کیاامریکہ میں عیسائیوں کی شرح میں کمی سے ری پبلکن پارٹی کوصدمہ ہو گا؟

US chart امریکہ کے مذہبی خدوخال میں ایک ڈارامائی تبدیلی عمل پذیر ہے۔ایک نئے قومی سروے کے مطابق،امریکیوں کی وہ تعداد جو عیسائیوں کے طور پر جانی جاتی ہے، کم ہو گئی ہے ۔ جب کہ ان کی شرح، جن کا کوئی مذہب نہیں ہے، ڈرامائی طور پر بڑھ گئی ہے۔ اس مسئلے نے کچھ لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آبادیاتی اعدادوشمار میں یہ تبدیلی، سیاسی خدوخال کو بھی متاثر کرے گی۔
مذہبی طور پر غیروابستہ امریکیوں کی تعداد میں تقریباً56ملین تک اضافہ ہو چکا ہے۔ یہ تعداد کیتھولکس اور مرکزی دھارے میں موجود پروٹیس ٹینٹس کی تعداد سے بھی زیادہ ہے اور ایونجلیکل پروٹیس ٹینٹس کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔
اس صورتحال کو، پیو ریسرچ سینٹر کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، ’’امریکہ کے بدلتے ہوئے مذہبی خدوخال ‘‘ قرار دیا گیا ہے جو کہ ایک بدلتی ہوئی مذہبی ساخت کی نشاندہی کرتے ہیں جو شایدامریکی سیاست، ثقافت اور معاشرے پر نمایاں اثرات مرتب کریں گے۔
ہر چند کہ امریکیوں کی اکثریت۔۔ تقریباً ہر10میں سے7۔۔ خود کو عیسائیت کی کسی نہ کسی شاخ سے وابستہ کرنا جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مگران کی شرح جو خود کوعیسائی قرار دیتے ہیں،8فیصد تک کم ہو گئی ہے۔ پیو کے سروے کے مطابق، 2007ء میں امریکہ میں 78فیصد عیسائی تھے جب کہ 2014ء میں یہ شرح کم ہو کر صرف 70فیصد رہ گئی۔
ٹائمز میگزین کا کہنا ہے، ’’سفید فام عیسائیوں کی آبادی کی شرح میں کمی، روایتی ری پبلکن اتحاد کیلئے ایک معقول دستاویزی چیلنج ہے لیکن گرینڈ اولڈ پارٹی(ری پبلکن) کو درپیش آبادی کے اعدادوشمارمیں تبدیلی کے چیلنج کی مذہبی ساخت کو اب تک کم اہمیت دی گئی ہے۔‘‘
البرٹ کالج کے شعبہ سیاسیات کے اسسٹنٹ پروفیسر، جوشو وکرٹ نے ’’ٹائمز‘‘ کو ایک ای میل کے ذریعے بتایا، ’’یہ ایک ایسا خطر ہ ہے جو شاید ابھی ری پبلکن پارٹی پر نمایاں اثرات مرتب نہ کرے لیکن شاید مستقبل میں بہت سے شدیدپیچیدہ اور غیرمتوقع نتائج سامنے آئیں گے۔‘‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *