تبدیلی آ چکی ہے!

" عاصمہ شیرازی "

اس قدر حبس بڑھ گیا ہے کہ الامان۔۔۔

سانس رکتی ہے اور دم گھٹتا ہے۔

ہم جمہوریت میں زندہ ہیں اور آمریت سے بدتر ہیں۔ اوّل تو کوئی آواز نہیں نکلتی، نکلتی ہے تو گھونٹ دی جاتی ہے۔

کوئی بازگشت نہیں، کوئی پکار نہیں، کوئی صدا نہیں۔

یہ کیا ہوا ہے کہ تبدیلی کے خواب دکھا کر تعبیر چھینی جا رہی ہے، الزام، گالم گلوچ کا شور، بےشعور فکر اور لایعنی آوازیں۔ سوشل میڈیا پر لکھنے والوں پے قدغنیں،اخبار اور ٹیلی ویژن پر ذرا سی سوچ رکھنے والوں پر دروازے بند۔۔ بےشک سگ آزاد ہیں۔۔۔

پروفیسر ارمان لونی تشدد کے ذریعے مار دیے گئے، پروفیسر عمار جان کو سوال کرنے کے جرم میں اٹھا لیا گیا، گلالئی اسماعیل کا جرم آئین کی حدود میں رہ کر حقوق مانگنا ہو گیا۔ روز روز آتی بری خبریں یہ سوال کر رہی ہیں کہ ہم کس معاشرے میں زندہ ہیں۔

جمہوریت؟ ہاں۔۔۔ کہنے کو ایک پارلیمان ہے جس میں ’منتخب‘ لوگ بیٹھے ہیں۔ ملک میں دسیوں ٹی وی چینلز ہیں اور کئی نئے چینلز کے اجرا کی اطلاعات ہیں۔ آئین اطلاعات تک رسائی کی یقین دہانی کراتا ہے، انسانی حقوق کے تحفظ کی تنظیمیں بہتات میں موجود ہیں، سیاسی جماعتیں اپنے اپنے منشور لیے آئے روز نعرے لگاتی دکھائی دیتی ہیں۔

سول سوسائٹی اور شہری آزادی کی انجمنیں سیمینارز اور کانفرنسیں کرتی نہیں تھکتیں مگر؟ یہ جمہوریت ہے؟ بغیر آواز کے نعرے، بغیر سوچ کےافکار، بغیر عمل کے زندگی، بغیر مقصد کے منزل، بغیر فکر کے خیال۔

18ویں ترمیم میں تبدیلی آتی ہے یا نہیں، پارلیمنٹ موجود ہے یا نہیں، قانون سازی ہو رہی ہے یا نہیں، عدالتیں کام کر رہی ہیں یا نہیں، کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ’تبدیلی‘ لائی جا چکی ہے۔ کیا اب صرف ایک ہی قانون چلے گا؟ رات کے اندھیرے میں ہتھکڑیاں لگانے کا قانون؟ عدالت کی بجائے ’بند کمروں‘ کا قانون؟

کیا کروں نوحہ لکھنے کی عادی ہو چکی ہوں۔۔۔ سوچتی ہوں شکر ہے کہ ملک میں آمریت نہیں ہے جس میں سوچ پر پہرے بٹھائے جاتے تھے، جسموں پر تازیانے سجائے جاتے تھے، نہ جلوس نکالنے کی اجازت، تنظیم سازی اور پریشر گروپس بنانے پر پابندیاں! اب تو ایسا کچھ نہیں!

خود سے مکالمہ کر رہی ہوں۔ سوال، جواب بھی بس اندر ہی اندر ہیں، ایمان کے آخری درجے پر ہوں شاید۔

سب آزاد ہیں مگر کوئی آزاد نہیں، سب کے ہاتھ کھلے ہیں مگر پابند ہیں، لب آزاد، الفاظ قید، قلم دربار کا غلام، سوچ طاقتور کی اسیر، شاید ہم آئینی آمریت میں ہیں۔۔۔ آمروں سے لڑا جا سکتا ہے لیکن بےنامی مارشل لاؤں سے کوئی کیسے لڑے؟

بشکریہ بی بی سی اُردو

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *