سفرِ ناتمام اورکُتب خانہ مکھڈ شریف کا تذکرہ

" شہزاد حسین بھٹی "

یہ ماہ فروری کا ایک خوبصورت چمچماتا دن تھا جب عزیز دوست شاعر ، ادیب و کالم نگار اقبال زرقاش کے ہمراہ دیرینہ دوست یونس خٹک کی دعوت پر ان کے ہمراہ چھب و مکھڈ شریف ، تحصیل و ضلع اٹک کے دورے پر نکلے۔مکھڈ شریف کی وجہ شہرت ہمارے ہاں مکھڈی حلوئے سے منسوب ہے۔ شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں اس حلوئے کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔ میرے لیے یہ دورہ اس لیے بھی اہم تھا کہ اس دورے میں ہم ایشیاء کے ایک قدیمی کتب خانے واقع مکھڈ شریف کا دورہ کرنے والے تھے۔ سفر اگرچہ دُشوار گزار تھا لیکن ہم تین گھنٹوں میں چھب کے نواحی گاؤں نکہ افغاناں پہنچے جہاں ہمیں میزبان یونس خٹک سب سے پہلے شہید "بی بی رابعہ جان "کے مزار پر لے گئے جن کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ جنگ آزادی1857ء میں انگریز فوج سے مقابلہ کرتے ہوئے اس مقام پر زمین میں روپوش ہوگئی تھیں۔یہی باتیں ہمیں وہاں ملنے والے اکثر لوگوں نے بھی سنائیں اور یہ بھی بتایا گیا کہ یہاں لوگوں کی منتیں اور مرادیں بھی پوری ہوتی ہیں۔
دُعا خوانی کے بعد ہم مکھڈ شریف کی جانب بڑھے۔ مکھڈ شریف کی اہم روحانی، علمی و ادبی شخصیت صاحبزادہ پروفیسر ڈاکڑ ساجد نظامی معلم بین القوامی اسلامی یورنیورسٹی اسلام آباد کو یونین کونسل مکھڈ کے چیرمین اقبال خٹک نے ہماری آمد سے آگاہ کر دیا تھا ۔ یہی وجہ تھی کہ جب ہم نکہ افغاناں گاؤں سے مکھڈ شریف پہنچے تو پروفیسر ڈاکڑ ساجد نظامی "کتب خانہ محمد علیؒ مکھڈی "پر ہمارے منتظر تھے۔ ساجد نظامی بہت ہی ملنسار، شفیق اور دھیمے مزاج کے مالک نظر آئے۔ کتب خانہ پہنچنے پر انہوں نے ہمارا پُرتپاک استقبال کیا اور خوش آمدید کہا۔چائے اور بسکٹ سے تواضع کے ساتھ رہنے کی بھی ہدایت کی لیکن بوجہ قلیل وقت پھر کبھی آنے پر اکتفا کیا۔
کتب خانہ محمد علی شاہ ؒ مکھڈی کے نام کے ساتھ لازم و ملزوم ہے۔ آپ نے حضرت پیر پٹھان شاہ محمد سلیمان تونسوی ؒ سے بیت و خلافت کے بعد1800ء میں جب مکھڈ شریف میں چشتیہ نظامیہ خانقا ہ کی بنیاد رکھی تو اسکے ساتھ کتب خانہ کی بھی بنیاد رکھی۔آج اس کتب خانہ کو "کتب خانہ محمد علی ؒ مکھڈی"کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔اس کتب خانہ میں ہزاروں کتب مختلف علوم پر موجود ہیں جو آج بھی اس دور کی عظمت رفتہ کی یاد دلاتی ہیں۔مولانا کے قطب خانے میں تفسیر، حدیث ، سیرت ، فقہ ، تصوف، تاریخ ، فقہ، ادب ، منطق، اصول تفسیر، اصول حدیث،اصول فقہ، نحوو صرف،میراث، طب اور دیگر علوم پر سینکڑوں کتب موجود ہیں۔ ایشیاء کے اس قدیمی کتب خانے کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ اس میں مخطوطات کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو عربی، فارسی اور پنجابی زبان کے مختلف علوم پر مشتمل ہے اور ان مخطوطات میں کئی مخطوطات ایسے بھی ہیں جن کا دوسرا نسخہ دنیا کے کسی اور کتب خانے میں دستیاب نہیں ہے۔ اس کتب خانے میں مخطوطات، مطبوعات اور رسائل کی تعداد 15,000 سے زائد ہے۔
ڈاکٹر ساجد نظامی نے کتب خانے کے دورے کے دوران ہماری معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے بتایا کہ مولانا کے محمد علی شاہؒ ؒ کے وصال(1253 ھ /1837ء )کے بعد آپؒ کے سجادگان نے اس کتب خانے کو مزید وسعت دی۔ کابل ، سمرقند و بخارہ تک سے مخطوطات منگوا کر اس کتب خانے کو مزین کیا۔آج یہ کتب خانہ ملک پاکستان کے عظیم کتب خانوں میں شمار ہوتا ہے جہاں تشنگانِ علم کی پیاس کا ساماں موجود ہے۔
مکھڈ شریف کی آبادی چھبیس ہزار نفوس پر مشتمل ہے لیکن زندگی کی بنیادی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔اقبال خان خٹک، چیرمین یونین کونسل مکھڈ شریف ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیںیہی وجہ ہے کہ وہ اہل علاقہ کے مسائل کا بخوبی درد رکھتے ہیں اور ان کو حل کرنے کے لیے ہمہ وقت بھاگ دوڑ کرتے رہتے ہیں۔خانقاہ شریف سے واپسی پران سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے چند بنیادی مسائل کا تذکرہ کیا جو کہ حل نہ ہونے کی وجہ سے علاقہ کی عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔انہوں نے بتایا کہ یونین کونسل مکھڈ اور انجراء میں کوئی زچہ و بچہ سینڑ نہیں ہے جسکی وجہ سے زچگی کے دوران اکثر خواتین کو چالیس کلومیڑ کا فاصلہ طے کر کے تحصیل ہیڈ کوارٹر جنڈ جانا پڑتا ہے اور بعض اوقات پیچیدہ صورت حال کے پیش نظر کئی خواتین ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ دیتی ہیں۔علاقے کی پسماندگی کا یہ عالم ہے کہ اکیسویں صدی میں بھی یونین کونسل مکھڈ اور انجراء میں کوئی لڑکیوں کے لیے کالج نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ اکثر بچیاں تعلیم کو خیر آباد کہہ رہی ہیں۔فنڈز کی کمی کی وجہ سے روڈ و دیگر سہولیات کی شدید کمی ہے۔ گیس نہ ہونے کی وجہ سے درختوں کی کٹائی عروج پر ہے۔ یہ وہ بنیادی مسائل ہیں جو اٹک کے دور دراز علاقوں کو درپیش ہیں اور ان کے حل کے لیے کوئی عوامی نمائیندہ سنجیدہ دیکھائی نہیں دیتا۔
مکھڈ شریف ایک تاریخی قصبہ ہے جو تشنگان علم کے لیے ایک عظیم درس گاہ کا درجہ رکھتا تھا ۔آج سے کم وبیش ایک سو بیس سال قبل اس علاقے میں تحصیل علم کے لیے طلباء ہندستان کے دور دراز علاقوں سے یہاں آتے تھے۔ یہاں نمک اور دیگر اجناس کی منڈیاں لگتی تھیں اور تاجر اپنا مال اُونٹوں پر لادکر یہاں بیچنے کے لیے لاتے تھے۔آج بھی دریائے سندھ کے دونوں ا طراف آباد باسی روزانہ کشیتوں پر ایک کنارے سے دوسرے کنارے پرسفر کرنے پر مجبور ہیں ۔ دریائے سند ھ کے کنارے آباد مکھڈ شریف کی دوسری جانب خیببر پختونخواہ کا علاقہ شکردرہ کوہاٹ ہے اگر اس دریائے سندھ پر پل تعمیر کر دیا جائے تو مکھڈ شریف کا رابطہ ملک کے دیگر اضلاع سے بھی ہو سکتا ہے اور اس علاقے کی تاریخی اہمیت، ترقی اور سیر و سیاحت کو فروغ دیا جا سکتا ہے کیونکہ یہاں تاریخی عمارات بھی موجود ہیں جن میں ہندؤں کا ایک قدیمی مندردیکھائی دیتا ہے جو کہ محکمہ اوقاف کی لاپرواہی کی منظر کشی کرتا ہو ا نظر آتا ہے۔اس کے علاوہ بھی یہاں قدیم عمارتیں اپنے عہدرفتہ کی داستاں سناتی ہوئی دیکھائی دیتی ہیں مگر مناسب دیکھ بھال کے فقدان سے لگتا ہے کہ یہ تاریخی عمارتیں جلد اپنی شناخت کھو دیں گی۔ اس سلسلے میں مقامی سیاسی راہنماؤں کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس تاریخی ورثے کو فوری طور پر محفوظ بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں تاکہ مکھڈ شریف کی تاریخی ، علمی و روحانی اہمیت برقرار رہ سکے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *