منشیات کی دنیا کے 'گاڈ'فادر' ایل چاپو گوزمین مجرم قرار

میکسیکو میں منشیات فروشی کے ’گاڈ فادر‘ کہے جانے والے خواکین 'ایل چاپو' گوزمین کو نیویارک میں امریکہ کی وفاقی عدالت نے منشیات کی سمگلنگ کے مقدمے میں ان پر عائد تمام دس الزامات میں قصوروار قرار دے دیا ہے۔

61 سالہ گوزمین پر کوکین اور ہیروئین کی فروخت، غیر قانونی طور پر آتشیں اسلحہ رکھنے اور منی لانڈرنگ کے الزامات کے تحت فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔

ابھی انھیں سزا سنائی جانی باقی ہے اور ممکنہ طور پر یہ عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

گوزمین 2015 میں میکسیکو کی ایک جیل سے سرنگ کے ذریعے فرار ہونے میں کامیاب رہے تھے اور پانچ ماہ مفرور رہنے کے بعد جنوری 2016 میں انھیں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا تھا۔

اس کے بعد سنہ 2017 میں انھیں امریکہ منتقل کر دیا گیا تھا۔

گوزمین پر الزام ہے کہ وہ میکسیکو میں منشیات فروشی کے سب سے بڑے اور طاقتور گروہ سینالوا کارٹیل کی پشت پناہی کرتے تھے جو کہ امریکہ میں منشیات کی فراہمی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔

گوزمین

کمرہ عدالت میں کیا ہوا؟

بروکلین میں جیوری نے منگل کے روز اپنا متفقہ فیصلہ سنایا۔ یہ مقدمہ گیارہ ہفتوں تک چلا اور فیصلہ سننے کے لیے کمرہ عدالت کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔

سی بی ایس نیوز کے مطابق گوزمین نے گہرے رنگ کا سوٹ اور ٹائی پہن رکھی تھی اور ان کے چہرے پر بظاہر کسی قسم کے جذبات نہیں تھے۔

جب انھیں کمرۂ عدالت سے لے جایا گیا تو انھیں نے اپنے وکیل سے ہاتھ ملایا اپنی بیوی ایما کی جانب دیکھا جو سابق ملکۂ حسن ہیں۔

جج برین کوگان نے جیوری کا جانفشانی سے اس مشکل مقدمے پر کام کرنے کے لیے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ یادگار تھا اور انھیں امریکی ہونے پر فخر ہے۔

دوسری جانب گوزمین کے وکلا نے کہا ہے کہ وہ فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

'ایل چاپو'گوزمین کون ہیں؟

خواکین گوزمین 'ایل چاپو' ایک کسان خاندان میں سنہ 1957 میں پیدا ہوئے۔ وہ پوست اور گانجے کے کھیتوں میں کام کرتے تھے اور یہیں سے انھوں نے منشیات کی سمگلنگ کا ہنر سیکھا۔

اس کے بعد وہ 'دی گاڈ فادر' کے نام سے مشہور اور طاقتور گواڈالازارا کارٹیل کے سربراہ میگیل اینجل فیلکس کی شاگردی میں آئے اور ان سے اس کی باریکیاں سیکھیں۔

پانچ فٹ چھ انچ قامت کے گوزمین کو 'شارٹی' بھی کہا جاتا ہے۔

وہ سنہ 1980 کی دہائی میں شمال مغربی میکسیکو میں بااثر سینالوا کارٹیل کے سب سے اونچے مقام تک پہنچ گئے۔ اور یہ امریکہ میں منشیات کی سمگلنگ کرنے والا سب سے بڑا گروہ بن گیا۔

جبکہ سنہ 2009 میں فوربز میگزین نے دنیا کے امیر ترین افراد کی فہرست میں 701 نمبر پر گوزمین کو شامل کیا۔ اس وقت ان کی مجموعی دولت تقریباً ایک ارب ڈالر تھی۔

ایما

گوزمین کی اہلیہ ایما کورونل سابقہ ملکۂ حسن ہیں

مقدمے کے دوران کیا ہوا؟

مقدمے کی سماعت کے دوران گوزمین کے بارے میں انکشافات ہوئے۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق وہ 13 سال تک کی عمر کی لڑکیوں کو بھی ریپ کرتے تھے اور انھیں اس سے پہلے نشہ دیا جاتا تھا۔

کولمبیا میں منشیات کی سمگلنگ کرنے والے گوزمین کے سابقہ ساتھی ایلکس سائفیونٹس نے بیان میں بتایا کہ ’گوزمین کہتا ہے کہ مجھے نوعمر لڑکیوں کے ساتھ جنسی عمل سے زندگی ملتی ہے۔‘

ایک اور عینی شاہد نے بتایا کہ گوزمین نے کم ازکم تین افراد کو قتل کیا تھا۔

عدالت نے سنہ 2015 میں گوزمین کی جیل سے فرار کی تفصیلات بھی سنیں۔ ان کے بیٹوں نے جیل کے قریب ہی جائیداد خریدی اور پھر زیر زمین کھدائی کر کے اپنے والد کو فرار میں مدد دی۔ اس سرنگ سے گوزمین ایک چھوٹی موٹرسائیکل کے ذریعے فرار ہوئے۔

وہ ایک سافٹ ویئر کے ذریعے اپنی بیوی اور اپنے لیے موجود دیگر خواتین کی جاسوسی بھی کرتے تھے۔ اس کے ذریعے ایف بی آئی نے ان کے پیغامات کو عدالت میں پیش کیا۔

یہ مقدمہ اتنا اہم کیوں ہے؟

گوزمین کے خلاف چلنے والا یہ مقدمہ مریکہ میں اب تک منشیات کی سمگلنگ کے کاروبار میں ملوث سب سے اہم شخصیت کا مقدمہ ہے۔

اب تک امریکہ اور میکسیکو میں منشیات کے گروہوں کی لڑائیوں میں دس سال سے زیادہ کے عرصے کے دوران ایک لاکھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *