طلاق، اسلام اور میں: میں ہمیشہ کے لیے وہ عورت رہوں گی جس نے دو شوہروں کو چھوڑا

" صائمہ میر "

میں 19 سال کی تھی جب پہلی مرتبہ میری شادی کا تذکرہ  شروع ہوا ۔ میری والدہ نے مجھے ایک جوان کے بارے میں بتایا جن کے والدین نے شادی کا پیغام بھیجا تھا۔  یہ احساس کہ میری عمر اب شادی کے لائق ہے ان کے لیے اتنا ہی کٹھن تھا جتنا میرے لیے حیران کن۔ میں ایک بورنگ فطرت کی نوجوان لڑکی ہوں جس نے کبھی کسی مرد سے ہاتھ تک نہیں ملایا سوائے اپنے بوائے فرینڈ کے۔ میں یونیورسٹی سے پہلے ایک گرلز کیتھولک سکول میں پڑھتی تھی۔ میری زندگی ملکوم ایکس، مایا اینگلو، ایکس مین اور سپائڈر مین تھے، گرمیاں کراچی میں اپنی نانی کے گھر گزارتی تھی اور سردیاں یارک شائر کی برفباری میں گزرتی تھیں۔ یہ بہت اچھا معمول تھا۔ میں اتنی چھوٹی تھی کہ یہ سمجھ نہیں سکتی تھی کہ اچھے لوگوں کے ساتھ اچھا ہی ہوتا ہے۔

میرے پہلے شوہر مجھ سے 11 سال بڑے تھے۔ ہم شادی سے قبل صرف ایک بار ملے تھے، لیکن پورا ایک سال ہم ایک دوسرے کے ساتھ فون پر گپ شپ کرتے رہے۔ میں اس وقت یونیورسٹی میں اپنے فائنل ایئر میں تھی۔ وہ ایک ڈاکٹر تھے، جو ایک ایسا پیشہ ہے جو ہر داماد کے انتخاب میں سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے ۔  2 بیٹوں میں سے بڑے بیٹے تھے جو میڈیکل سکول سے فارغ ہو کر پاکستان سے امریکہ آئے تھے۔ ہم نے 6 ستمبر 1996 میں شادی کی، اور مسیسیپی کی اڑان لی، جہاں ہمیں ایک پیارے امیریکن ہوم میں رہنا تھا۔

رہائشی کمرے میں ایک بھورے رنگ کا چمڑے کا صوفہ، ایک بڑاٹی وی تھا جس کے ساتھ ایک طرف سپیکر تھے۔ یہ سپیکر میرے پہلے شوہر کی پسند تھے۔ وہ ایک پیمانہ نکالتے اور ان کے درمیان اور ٹی وی اور صوفے کے درمیان فاصلہ ماپتے۔ اس کے علاوہ وہ اپنے کام کے ساتھ کام رکھنے والے انسان تھے۔ ان کی والدہ جو ہمارے ساتھ رہتی تھیں ایسی نہیں تھیں۔ اس وقت کی زیادہ تر باتیں میرے ذہن میں ماند پڑ گئی ہیں لیکن کچھ باتیں ابھی تک میرے دماغ میں ہیں۔ جس طرح سے وہ ان کی اپنی گود میں بٹھاتی، ان کے چومنے پر ان کا شرمانا، ان کا کمرے میں آنا جب کہ ہم سو رہے ہوں، ان کے عجیب سوالات کہ نہاتے ہوئے تم نے صابن استعمال کیا یا نہیں۔ میں پورا دن ان کے ساتھ گزارتی۔ میرے پاس اپنے پیسے نہیں تھے تو میں کہیں جا نہیں پاتی تھی۔ میرے شوہر کام سے واپس آتے اور ہم تینوں بیٹھ کر وہ بڑا ٹی وی دیکھتے۔ جب کافی دیر ہو جاتی، ان کی والدہ کہتی، "اب جاؤ سو جاؤ اور باتیں نہیں کرنی"۔ وہ وائٹ واش کے ساتھ ایک سرخ جراب رکھتیں اور مجھے الزام دیتی کہ میں نے ان کا کوٹ خراب کر دیا ہے۔ انہوں نے پریشر ککر میں بالوں کا ایک گچھا رکھا اور کہا کہ چونکہ میں نے انہیں اپنا کنگھا کچن سے دور رکھنے کا کہا تھا اس لیے اللہ نے مجھے سبق سکھایا ہے۔  کیا میرا دماغ خراب ہو رہا تھا؟ رفتہ رفتہ بغیر کسی وجہ کے مجھے ڈر لگنے لگا، میرا وزن کم ہوتا گیا، ایسا لگ رہا تھا کہ میں نے اپنے شوہر کے ساتھ اس کی والدہ سے بھی شادی کی ہے۔

میں مسیسیپی میں 3 ماہ کے تفریحی ویزہ پر تھی۔ امیگریشن کے اصولوں کے مطابق اگر میں گرین کارڈ کے لیے درخواست دیتی تو اس کا مطلب تھا کہ وہاں سے 2 سال کے لیےانگلینڈ واپس نہیں جا پاتی ۔ یہ بات میرے لیے نا قابل برداشت تھی اور میری والدہ نے مجھے کہا ہوا تھا کہ پہلے ایک مرتبہ ان کے گھر جاؤں۔ اس وقت سے شادی کے تنازعات میں تیزی آ گئی۔ میں پھر کبھی امریکی جہاز پر سوار نہ ہوئی۔  میری پہلی شادی صرف تین ماہ تک چلی۔

اس وقت میرے کلچر میں طلاق اتنی عام نہیں تھی۔ میں خوش قسمت تھی کہ میرے والدین میرے فیصلوں پر بھروسہ کرتے تھے اور اس بات کی پرواہ نہیں کرتے تھے کہ لوگ کیا کہیں گے۔ اور لوگوں کو بہت کچھ کہنا ہوتا ہے۔ طلاق کی اسلام میں اجازت ہے (پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی زوجہ مطلقہ تھیں)، لیکن اس سے باتیں ختم نہیں ہوتیں۔ ایک معاشرہ جس میں کنوارے پن کو سراہا جاتا ہے  میں میری قدر کم ہو گئی تھی۔

ایک عورت کے لیے طلاق کے بعد اپنا درجہ دوبارہ پانے کا سب سے آسان راستہ یہ ہے کہ وہ کہے کہ اس کا شوہر مردانہ کمزوری کا شکار تھا۔ یہ کہنا آسان تھا کہ میں ابھی تک کنواری ہوں، لیکن یہ جھوٹ ہوتا۔ سچ سادہ سا تھا کہ میری شادی ہوئی تھی اور اب میں مطلقہ تھی۔ اور چونکہ میں جانتی تھی کہ میرا فیصلہ غلط نہیں تھا، میرے رشتہ داروں کی ہمدردیوں نے مجھے غلطی محسوس کرنے پر مجبور کر دیا، جیسے کہ میں جنسی جرم کا شکار رہی ہوں۔ مجھے یاد ہے کہ میں نہاتے ہوئے خود کو تب تک نوچتی رہتی جب تک کہ میرا جسم خون سے بھر نہ جائے، تا کہ میری شرمندگی میرے جسم سے دھل جائے۔

میری فیملی نے محسوس کیا کہ اس کا علاج یہ ہے کہ جتنی جلدی ہو سکے میری دوبارہ سے شادی کر دی جائے۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ ایک بار میری خوشیاں لوٹ آئیں گی تو میں اپنا ماضی بھول جاؤں گی۔

جب میں نے دوسری مرتبہ شادی کی تو میں 23 سال کی تھی۔ میرے دوسرے شوہر مجھ سے تھوڑے سے ہی زیادہ عمر کے تھے اور زندگی سے بھر پور اور جوشیلے تھے۔ ان میں نوجوانی، کامیابی کا جوش تھا۔ مجھے یاد ہے جب ہم پہلی بار ملے تھے تو انہوں نے چمڑۓکےجوتےپہنےہوئےتھے،اوروہ بہت خوش تھے۔میرےآخری شوہرنےہش پپیز کے جوتے پہنےہوئےتھے۔

"تمہیں ہاں کرنے سے کیا چیز روک رہی ہے؟" انہوں نے مجھے سے پوچھا جب ہم دوسری مرتبہ ملے۔ انہوں نے مجھ سے وعدہ کیا کہ اگر ان کے خاندان نے ٹانگ اڑانے کی کوشش کی تو وہ میرا ساتھ دیں گے، انہوں نے وعدہ کیا کہ سب کچھ الگ طرح کا ہو گا۔ میں اس وقت کے بارے میں سوچتی ہوں کہ میں نے نہ کیوں نہیں کہا۔ میں اتنا کہہ سکتی ہوں کہ میں نے سوچا کہ میرے والدین بہتر جانتے ہیں۔ میں خوشیوں میں پلی بڑھی تھی، اور میں اس طرح بڑھی تھی کہ میں بہترین لوگوں کو دیکھوں، اگرچہ یہ میرے رویے کے خلاف ہو۔

لیکن ایک بار پھر میں نے خود کے ایک بڑی فیملی کے درمیان پایا۔ ہم ان کی والدہ، والد، چھوٹی بہن اور بڑی بہن جو اکثر آتی جاتی تھیں، ان کے شوہر اور دو چھوٹے بچے،  کے ساتھ رہتے تھے۔ ایک تیسری بہن بھی تھی جو ایک بڑی فیملی میں رہتی تھی۔

شادی کے دوسرے دن ہم اپنے والدین کے گھر گئے اس سے پہلے کہ ہم ہنی مون پر جانے کے لیے جہاز پکڑتے۔ وہاں پہنچ کر مجھے لگا جیسے کچھ ٹھیک نہ ہو۔ میرے سسر نے میرے اوپر نظر ڈالی اور پوچھا کہ میں نے کیا پہنا ہوا ہے۔ میں نے ایک گھاگرا پہنا ہوا تھا، جو ایک سکرٹ کی طرح تھا جو زمین پر لگ رہا تھا۔ "سکرٹ"، میں نے کہا۔ ان کے تاثرات سے مجھے پتہ چلا کہ یہ ان کو پسند نہیں تھا۔ میرے شوہر نے بعد میں مجھے بتایا کہ ان کے والد کو سکرٹ سے نفرت ہے اور انہوں نے میرے لباس کو ذاتی مخالفت کے طور پر لیا تھا۔ ان کو کئی چیزوں سے مسئلہ تھا، جنہیں بدلنا تھا۔

میں نے دہرا  "surname"  استعمال کرنے کا فیصلہ کیا لیکن جب  میرے سسر نے میری میل دیکھی تو ان کے غصہ کی انتہا نہ رہی۔ اس کے بعد سے حالات بد سے بد تر ہوتے چلے گئے۔ اور مجھے سمجھانے کے لیے میری ایک نند کو بلایا گیا۔ اس نے مجھے بتایا کہ ڈبل بیرل نام صرف فنکا استعمال کرتے ہیں۔

اب مجھے سمجھ آتا ہے کہ میرے سسرال والوں کی  طرف سے نفسیاتی طور پر ہراساں کرنے کےعمل نے  میرے اعتماد کو ختم کرنا شروع کر دیا تھا۔ چند ماہ تک  میں تمام کھانے پکاتی اور صفائی کرتی رہی۔ یہ کسی ایسے بندے کو سمجھانا مشکل ہے جس نے جذباتی مجروح کیے جانے کے بارے میں تجربہ نہ حاصل کیا ہو کہ الفاظ کیسے ایک شخص کو تباہ کر دیتے ہیں۔ کچھ مزید مہینوں میں میری سب سے بڑی نند نے ایک رسمی گفتگو کے لیے مجھے اپنے ساتھ بٹھایا۔ اس نے کہا کہ میں اپنے کاموں میں غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہی ہوں اور مجھے چاہیے کہ اپنے ساس سسر کے کپڑے دھو کر ان کو استری بھی کیا کروں۔۔ میرے پاس اس بارے میں کہنے کے لیے کچھ نہیں تھا۔

اس سارے معاملے میں میرے شوہر کا رویہ بڑا عجیب تھا۔ مجھے اس میں شک نہیں تھا کہ وہ مجھ سے محبت کرتے تھے، اور وہ میرے ساتھ وقت گزارنا چاہتے تھے۔ ہم نے اپنے بیڈ روم میں ایلی مکبیل کی ایوری تھرسڈے دیکھی، ہفتے میں صرف ایک بار رات کے 9 بجے ہم چھت پر جاتے،(باقی دن مجھے ان کے والدین کے ساتھ گزارنے پڑتے)، اور ہم ویک اینڈ پر لندن میں گھومتے اور آخر میں پیزا ہٹ جاتے۔ ہم چھٹی والے دن گھومنے جاتے اور وہ میرے لیے پیارے پیارے تحفے لاتے اور اسی طرح کچھ زیورات بھی لاتے۔ میں بس اتنا کہوں گی کہ وہ میرے لیے جان چھڑکتے تھے۔ لیکن ان کی تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی تھا، وہ رخ جو ان کے والدین کے غصے  سے نمٹنے سے متعلق تھا، اور مجھے وہ جھیلنا پڑتا۔

ایک دن وہ مجھے باتھ روم میں روتا ہوا چھوڑ کر چلے گئے کیوں کہ میں ان کی والدہ کے دیے ہوئے کپڑے نہیں پہن رہی تھی۔ ہم ایک شادی میں جا رہے تھے اور ان کے والدین نے میری نیلی ریشمی شلوار قمیص اور اس پر موتیوں کا فراک پہننے کی اجازت نہیں دی تھی۔ جانے سے قبل انہوں نے ایک لفظ بولا جو ان کے میرے اوپر غصے کی دلیل تھا۔ مجھے یاد آتا ہے کہ میں باتھ روم کی دیوار کے ساتھ گری تھی اور مجھ سے سانس نہیں لیا جا رہا تھا اور میرا شیمپو میرے ہاتھ میں دھل رہا تھا۔ ان کی بہن مجھے لینے آئی اور میں نے شادی میں جانے کے لیے ابھی خود کو صاف کرنا تھا، جہاں اچانک وہ معذرت خواہ اور پیار کرنے والے بن گئے تھے۔ پریشان اور خالی ذہن کے ساتھ میں نے ان کی معذرت قبول کر لی۔

ان کے والدین باقاعدہ ایک کھلونے کی طرح ان کو اپنے طریقے سے تیار کرتے تھے۔ یہ عموما تب ہوتا جب ہم کسی تفریح پر جا رہے ہوتے، میں پہلے دو دن تک ان کو شراب پینے کی اجازت دے دیتی۔ مجھے یاد ہے کہ موراکو میں میں ایک پول کے ساتھ بیٹھے ہوئے، ان کو ہچکچاتے ہوئے دیکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "وہ مجھے کہتے ہیں کہ میں اپنی بیوی کے اشاروں پر ناچتا ہوں"، "لیکن شاید میں ناچنا چاہتا تھا"۔

ان کی مسئلوں کی فہرست کافی بڑھ گئی تھی۔ میں مشکل سے چلتی تھی اور میرے لیے  قدم اٹھانا مشکل ہوتا جا رہا تھا، میں نے ان کی اجازت کے بغیر اپنے بال کٹوا لیے  اور کافی شاپ پر اپنی ایک دوست سے ملی تھی۔

سال 2000 کی سردیوں میں، میں عید پر اپنے والدین سے ملنے گئی۔ میرے شوہر نے مجھے فون کیا اور ان کی آواز سے مجھے لگا کہ کچھ ٹھیک نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی چھوٹی بہن کے لیے معذرت خواہ ہیں، وہ بہن جسے میں نے وہاں سے رخصت ہونے سے پہلے ایک کرسٹین ڈایور گفٹ کے طور پر دیا تھا، وہ بہن جس سے میں گلے لگ کر آئی تھی، وہ بہن جس کے ساتھ میں نے ہمیشہ اپنی بہنوں جیسا سلوک کیا تھا۔ لیکن وہ معذرت خواہ تھی۔ وہ اس بات پر ناراض تھی کہ میں نے اپنے کزن کے سامنے اس کے ساتھ نامناسب طریقے سے بات کی تھی۔ میں نے اسے یہ کہتے ہونے انکار کر دیا کہ اس بات کے ساتھ اس کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ وہ چلایا۔ میں نے دوبارہ انکار کیا۔ شاید اس لیے کہ میں اپنے گھر پر تھی، اور اپنے والدین کے ساتھ محفوظ تھی، یا شاید اس لیے کہ میں جتنا برداشت کر سکتی تھی اتنا کر لیا تھا۔ جو بھی تھا، میں اب اکتا چکی تھی۔ تو میں نے خلع کے لیے درخواست دی، طلاق کی ایک اسلامی شکل جس میں عورت اپنے شوہر کو چھوڑ سکتی ہے اگر وہ چھوڑنا چاہے۔ مسجد کے ایک چھوٹے سے کمرے میں اپنے والدین، اپنے شوہر اور ان کے والدین کے ساتھ بیٹھے ہوئے میں نے طلاق کی استدعا کی۔ "لیکن میں نہیں دینا چاہتا"، میرے شوہر نے قاضی سے کہا۔ یہ ایک غلط فہمی ہے کہ اسلام عورت کو اجازت نہیں دیتا کہ وہ شوہر کو طلاق دے۔ یہ ایک پھیلایا ہوا جھوٹ ہے جو لڑکیوں اور عورتوں کی تعلیم، ثقافتی بدنامی اور ملاؤں نے پھیلایا ہے جو چاہتے ہیں کہ معاشرے پر ان کا زور رہے۔ لیکن جو عورتیں قرآن پڑھ سکتی ہیں جلد ہی جان جاتی ہیں کہ اس کی غلامی اور دباؤ مردوں کی تعمیر کردہ چیزیں ہیں۔

"مجھے آپ کی اجازت کی ضرورت نہیں،" میں نے نرمی سے کہا۔ یہ پہلی مرتبہ تھا کہ میں نے خود کو اس قدر متحمل محسوس کیا تھا۔

"وہ صحیح کہتی ہے"، قاضی نے کہا۔ "اسے تمہاری اجازت کی ضرورت نہیں۔"

"میں ان لوگوں کے ساتھ مزید نہیں رہنا چاہتی،" میں نے اپنے سسر کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔ ایک حیرانگی کے تاثرات ان کے چہرے پر ابھرے۔ وہ مجھے کمزور سمجھتے تھے، کہ ایک عورت جس کو ایک مرتبہ طلاق لے چکی ہو، اسے دباؤ میں رکھا جا سکتا ہے، کہ میں اپنی  عزت کو بچانے کے لیے کچھ کروں گی۔ انہوں نے میری ہمدردی کو میری کمزوری سمجھا تھا۔ لیکن میں جانتی تھی کہ خوش کیسے رہا جا سکتا ہے اور میں جانتی تھی کہ مجھے اس کا پورا حق ہے۔

میری دوسری طلاق کے بعد میرے والد نے میری والدہ کو بتایا: "آپ کبھی میری بیٹی کو ایسا کچھ نہیں کہو گی جو ہم نہیں چاہتے "۔ اس کے بعد ہم نے معاشرے کی طرف دیکھنا چھوڑ دیا۔ باہر سے میں نے اپنے مشرقی اور مغربی ملبوسات کو کرتے جینز اور شال میں مکس کر دیا۔ اندر سے میں نے لوگوں کی باتوں کی پرواہ کرنی چھوڑ دی۔ بری چیز جو ہونی تھی ہو چکی تھی۔

اپنی ذاتی مرجھا جانے والی زندگی کے ساتھ میری پروفیشنل زندگی میں بہار آ گئی۔ میں 27 سال کی تھی جب میں نے مقامی اخبار میں ملازمت اختیار کی ۔ اس اخبار نے مجھے جرنلزم سیکھنے کا موقع دیا ۔ چند سال بعد میں بی بی سی کے لیے کام کر رہی تھی۔ میرے والد کو مجھ پہ فخر تھا، وہ میری خبروں کو ریکارڈ کرتے۔ جب میں اپنے علاقے میں واپس آئی  تو مساجد میں یہ تذکرے ہونے لگے کہ میں اپنی ثقافت سے نکل گئی ہوں۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ یہ میرے والد تھے جنہوں نے بیڈ فورڈ میں ایک جھونپڑی لی تھی اور میرے لیے ایک سود پر قرضے دینے والے کاروبار کا بندوبست کیا تھا۔ میرے والد آزادی کی اہمیت کو جانتے تھے۔

ہفتے کا دن تھا جب میری بہن نے مجھے بتایا کہ میری والدہ نے ایک اور لڑکے کو میرا رابطہ نمبر دیا ہے۔ "میسنجر بند نہ کرنا"، اس نے پیغام بھیجا تھا۔ میرے گھر اور دفتر کے راستے میں میرے کئی میسنجر پہلے سے بند ہوئے پڑے تھے، لیکن اس بار میں نے ہتھیار ڈال دیے۔ میں نے ایک گہرا سانس لیا اور انتظار کیا۔

اس نے مجھے اتوار کی رات کو پیغام بھیجا۔ بات کرتے ہوئے لگ رہا تھا کہ وہ کوئی عام آدمی ہے، لیکن یہ وہ لڑکا نہیں تھا جسے میری والدہ نے میرا نمبر دیا تھا۔ پتہ چلا کہ اسے 6 ماہ قبل میری خالہ نے میرا نمبر دیا تھا، لیکن اس کے کچھ ہی عرصہ بعد اس کے والد کی وفات ہو گئی تھی۔ اکتوبر کے ایک سرد دن میں ساتھ چلتے ہوئے اس نے اخبار کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا اپنے کوٹ سے نکالا جو کوٹ اس نے تب سے نہیں پہنا تھا۔

ہم نے ایک دوسرے کو اپنے ادزواجی رشتہ کی کہانی سنائی۔  2 ہفتے بعد وہ لیڈز میں مجھ سے ملنے آیا۔ ہم نے لنچ کیا، گھومے پھرے، باتیں کیں۔ وہ میرے لیے تین کتابیں لایا: حامد محسن کی دی ریلکٹینٹ فنڈا منٹلسٹ، ملکولم گلیڈ ویل کی واٹ دی ڈاگ سا اور محبت کی شاعری کی ایک کتاب۔ مجھے لگا کہ وہ میں نے سنی ہوئی تھیں۔

اگلے ماہ تک ہم ہر رات بات کرتے تھے، لندن سے بیڈ فورڈ کی ٹرینوں میں سفر کرتے تھے۔ اور اس پر شدید محنت کے بعد آخر کار میں اس سے شادی کرنے کے لیے راضی ہو گئی۔ مجھے کسی طرح لگا کہ اگر میں نے نہ کہا تو مجھے بھگتنا پڑے گا۔ میں نے سیکھا تھا کہ ثقافتی توقعات کے بر عکس اچھے رشتے شروع سے ہی اچھے ہوتے ہیں جو آپ کو کوشش کرنے سے نہیں ملتے۔

میرے شوہر مذہبی نہیں ہیں لیکن میرے لیے اپنی محبت کو ثابت کرنے کے لیے وہ 2 ہفتے تک روزانہ مسجد جاتے رہے تا کہ نکاح کے کاغذات پر دستخط کر سکیں۔ اس تجربے سے انہیں مستقبل میں بھی مسجد جانا پڑا۔ "صائمہ میر، بی بی سی؟" امام صاحب نے کہا، نکاح کی رسم میں انہوں نے پوچھا، "آپ کو یقین ہے کو آپ اس سے شادی کرنا چاہتے ہیں؟" میرے شوہر کی ایمان کی کمزوری کے باوجود حقیقت یہ ہے  کہ ان کا مسجد سے کوئی تعلق نہیں تھا، اور وہ پہلے سے شادی شدہ تھے اور پھر ان کی طلاق ہو گئی تھی، اور وہ کسی دوسرے فرقے سے تھے، ثقافت نے انہیں میرے ساتھ شادی کے لیے بہت بہتر سمجھا۔ میرے شوہر بہت دلچسپ تھے۔ امام نے ایک اچھے انسان کو اسلام سے موڑ دیا۔

8سے زیادہ سال گزر جانے کے بعد میں آپ کو بتا سکتی ہوں کہ میں نے عقلمندانہ انتخاب کیا تھا۔ میں ابھی تک ایک اچھے اور مہربان انسان کے نکاح میں ہوں۔ میں دو جوان بیٹوں کی ماں ہوں اور میں ان کو اچھے مسلمان بندوں کی طرح پروان چڑھانے میں فخر محسوس کرتی ہوں۔

ایک مقام پر وہ میری کہانی پڑھیں گے۔ مجھے امید ہے کہ تب انہیں میرے ایمان کی صحیح سمجھ آئے گی۔ وہ جان جائیں گے کہ اسلام عورت کو اپنی پسند کا مرد ڈھونڈنے کا حق دیتا ہے اور اسے چھوڑنے کا حق بھی دیتا ہے۔

میں ہمیشہ وہی عورت رہوں گی جس نے دو شوہروں کو چھوڑا ہے، اور اگرچہ یہ لکھنا شیشوں سے بھرے کمرے میں ننگا کھڑے ہونے جیسا ہے، لیکن یہ بہت اچھا تجربہ رہا ہے۔ مجھے اپنی جد وجہد پر فخر ہے۔ میں نے ثقافتی بندھنوں کو توڑنے کی جرات کی۔ میں نے ان جیسا بننے سے انکار کیا۔ میں نے اپنے مذہب کو چھوڑنے سے انکار کیا اور اسلام نے ہر جگہ میرا ساتھ دیا۔

میں سماجی بندھنوں سے آزاد ایک مسلمان عورت ہوں۔ اس میں کوئی  تناقض نہیں ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *