زندگی کا ساتواں سبق

’’کہیں ایسا نہ ہو جائے۔۔۔ کہیں ویسا نہ ہو جائے۔۔۔ شاید یہ ممکن ہے۔۔۔ نہیں یہ ناممکن ہے۔۔۔ اگر کبھی ایسا ہو گیا تو۔۔۔ اور اگر نہ ہوا تو۔۔۔!‘‘ یہ ہے آج کل کی دنیا جس میں ہم جی رہے ہیں، وہم اور شک کے سائے میں، مستقبل کے خوف میں، گو مگو کے عالم میں۔

ہم روزانہ اپنی زندگیوں کے فیصلے کرتے ہیں، کچھ چیزوں کا چناؤ کرتے ہیں کچھ باتوں کو رد کرتے ہیں اور پھر سوچتے ہیں کہ کہیں ہم نے کوئی غلط فیصلہ تو نہیں کر لیا، اب اِس بات کا فیصلہ کیسے ہو کہ یہی بہترین فیصلہ تھا، اور اگر ہمارا فیصلہ غلط ثابت ہو گیا تو اس کے کیا نتائج ہوں گے، کہیں ایسا ہو گیا تو کیا ہوگا، ویسا ہو گیا تو کیا ہوگا۔۔۔! یہ انجانا خوف انسان کا سب سے بڑا دشمن ہے، حالانکہ زندگی میں اسّی فیصد باتیں جن کے بارے میں ہم سوچ کر ہلکان ہوتے ہیں، کبھی وقوع پذیر ہی نہیں ہوتیں اور باقی بیس فیصد سے ہم رو پیٹ کر نمٹ ہی لیتے ہیں۔ آج کل کی زندگی بے حد پیچیدہ ہو چکی ہے، نت نئے امکانات نے اسے سہل بنانے کے ساتھ ساتھ گمبھیر بھی بنا دیا ہے، کہاں سے کیا چیز خریدنی ہے، کیا اوڑھنا ہے، کیا بچھونا ہے، کہاں جانا ہے، کہاں کی سیر کرنی ہے، کیا کھانا ہے، کیا پینا ہے۔۔۔ ہر بات میں چونکہ چوائس لامحدود ہے، سو فیصلہ بھی مشکل ہو گیا ہے۔ ایسے میں ساتواں سبق یہی ہے کہ اپنی زندگی کو سادہ رکھیں۔ مستقبل کے اَن دیکھے خوف کے عالم سے باہر نکلیں، غیب کا علم سوائے اللہ کے کسی کو نہیں، توہمات کو دماغ سے باہر نکال پھینکیں، اس دنیا میں کسی کے پاس کوئی ایسی گیدڑ سنگھی نہیں جو آپ کو ہمیشہ کے لیے تمام تفکرات سے نجات دلا دے، نام نہاد پیروں، فقیروں، بابوں، مجاوروں، درباروں، تعویذ گنڈوں سے کوئی کام نہیں نکلے گا، فقط آپ کا وقت اور پیسہ ضائع ہو گا، جتنی جلدی یہ بات سمجھ آئے گی، اتنی جلدی زندگی سہل ہو گی۔ اگر اِس بات کے سمجھنے میں دقت پیش آئے تو اُن لوگوں کی زندگیوں کا مشاہدہ کریں جو آپ کے دکھ درد کا علاج جادو ٹونے، عملیات اور تعویذ گنڈوں کے ذریعے کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں، جب یہ لوگ خود بیمار پڑتے ہیں تو کیا تعویذ اور وظیفوں سے اپنا علاج کرتے ہیں یا اسپتال میں جا کر دل میں اسٹنٹ ڈلواتے ہیں؟ اس سوال کا جواب تلاش کریں اور اپنی زندگی سے اَن دیکھے وہم اور خوف کو نکال باہر پھینکیں۔ لمحۂ موجود کا لطف اٹھائیں، کل کسی نے نہیں دیکھا اور ماضی کا آپ کچھ بگاڑ نہیں سکتے، لہٰذا خدا نے اگر موقع اور استطاعت دی ہے تو اُس کی خوبصورت دنیا دیکھیں، لوگوں سے ملیں، ان سے باتیں کریں، ہر انسان کے پاس کوئی نہ کوئی ایک ایسی خوبی ضرور ہوتی ہے جو آپ کے علم میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے، انسانوں سے اُن کی خوبیاں جاننے کی کوشش کریں۔ کتابیں پڑھیں، فلمیں دیکھیں، صحت مند خوراک کھائیں، خوشبو لگائیں، اچھا لباس پہنیں، اس کے لیے ضروری نہیں کہ آپ روزانہ نیا سوٹ بدلیں، دو سوٹوں، تین شرٹوں اور دس ٹائیوں کے ساتھ بھی آپ خوش لباسی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں، جو کپڑے آپ نے گزشتہ دو برس میں استعمال نہیں کیے انہیں ایک تھیلے میں سلیقے سے سمیٹ کر اُن لوگوں کو دیں جنہیں اِن کی ضرورت ہے۔ اپنے زندگی میں سے کچھ وقت رضاکارانہ کام کے لیے نکالیں، یہ وقت کسی اسکول میں بچوں کی تربیت پر صرف کیا جا سکتا ہے، کسی اسپتال میں مریض کی تیمارداری پر خرچ کیا جا سکتا ہے یا کسی بھی ایسے غیر منافع بخش کام میں جس سے فرد یا معاشرے کا بھلا ہو سکے۔

زندگی کو آسان اور سادہ ضرور رکھیں مگر ساتھ ہی دنیا کے بدلتے ہوئے رنگ ڈھنگ سے بھی آگہی رکھیں، وہ دور لد گیا جب ہمارے بابے متکبرانہ لاپروائی سے یہ کہہ کر ہمیں حیران کر دیتے تھے کہ میں موبائل فون استعمال نہیں کرتا۔ یہ دنیا ہماری سوچ سے بھی زیادہ تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، اس بدلتی دنیا میں روزانہ ہزاروں نئی چیزیں وجود میں آ رہی ہیں، زیادہ تر لوگوں کو اِس تبدیلی کا احساس نہیں، یہ لوگ اب بھی اسی دور میں جی رہے ہیں جس میں انٹرنیٹ پر خریداری کو فراڈ اور پرائیویسی (رازداری) کو خرافات سمجھا جاتا تھا۔ آج جو شخص زندگی کے ان جدید طور طریقوں سے واقفیت نہیں رکھے گا وہ نقصان اٹھائے گا، سادہ زندگی کا یہ مطلب نہیں کہ آ پ کسی سادھو کا لبادہ اوڑھ کر جنگلوں میں جا بسیں، سادہ اور پُرکیف زندگی اسی صورت ممکن ہے اگر آپ جدید رجحانات پر نظر رکھیں، نئی ایجادات سے فائدہ اٹھائیں اور اپنے آپ کو بدلتے ہوئے وقت کے مطابق ڈھال لیں۔ اس تیز رفتار زندگی میں میکانکی آلات (gadgets) کے بغیر زندہ رہنے کی کوشش کرنا ایسے ہی ہے جیسے کوئی بغیر آکسیجن کے کوہ ہمالیہ سر کرنے کی کوشش کرے، زندگی کو سادہ بنانا ہے، اذیت ناک نہیں۔

سادہ زندگی کا اصول یہ بھی ہے کہ اگر اللہ نے چار پیسے دیئے ہیں تو ان کا درست استعمال کریں اور اگر نہیں دیئے تو پیسے کمائیں کیونکہ پیسوں کے بغیر فی زمانہ سادہ زندگی کا تصور بھی ممکن نہیں چہ جائیکہ آسودہ زندگی کی خواہش کی جائے۔ پیسے ضرور کمائیں مگر مال و متاع کی ہوس نہ ہو، آسائشیں ضرور خریدیں مگر ان کے لیے اپنی (اور دوسروں کی) زندگی اجیرن نہ کریں، بالکل ہی مادہ پرست نہ ہو جائیں۔ غیر ضروری بکھیڑوں میں نہ الجھیں مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ حق سچ کا ساتھ نہ دیں، سادہ زندگی اور کسی ڈنگر کی زندگی میں فرق ہے، زندگی میں جن لوگوں کا کوئی نظریہ نہیں ہوتا، جن کے نزدیک اخلاقی اقدار کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی اور جن کی لغت میں حق اور انصاف کے معنی دولت اور طاقت ہوتے ہیں، اُن میں اور وحشی درندوں میں کوئی فرق نہیں ہوتا، ایسی زندگی گزارنے والوں سے پرے رہیں۔

کالم کی دُم:اس کالم کو گزشتہ اتوار شائع ہونے کالم ’’زندگی کے لیے سات مفت مشورے‘‘ کا پارٹ ٹو سمجھا جائے کیونکہ اُس کالم میں ساتواں سبق رہ گیا تھا جو آج بیان کر دیا گیا ہے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *