتے ہیں جیسا کہ بس میں بیٹھنا، عوامی جگہوں پر موجودگی  اور ایسی جگہوں پر خواتین  مردوں کے رحم و کرم پر ہوتی ہیں جو انہیں ہراساں کرسکتے ہیں۔

اتنا کہنا کافی ہے کہ منافع حاصل کرنے کے لیے اشتہاری مہمات جیسے کہ دی گئی جیلٹ کا اشتہار ہے، بر ے نظریات کے رد کے لیے بہت ضروری ہیں کیونکہ ان کے ذریعے مردوں کی برتری کے احساس ، انسانی وقار کو سمجھنے میں مشکل کے مسائل  اور مخالف جنس کے لوگوں کے لیے عزت اور احترام کے جذبات کو ابھارنے میں مدد ملتی ہے۔

یہ اشتہار بالکل صحیح انداز میں دکھاتا ہے کہ لڑکوں کو ان بنیادوں پر معاف نہیں کیا جانا چاہیے، اور بنیادی طور پر ان کو اچھے رویہ کی تعلیم دینے کا فرض بھی بڑے مردوں پر ہے  تا کہ وہ بچوں کو سمجھا سکیں کہ کیا رویہ اپنانا درست ہے اور کیا نہیں اپنانا چاہیے۔

یہ حقیقت کہ زیر بحث اشتہار نے دنیا بھر سے توجہ حاصل کی اس بات کی غماز نہیں ہے کہ  یہ تمام لوگ صرف مرد ہی تھے ۔ یہ اس یہ مطلب ہوا کہ نشہ آور مردانگی پوری دنیا کا مسئلہ ہے اور صرف پاکستان تک محدود نہیں ہے۔

صنف کے مابین یہ جنگ اتنی ہی پرانی ہے جتنی کہ انسانیت، اور کوئی شک نہیں کہ عورتوں کے لیے یہ بد ترین تجربہ رہا ہے، اگرچہ وہ کسی مقام پر ان میں سے کچھ خاموش اور مخالف سمت میں بھی دکھائی دی ہیں۔ کمپنی نے ایک اچھا کارنامہ سر انجام دیا ہے، ایک ایسا کارنامہ جو لائق تعریف ہے۔ مرد شخصیات جنہوں نے اسے دیکھا اور اس پر رد عمل دکھایا کے بارے میں یہ امید کی جا سکتی ہے کہ کم از کم کچھ لوگ جو چیزوں کو سمجھ سکتے ہیں اسے معمول سمجھ کر نظر انداز کرنے کی بجائے  صورتحال کو  تبدیل کرنے کے لیے اقدامات کریں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *