مس یونیورس کے لباس پر تنازع

آسٹریلین نژاد فلپائن کی ماڈل و ٹی وی ہوسٹ 24 سالہ کیتریونا گرے چند ماہ قبل ہی مس یونیورس 2018 منتخب ہوئی تھیں۔

کیتریونا گرے مس یونیورس سے قبل مس فلپائن تھیں اور انہوں نے میوزک تھیوری میں ماسٹر کر رکھا ہے۔

علاوہ ازیں کیتریونا گرے فلپائن میں ایڈز اور ایچ آئی وی کے حوالے سے سماجی تنظیم کے تعاون سے شعور اجاگر کرنے کا کام بھی کرتی ہیں۔

کیتریونا گرے کے والد اسکاٹش نژاد آسٹریلوی جب کہ والدہ فلپائنی ہیں اور وہ خود فلپائن میں پلی بڑھیں اور وہیں سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔

ویب سائٹ ’دی کوئنٹ‘ کے مطابق گزشتہ دنوں کیتریونا گرے امریکی شہر نیویارک میں ہونے والے سالانہ فیشن فیسٹیول میں شریک ہوئیں، جہاں انہوں نے معروف ڈیزائنر شیری ہل کی موسم بہار کی ملبوسات پیش کیں۔

یہ پہلا موقع تھا کہ مس یونیورس نے امریکا میں ہونے والے کسی فیشن ویک میں جلوے بکھیرے تھے، تاہم جلد ہی ان کی جانب سے فیشن ویک میں پیش کی گئی ملبوسات کے ڈیزائن پر تنازع سامنے آیا۔

دراصل کیتریونا گرے نے بھارتی فیشن ہاؤس سبیا سچی کی ملبوسات کی طرز پر تیار کیے گئے لباس کو فیشن ویک میں متعارف کرایا، جس پر جلد ہی مس یونیورس کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور کہا گیا کہ انہوں نے کاپی کیے گئے ڈیزائن کی ملبوسات پیش کیں۔

اس سے ملتا جلتا لباس بھارتی فیشن ہاؤس سبیا سچی 2016 میں پیش کر چکا ہے

اس سے ملتا جلتا لباس بھارتی فیشن ہاؤس سبیا سچی 2016 میں پیش کر چکا ہے

کیتریونا گرے کی جانب سے پیش کیا گیا لباس سبیا ساچی کی جانب سے 2016 میں پیش کیے گئے لباس جیسا تھا، جس وجہ سے ان پر کاپی کیے گئے ڈیزائن کو پیش کرنے کا الزام لگایا گیا۔

ساتھ ہی ایسا لباس پیش کرنے پر فیشن ڈیزائنر شیری ہل کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا، تاہم تاحال اس حوالے سے مس یونیورس اور فیشن ڈیزائنر سمیت بھارت کے فیشن ہاؤ س سبیا سچی نے کوئی رد عمل نہیں دیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *