ڈاکٹر ز کا جمہوریت میں کردار

لاہور کے ڈاکٹرز کو آج کل کڑے امتحان کا سامنا کرنا پر رہا ہے۔ ان کو میاں نواز شریف کی ایک ایسی میڈیکل رپورٹ تشکیل دینی ہےجو سب کے لئے کابل قبول ہو ۔ اس سے پہلے بھی کئی ٹیموں نے اس کام کو سر انجامدینے کی کوشش کی تھی لیکن کوئی یہ پہاڑ سر نہ کرسکے  اورنا کامی سے دو چارہونا پڑا ۔ گزشتہ ٹیموں میں شامل تجربہ کار ڈاکٹرز بھی حتمی فیصلے تک نہ پہنچ سکے ۔اب تیسری مرتبہ یہ کام ایک نئی ٹیم کو سپردکر دیا گیا ہے جن میں چھے ایسے ماہر ڈاکٹرز شامل ہیں جن کا تعلق امراض دل کے مشہور اداروں سے ہے ۔ بروز بدھ، اس ٹیم نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کا طبی معائنہ کیا ہے اور امید ہے کہ جلد ہی یہ ٹیم حتمی رپورٹ جمع کروا دے گی-

میاں صاحب کی رپورٹ تیار کرنے کے لئےبنائی گئی ڈاکٹرز کی ٹیم تعداد کے حساب سےایک بہت بڑا بورڈ کہلایا جا رہا ہے ۔ اس ٹیم کی تشکیل ایک جمہوریت پسند فیصلہ نظر آرہا ہےتاکہ رپورٹ کی تشکیل کے دوران اگر کوئی مشکل مرحلہ آئے تو ماہرین کی بڑی تعداد کی مدد سے جلد ہی کوئی بہترین حل نکالا جا سکے۔

بظاھر یہ قیاس کیا جا رہا ہے کہ امراض قلب کے بڑے اداروں سے تعلق رکھنے والے مختلف ڈاکٹرز کو اس ٹیم میں اس لئے شامل کیا گیا ہے تا کہ نواز شریف کے اس اہم معاملے پر بورڈ آسانی سے حتمی فیصلے کا چناؤ کر سکے۔ پنجاب  کے وزیر اطلاعات نے اس بات کی یقین دہانی کروائی ہے کہ حکومت بورڈ کی تجویز کا خیر مقدم کرے گی ۔ انہوں نے اس بات کا اعلان کیا ہے کہ حکومت ماہرین کے فیصلے کو قبول کرے گی  چاہے اس فیصلے کی رو سے سابق وزیر اعظم کو ہسپتال میں داخل ہی کیوں نہ کروانا پڑے-

وزیرداخلہ پنجاب کا کہنا ہے کہ گورنمنٹ گزشتہ تشکیل دیے گئے طبی معائنوں کے دونوں بورڈ کی تجاویزپر عمل کرنے کو تیار تھے لیکن حالیہ تشکیل دی گئی تیسری اور بڑی ٹیم کی وجہ سے پرانی ٹیمیں بیکار ہوگئی ہیں۔ میڈیکل بورڈ کی ایمانداری پر شک کرنے کا کوئی جواز بنتا تو نہیں ہے لیکن حکومت کی جانب سے آنے والے کچھ غیر مناسب باتوں کی وجہ سے پیدا ہونے والے تنازعے سے پرہیز کرنے کے لئے تیسری میڈیکل ٹیم کی تشکیل لازمی تھی۔

یہ اب ایک ایسا معاملہ بن گیا ہے جو لاہور کے ناقدین کویہ کہنے پر مجبور کر رہا ہے کہ یہ مسئلہ کبھی بھی پوری طرح حل نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ معاملہ اس قدر پیچیدہ ہو گیا ہے کہ میڈیکل بورڈ بھی حل نہیں کر سکتے۔ مثال کے طور پر اس معاملہ پر ہونے والی سب سے بڑی بحث  پی۔ ٹی۔ آئی کے سپورٹرز کی جانب سے ہے کہ کیا میاں صاحب کو کوئی خاص میڈیکل  سہولیات فراہم کی جانی چاہیے کیونکہ وہ پاکستان کے تین مرتبہ وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔ پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد کے مطابق نواز شریف کے ساتھ بھی عام قیدیوں جیسا سلوک کرنا چاہیے ۔

اگر ذرا ایک لمحے کے لئے سوچئے کہ اگر ایک منسٹر نواز شریف کے حامیوں کواس خوشخبری سے آگاہ کرتا ہے کہ میڈیکل ٹیسٹ رپورٹ کے مطابق نواز شریف صحتمند  ہیں لیکن اسی لمحے یہ منسٹر کے لئے ایک مسئلہ بن جائے گا جب اسکو یہ معلوم ہوگا کہ نواز شریف کی ایک رپورٹ یا گیارہویں رپورٹ انہیں بیمار  قرار دیتی ہے۔ صرف پنجاب  کابینہ کے ممبر ہی اتنی احمق ہو سکتے ہیں جو دس رپورٹ پر یقین کرنے کی بجائے ایک رپورٹ پر یقین کر کے انکو بیمار قرار دے دیں اور طبی معائنے کے لئے ایک نئے بورڈ کی تشکیل دینے پر زور دیں۔

پہلے ہی اس معاملے پر متعلقہ حکام کو بےتحاشہ تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے کہ وہ میاں نواز شریف اور وزیراعلٰی میاں شہباز شریف کے معاملے پر نرم مزاجی سے کام لے رہے ہیں۔ دونوں کے مخالفین کا کہنا ہے کہ میاں بردران کے ساتھ عام قیدیوں جیسا ہی سلوک کرنا چاہیے اور ایسے تمام سہولیات کی ان پر پابندی ہونی چاہیے جو انہیں کسی بھی صورت عام قیدیوں سے برتربنائے۔ یہ ایک ایسا مطالبہ ہے جو گزشتہ قیدی سیاستدانوں کے ساتھ جیل میں ہونے والے اچھے اورعام قیدیوں سے برتر سلوک کی روایت کو توڑنے کے لئے ہے۔

اس کے ساتھ ایک اور غلط روایت یہ ہے کہ  ہمارے قانون ساز اسمبلی میں مل کر سپیکر کے فیصلوں کو تبدیل کرنے پر زور دیتے ہیں اور فیصلہ اپنی ہی مرضی کا کراتے ہیں۔ گزشتہ دنوں جب اہم پی۔ اےخواجہ سلمان رفیق کو اسمبلی لایا گیا توپنجاب اسمبلی کے اسپیکر چودھری پرویز الٰہی نے اسپیکر سے زیادہ ایک روایتی سیاستداں ہونے  کا  ثبوت دیتے ہوئے نہایت گرم جوشی کا مظاہرہ کیا۔

اسلام آباد میں بھی ایسی ہی روایت دیکھنے کو ملتی ہے جہاں شہباز شریف کو خاص دنوں پر جیل سے قومی اسمبلی لے کر جایا جاتا ہے۔ شہباز شریف اپنے حلقے سے ہزاروں ووٹ لینے کے باوجود اپنے مخالفین کی نفرت کا شکار ہیں۔

اسی طرح ایسے لوگ بھی ہیں  جو یہ کہتے ہیں کہ نواز شریف اور شہباز شریف کوکوئی خصوصی سہولیات انکے میڈیکل ٹریٹمنٹ میں مہیا نہ کی جائیں۔  شریف بردران کے ان مخالفین کی خواہش ہے کہ دونوں برادران کو ان کی ماضی کی غلطیوں کی سزا ضرور ملے اور وہ یہ بات نہیں سمجھتے کہ مخالفین کے کسی رکن سے اچھے رویے سے پیش آنے سے وہ ان سب دلوں کو جیت سکتے ہیں جو مخالفین کے حامی ہیں۔

ناقدین اپنے مخالفین کے لئے غصے کا اظہار کرتے ہوئے  کسی چیز کا لحاظ نہیں رکھتے جیسے ان کی اس تنقیدنگاری سے شاید ان کے غصے میں کمی آجاتی ہو۔ ناقدین اس بات پر یقین رکھتے ہیں  کہ شریف بردران کے معاملے میں کوئی  رعایت برتنا انکے اپنے موقف کو مضبوط کرنے کے مترادف ہوگا۔ یہ ایسے لوگ ہیں جو رحم دلی کے باعث عوامی خدمت کے معیار میں کمی نہیں چاہتے۔  اس اچھائی کی امید ایسے ممبران سے کرنا  جو ہر فیصلے کے خلاف بے تحاشہ شوروغل مچاتے ہیں اور مجرموں کو اپنے ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے پتھروں سے سزا دینے کے لئے تیار ہیں ، آسمان سے تارے توڑ لانے کی خواہش کے مترادف ہو گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *