جب جگجیت سنگھ کے سُر پر مشرف نے طبلہ بجایا

جگجیت سنگھ

جگجیت سنگھ کی کالج کے دنوں کی تصویر (پیچھے دائیں پگڑی میں)

جلندھر کا ڈی اے وی کالج ان دنوں ٹاؤن شپ کے باہر ہوا کرتا تھا اور اس کا نیا ہاسٹل کالج کے سامنے کی سڑک کے اس پار تھا۔

جگجیت سنگھ اسی ہاسٹل میں رہتے تھے۔ لڑکے ان کے آس پاس کے کمروں میں رہنا پسند نہیں کرتے تھے کیونکہ جگجیت سنگھ صبح پانچ بجے اٹھ کر دو گھنٹے ریاض کرتے تھے۔

وہ نہ خود سوتے تھے نہ بغل میں رہنے والے لڑکوں کو سونے دیتے تھے۔ بہت کم لوگوں کو پتہ ہے کہ ان ہی دنوں آل انڈیا ریڈیو کے جلندھر سٹیشن نے انھیں نیم کلاسیکی گلوکاری میں فیل کر دیا تھا۔

ہاں کلاسیکی گلوکاری میں انھیں بی گریڈ کے گلوکار کا درجہ دیا گیا۔

ایک بار مشہور فلم ہدایت کار سبھاش گھائی اور جگجیت سنگھ اپنی اپنی یونیورسٹیوں کی طرف سے ایک انٹر سٹیٹ یونیورسٹی یوتھ فیسٹول میں حصہ لینے کے لیے بینگلور گئے تھے۔

جگجیت سنگھ پر کتاب لکھنے والی ستیا سرن کہتی ہیں، ’سبھاش گھائی نے مجھے بتایا کہ رات کے 11 بج گئے تھے جب جگجیت کا نمبر آیا۔ جب سٹیج پر اعلان ہوا کہ اب پنجاب یونیورسٹی کے ایک طالب علم کلاسیکی گانا گائیں گے، تو وہاں موجود لوگ زور سے ہنس پڑے۔ ان کی نظر میں پنجاب تو بھنگڑے کے لیے مشہور تھا۔‘

جگجیت سنگھ

جگجیت سنگھ نے کلاسیکی موسیقی کی تعلیم حاصل کی تھی

ستیا سرن کو سبھاش گھائی نے بتایا، ’جیسے ہی وہ سٹیج پر آئے تو لوگ سیٹی بجانے لگے۔ میں سوچ رہا تھا کہ وہ بری طرح سے فلاپ ہونے والے ہیں۔ انھوں نے شدید شور کے درمیان آنکھ بند کر کے آلاپ شروع کیا۔ 30 سیکنڈ کے بعد وہ گانے لگے۔ آہستہ آہستہ جیسے جادو چھا گیا۔ وہاں موجود لوگ کلاسیکی موسیقی سمجھتے تھے۔ جلد ہی تالیوں کی آواز آنے لگی، پہلے تھم تھم کر اور پھر پورے جوش سے!

’جب انھوں نے گانا ختم کیا تو اتنی زور سے تالیاں بجیں کہ میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔‘ وہاں جگجیت سنگھ کو پہلا انعام ملا۔‘

1965 میں جگجیت سنگھ ممبئی پہنچے، جہاں ان کی ملاقات اس وقت کی ابھرتی گلوکارہ چترا سنگھ سے ہوئی۔

جگجیت اور چترا سنگھ

جگجیت اور چترا سنگھ

جگجیت سنگھ

چترا سنگھ کہتی ہیں ’جب میں نے پہلی بار جگجیت کو اپنی بالکونی سے دیکھا تھا تو وہ اتنی ٹائٹ پینٹ پہنے ہوئے تھے کہ ان سے چلا بھی نہیں جا رہا تھا۔ وہ میرے پڑوس میں گانے کے لیے آئے تھے۔ میری پڑوسن نے مجھ سے کہا کہ موسیقی سنو گی؟ کیا گاتا ہے! کیا آواز پائی ہے!‘

وہ کہتی ہیں ’لیکن جب میں نے پہلی بار انھیں سنا تو وہ مجھے قطعی اچھے نہیں لگے۔ میں نے ایک منٹ بعد ہی ٹیپ بند کر دینے کو کہا۔‘

دو سال بعد جگجیت اور چترا اتفاقاً ایک ہی سٹوڈیو میں گانا ریکارڈ کرا رہے تھے۔

چترا بتاتی ہیں ’ریکارڈنگ کے بعد میں نے انھیں اپنی کار میں لفٹ دینے کی پیشکش کی، صرف تکلف میں کہا کہ میرا ڈرائیور مجھے ڈراپ کرنے کے بعد آپ کو گھر چھوڑ دے گا۔‘

’جب میرا گھر آ گیا تو میں نے پھر تکلف میں انھیں چائے پینے کے لیے کہا۔ میں کچن میں چائے بنانے چلی گئی۔ تبھی میں نے ڈرائنگ روم میں ہارمونیئم کی آواز سنی۔ دھواں سا اٹھ رہا تھا! اس دن سے میں ان کی موسیقی کی قائل ہو گئی۔‘

پاکستان پہنچنے پر جگجیت سنگھ اور چترا سنگھ کا پرجوش استقبال ہوا

پاکستان پہنچنے پر جگجیت سنگھ اور چترا سنگھ کا پرجوش استقبال ہوا

آہستہ آہستہ چترا سنگھ کے ساتھ ان کی دوستی بڑھی اور دونوں نے ایک ساتھ گانا شروع کیا۔ جگجیت سنگھ نے ہی چترا کو سُر سادھنا، تلفظ اور اتار چڑھاؤ کا فن سکھایا۔

جگجیت اور چترا سنگھ

جس ریکارڈ نے جگجیت سنگھ کی پہچان پورے ملک میں بنائی وہ تھا، ’دی ان فوگیٹیبل‘۔

جگجیت سنگھ کے چھوٹے بھائی کرتار سنگھ کہتے ہیں کہ اس کامیابی کی وجہ موسیقی اور نظموں کا انتخاب تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ جگجیت سنگھ مغربی آلات کے ساتھ سٹیریو فونک ریکارڈنگ کے ذریعے غزل کو نئے دور میں لائے۔

بی بی سی سٹوڈیو میں نامہ نگار ریحان فضل کے ہمراہ جنگجیت سنگھ کے بھائی کرتار سنگھ

بی بی سی سٹوڈیو میں نامہ نگار ریحان فضل کے ہمراہ جنگجیت سنگھ کے بھائی کرتار سنگھ

1979 میں ان کا ریکارڈ ’کم الائیو‘ آیا۔ اس میں کئی نئی چیزیں تھیں۔ جیسے کنسرٹ کی لائیو ریکارڈنگ، غزل سناتے سناتے جگجیت سنگھ کا سننے والوں سے بات چیت کرنا، اور کبھی کبھی لطیفے سنانا۔

کرتار سنگھ کہتے ہیں کہ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے مداحوں کے ساتھ رابطہ قائم کرنا چاہتے تھے اور انھیں ساتھ لے کر چلنا چاہتے تھے۔

جگجیت سنگھ اور چترا سنگھ

مہدی حسن کے ساتھ جگجیت سنگھ اور چترا سنگھ

چترا سنگھ کہتی ہیں کہ وہ لطیفے اس لیے سنایا کرتے تھے تاکہ سازندوں کو تھوڑا آرام مل جائے۔

شاعر اور فلم ساز گلزار کے ٹی وی سیریل ’مرزا غالب‘ سے بھی جگجیت سنگھ کا بہت نام ہوا۔

طلعت محمود، بیگم اختر، مہدی حسن، لتا منگیشکر اور ثریا جیسے گلوکار سب غالب کا کلام گا چکے تھے، ایسے میں جگجیت سنگھ کو ان سب سے الگ ہونا تھا۔ اس ایلبم کے ساتھ جگجیت سنگھ نے تاریخ بنا دی۔

جگجیت سنگھ اور گلزار

شاعر اور فلم ساز گلزار کے ٹی وی سیرئیل 'مرزا غالب' سے بھی جگجیت سنگھ کا بہت نام ہوا

ستیا سرن کہتی ہیں ’گلزار اور جگجیت دونوں قابل، تخلیقی اور جینیئس۔۔ لیکن دونوں میں تھوڑا مقابلہ بھی رہتا تھا لیکن ساتھ ہی ایک ہم آہنگی بھی تھی۔ گلزار چاہتے تھے کہ کوئی ایسا ساز استعمال نہ ہو جو غالب کے دور میں نہیں تھا۔ جگجیت اس سے خوش نہیں تھے۔ لیکن گلزار اپنی بات پر قائم رہے اور آخر میں ان ہی کی چلی۔‘

1999 میں جب جگجیت سنگھ پاکستان گئے تو وہ اس وقت پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کے گھر بھی گئے۔ وہاں دونوں نے ساتھ ساتھ پنجابی گانے گائے اور مشرف نے ان کے ساتھ طبلہ بھی بجایا۔

جنرل پرویز مشرف

میں جگجیت سنگھ پرویز مشرف کے گھر بھی گئے

کرتار سنگھ کہتے ہیں، ’ایک بار جب جگجیت اسلام آباد سے دلی آ رہے تھے تو ہوائی جہاز کے عملے نے ڈھائی گھنٹے تک جہاز کو ہوا میں رکھا تاکہ انھیں جگجیت کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارنے کا موقع مل سکے۔‘

جگجیت سنگھ ہر دو سال بعد ایک ایلبم ریلیز کرنا پسند کرتے تھے کیونکہ ان کے خیال میں سننے والوں کو تھوڑا انتظار کروانا چاہیے۔

جگجیت سنگھ کے ریکارڈِسٹ دمن سود کہتے ہیں ’ان کی سگریٹ پینے کی عادت کی وجہ سے ان سے میری اکثر بحث ہوتی تھی۔ وہ گلزار اور طلعت محمود کی مثال دے کر مجھے یہ سمجھانے کی کوشش کرتے تھے کہ سگریٹ پینے کی وجہ سے ان کی آواز میں ایک خاص طرح کی گہرائی پیدا ہو جائے گی۔‘

جگجیت سنگھ اپنے بچوں کے ساتھ

جگجیت سنگھ اپنے بچوں کے ساتھ

جب انھیں پہلی بار دل کا دورہ پڑا تو انھیں مجبوراً سگریٹ چھوڑنی پڑی۔ ساتھ ہی اپنے گلے کو گرم کرنے کے لیے سٹیل کی گلاس میں تھوڑی سی رم پینے کی عادت بھی چھوڑنی پڑی۔

جاوید اختر نے جگجیت سنگھ کے بارے میں کہا تھا کہ ’وہ غزل گلوکاری میں برصغیر کے آخری ستون تھے۔ ان کی آواز میں ایک قرار تھا۔‘

پہلی بار جاوید اختر نے جگجیت سنگھ کو امیتابھ بچن کے گھر پر سنا تھا۔ اس ریکارڈ کی پہلی ہی نظم تھی، ’بات نکلے گی تو دور تلک جائے گی۔۔‘

بات نکلی، اور واقعی دور تک گئی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *