ہمارے قومی اخلاق کا دامن صد چاک

جوانی میں جوالا مکھی کی کیفیت تو ہوتی ہے۔ یہ حادثہ درویش بے نشاں پر بھی گزرا۔ حالات کی کچھ بے مہر گردشوں کے باعث جوار بھاٹے میں ایسی غیر معمولی تند و تیز لہریں اٹھیں کہ کشتی اگر غرق آب نہیں ہوئی تو اسے محض اتفاق ہی کہنا چاہیے۔ معاشرے میں فرد سے زیادہ قوت ہوتی ہے۔ ہمہ وقت تلوار علم کئے رہنا جلد یا بدیر حادثے پر منتج ہوتا ہے۔ دریا کی روانی کو اس سے کیا غرض کہ کون سی لہر کنارے تک پہنچی اور کون سی موج منجدھار میں اتر گئی۔ مڑ کے دیکھتا ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ کسی گیانی کی یہ بات اچھے وقت میں سمجھ آئی کہ غصہ حتمی نتیجے میں ہمیشہ ناکام رہتا ہے بلکہ اکثر بے معنی مضحک کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ عمر رواں کے تختے پر بار الم اٹھایا، کچھ رنگ نشاط دیکھا تو ایذرا پاؤنڈ کے اس کاٹ دار قول کا کیف و کم سمجھ آ گیا جو لاعلمی، کم مائیگی اور بے ہنری کے باوجود پہاڑ سے ٹکرا جانے پر اکساتا تھا۔

I have never known anyone worth a damn who wasn't irascible.

ایذرا پاؤنڈ بلاشبہ عبقری تھا مگر بونوں کی دنیا نے اسے پاگل خانے پہنچا دیا۔ ہمارے دیس میں بھی منٹو کو پاگل خانے کی یاترا کرنا پڑی۔ ذہین اور فطین بھٹو پھانسی چڑھ گیا، اوکاڑے، چکوال اور سانگھڑ کے بالشتیے حقے کا دھواں اڑاتے رہے۔ ماڈل ٹاؤن لاہور کا بیرسٹر پہلو بدل بدل کے پائپ پیتا رہا، مگر معنی کی ڈور الجھ گئی تھی، پھر اس کا سرا ہاتھ نہیں آیا۔ امریکہ کے کسی مضافاتی قصبے میں وعدہ معاف گواہ مسعود محمود نے آخری سانس لی تو کسی اخبار میں ایک کالمی خبر تک شائع نہ ہوئی۔ سو طے یہ پایا کہ اپنی حدود کی پہچان کے جائے، نعرے کی بلند آہنگی کو تفہیم کی کم آمیزی سے معتدل کیا جائے۔ انکار کی قطعیت میں تشکیک کا بدرقہ ہمراہ لیا جائے۔ فنا کا لمحہ تو بہرصورت طے ہے، وجود کی پیالی کو تلخ کرنے سے حاصل؟ اپنی رائے قائم بھی کی جائے، اسے بیان بھی کیا جائے لیکن دوسروں کی دل آزاری ضروری نہیں۔ آج خلاف معمول صیغہ متکلم میں یہ قصہ اس لئے چھیڑا کہ حالیہ دنوں میں کچھ ایسے مشاہدات ہوئے کہ احتیاط کا پردہ چاک ہونے کا اندیشہ پیدا ہو گیا۔ اس کا تعلق اپنی ذات سے نہیں، وطن عزیز کے اجتماعی ارتقا سے ہے، سو بیان کرنا ضروری ٹھہرا۔

پاکستان آزادی کے آٹھویں عشرے میں داخل ہو چکا۔ سرکاری اہلکاروں کی پابند حکم حاشیہ آرائی اور مفید مطلب اعداد و شمار کی بھول بھلیوں سے قطع نظر، حقیقت یہ ہے کہ ملک کا سیاسی، معاشی اور تمدنی امکان بروئے کار نہیں لایا جا سکا بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ اس کی امید بھی کم ہو رہی ہے۔ بابائے قوم نے اس ملک کو انسانیت کے لئے ایک قابلِ تقلید نمونہ بنانے کی غرض سے تجربہ گاہ قرار دیا تھا۔ ہم نے اس تعداد میں اور ایسے نو بہ نو تجربے کئے کہ دیکھنے والوں نے کانوں پر ہاتھ رکھ لئے۔ اور تو اور، بلادِ مصر سے آواز سنائی دی کہ ہمیں خود کو پاکستان نہیں بنانا۔ ہمسایہ ملک ترکی میں دہشت گردی کے چند واقعات ہوئے تو اہلِ دانش نے سوال اٹھایا کہ کیا ہمارے ملک میں پاکستان جیسے معاملات دہرائے جائیں گے؟ سیاسی جدوجہد سے آزاد ہونے والے ملک میں سیاست کا لفظ گالی قرار پایا ہے۔

22 کروڑ نفوس میں سے ہر ایک بزعم خود پاک داماں ہے۔ باقی سب بدعنوان ہیں۔ ساری قوم نااہل ہے۔ اہلیت کی خلعت صرف اسے زیبا ہے جو بزورِ بازو اپنی رائے مسلط کرنے کی قوت رکھتا ہے۔ حکومتوں کے آئینی اور قانونی جواز کے تزلزل کی تاریخ اتنی طویل ہو گئی کہ ’اے صبا ایں ہمہ آوردہ تست‘ کہنے کا بھی یارا نہیں۔ معیشت کو لیجئے۔ جنوبی ایشیا کے گرے پڑے ممالک ہم سے آگے نکل گئے۔ ہم دائیں بائیں سے ملنے والی خیرات پر شادمانی کے ڈھول پیٹ رہے ہیں۔ ابتدائی طبی امداد کو علاج سمجھتے ہیں۔ مصنوعات کی فکر کب کریں گے۔ کچھ بنائیں گے تو برآمد کریں گے۔ زراعت کی حالت یہ کہ ہل چلانے والا بے یار و مددگار ہے اور کاشتکار کا استحصال کرنے والے جاگیرداری کے خلاف نعرہ زن ہیں۔ داد دیتا ہوں تری بے سر و سامانی کی۔ کسی کو توفیق نہیں کہ یہ تو معلوم کر لے کہ پچھلے 72برس میں جاگیریں کسے بخشی گئی ہیں؟ گندم، چاول، گنے اور کپاس میں فی ایکڑ پیداوار کے اشاریے کیا ہیں؟ قابلِ کاشت زمینوں پر رہائشی بستیاں کس نے بسائی ہیں؟ آئین میں تین ادارے قائم کر کے اختیارات کی تقسیم کا اصول طے کیا گیا تھا۔ اس اصول کی پامالی تو خیر مقسوم ٹھہری، نئے پاکستان کے نورتنوں نے ادارے کا مفہوم ہی بدل ڈالا۔ سطح مرتفع کے ٹیلوں سے جو اترتا ہے، باون گز کا راون قرار پاتا ہے۔

ایک آزاد ملک کی محترم ترین اکائی وہاں کا شہری ہوتا ہے۔ ہمارا شہری صاف پانی، متوازن خوراک، مناسب لباس، سر پر چھت اور روزگار سے محروم ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ آواز اٹھانے کے حق سے محروم ہے۔ یکساں تعلیم کا غلغلہ ہے، تعلیم کے معیار کی یہ حالت کہ علم کے نقشے پر کہیں ہمارا نشان نہیں۔ ریاست تعلیم کی فراہمی کی آئینی ضمانت کے باوجود تعلیم کا بندوبست کرنے سے صاف انکاری ہے اور جنہیں تعلیم یافتہ ہونے کا غرہ ہے، ان کی تہذیب کا یہ عالم ہے کہ درویش نے ایک مدت سے سماجی رابطے کی ویب سائٹس از قسم فیس بک، ٹویٹر وغیرہ پر نظر ڈالنا چھوڑ دیا ہے۔ جس کو ہو دین و دل عزیز، اس کی گلی میں جائے کیوں۔ چالیس برس پہلے تعلیم کے نام پر تلقین کا جو چلن اختیار کیا تھا، اب اس پر برگ و بار آ رہا ہے۔ اجتماعی مکالمے میں گالی دشنام کے سوا کچھ سنائی نہیں دیتا۔ تُو تڑاخ کی مدد سے پاکی داماں کی حکایت بیان کی جاتی ہے۔ اس فکری بدرو کی عفونت بتائے دیتی ہے کہ قوم کا اخلاقی اسقاط ہو چکا۔ صاحبان! بھلے آپ کو ناگوار ہو، لیکن عرض ہے کہ اس ملک کا شہری اپنے استحقاق، احترام اور حقوق سے محروم ہو چکا ہے۔ قانون کی بالادستی کا ایک نشان راؤ انوار ہے جو ریٹائر ہو چکا ہے۔ ایک علامت عابد باکسر ہے جو ضمانت پر آزاد ہے۔ آرٹیکل چھ کا ایک ملزم بیرونِ ملک مقیم ہے۔ ساہیوال کے چار مقتول نذرِ خاک ہو چکے۔ خیرپور کی رمشہ وسان اپنی غربت کا تاوان ادا کر چکی۔ جمہوری قیادت کے جوان سال اور تعلیم یافتہ دعوے دار بلاول بھٹو کو توفیق نہیں کہ ایک جملہ اجتماعی بے غیرتی کی بھینٹ چڑھنے والی بچیوں کے حق میں ادا کرے۔ ملک کے طول و عرض میں جو ہو رہا ہے اس کی خبر حکمرانوں کو ٹیلی وژن سے موصول ہوتی ہے لیکن ٹھسہ یہ کہ ووٹ لے کر حکومت بنانے والے ناک سکوڑ کے جمہوریت کا لفظ ادا کرتے ہیں۔ شنید ہے کہ احتساب کا ادارہ ہماری اخلاقی تطہیر کرے گا۔ غالباً یہ ادارہ اپنی اُس خدمت کا بھی جائزہ لے گا جو اس نے 2002ء میں احتساب کے نام پر انجام دی تھی۔ پولیس کا کلچر بدلنے کے دعوے داروں کو نوید ہو کہ پنجاب کی سڑکوں پر غریب شہری سرعام بے لباس کر کے تشدد کا نشانہ بنائے جا رہے ہیں۔ جمہور کی بے توقیری پر قائم حکومت قوم کی ایسی جامع بے حرمتی ہے جس میں کسی فرد کا وقار قائم نہیں رہتا، کسی ادارے کی ساکھ باقی نہیں رہتی اور کسی اخلاقی اصول کا اعتبار سلامت نہیں رہتا۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *