ڈاکٹر انور سجاد اور بیت المال!

سنا تو یہ تھا کہ دائیں ہاتھ سے دو تو بائیں ہاتھ والوں کو بھی خبر تک نہ ہو۔ہفتے کی دوپہر سے مگر ٹویٹر کے ذریعے ایک وڈیو پھیلائی جارہی تھی۔ کسی زمانے میں بہت ’’مغرور‘‘ اور کسی کو بھی خاطر میں نہ لانے کی شہرت رکھنے والے ڈاکٹر انور سجاد اس میں بہت ’’شکرگزار‘‘ نظر آرہے تھے۔ دورِ حاضر کی ’’ریاستِ مدینہ‘‘ کے خزانے سے چلائے بیت المال کے چیئرمین کے انتہائی مشکور۔ان سے ملنے والے سرکاری لوگوں میں سے ایک کو یاد دلانا پڑا کہ چیئرمین بیت المال نے وزیر اعظم کے حکم پر ان کی مدد کیلئے رقم بھیجی ہے۔ ’’میں توان کا فین ہوں‘‘ کہتے ہوئے انور سجاد اپنی بے بسی کو مزید عیاں کربیٹھے۔

یہ وڈیو دیکھتے ہی میرا خون کھول گیا۔ طیش کے اثر میں اپنے ٹویٹر اکائونٹ کے ذریعے مذکورہ وڈیو بنانے اور اسے سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلانے والوں کے خلاف واہی تباہی بکنے کو تیار ہوگیا۔مگر…

اپنی عمر یاد آگئی۔ دل لہو سے بھر گیا۔یہ خوف لاحق ہوگیا کہ شاید چند برس گزرنے کے بعد میں بھی انور سجاد ہی کی طرح محض زندہ رہنے کے لئے مالی معاونت کا طلب گار ہوسکتا ہوں۔ خوف سے مفلوج ہوئے ذہن نے خود کو بحال کرنے کی خاطر غم ِجہاں کے بجائے غمِ روزگار کا حساب لگانا شروع کردیا۔ چند اثاثے یاد آگئے۔ انہیں بیچ کر گزارہ ہوسکتا ہے۔ اگرچہ یہ سب میری بیوی کی ملکیت ہیں اور وہ خود مرتے دم تک کام کرنے کو بضد بھی ہے۔ ڈاکٹر انور سجاد بھی لیکن کئی برسوں تک توانائی کی مجسم علامت رہے تھے اور تعلق ان کا لاہور کے ایک مستند متمول گھرانے سے تھا۔

لاہور کے دلی دروازے سے گزرکر وزیر خان کی مسجد سے آگے بڑھیں تو چوک پرانی کوتوالی آتا ہے۔ وہاں سے ایک راستہ چونا منڈی چوک کو لے جاتا ہے۔ وہاں ڈاکٹر دلاور کا مشہورِ زمانہ کلینک تھا۔ وہ بچوں کے امراض کے ماہر گردانے جاتے تھے اور میری ڈاکٹر انور سجاد سے پہلی ملاقات اسی کلینک میں ہوئی تھی۔

چھٹی جماعت کا طالب علم تھا تو ہر دوسرے ماہ میرے گلے کے غدود پھول جاتے ۔ میوہسپتال کے ڈاکٹروں نے آپریشن پر اصرار کیا۔ اس کی تاریخ طے ہوگئی تو میں خوفزدہ ہوکر گھر کے ایک کونے میں ’’احتجاج‘‘کو بیٹھ گیا۔’’دھرنا‘‘ ہوگیا۔

ڈانٹ ڈپٹ یا منت سماجت کسی کام نہ آئی۔ ہمارے محلے میں ایک مائی گاماں تھی۔ بہت سخت گیر بیوہ۔ میرے لئے مگر مہربان ثابت ہوئی۔ بازار سے پھٹکری منگواکر اسے خود ہاتھوں سے پیس کر اپنے انگوٹھے کے پورے زور سے میرے گلے میں لگایا۔ دو دن بعد گلا ٹھیک ہوگیا مگر ایک ماہ بعد دوبارہ غدود پھول گئے۔

میری ماں ڈاکٹر دلاور کے ہاں لے گئی۔ عصر کا وقت تھا۔انتہائی وجیہہ صورت ڈاکٹر دلاور پر وقار سفید داڑھی کے ساتھ کلینک کے باہر رکھی کرسی پر بیٹھے اخبار پڑھنے میں مصروف تھے۔ کلینک پر بہت رش تھا۔ مریضوں کو ان کے فرزند دیکھ رہے تھے۔ شاید میری باری بہت دیر سے آتی۔ڈاکٹر صاحب نے مگر آنکھ کے اشارے سے ایک ملازم کو بلاکر مجھے اپنی ماں سمیت انور سجاد کے کمرے میں بھیج دیا۔

میرا گلادیکھتے ہی ڈاکٹر انور سجاد نے آپریشن کے علاوہ کسی اورا مکان کو شدت سے رد کردیا۔ میری ماں نے آپریشن سے میرے خوف کا ذکر کیا۔ڈاکٹر صاحب کو بتایا گیا کہ میری دانست میں گلے کے آپریشن کے لئے اسے باہر سے کاٹنا پڑتا ہے۔ڈاکٹر صاحب نے میز پر رکھے کالے رنگ کے فون کا چونگااُٹھاکر کوئی نمبر ڈائل کیا۔ میوہسپتال کے ENT والے شعبے کا کوئی ڈاکٹر تھا۔ اسے بتایا کہ میں اس کی وارڈ میں آئوں گا۔ مجھے وہاں موجود مریض دکھاکر اطمینان دلایا جائے کہ ٹانسیلز کے آپریشن کے لئے گلے کو باہر سے نہیں کاٹتے۔ میری ماں فوراََ مجھے ’’معلوماتی وزٹ‘‘ کے لئے میوہسپتال لے گئی۔ مطمئن پھر بھی نہ ہوا۔ مائی گاماں کے انگوٹھے سے شفا پانے کو بضد رہا۔

میرے لئے شفقت کی علامت ہوئے ڈاکٹر دلاور کے بیٹے انور سجاد میرے کالج پہنچنے تک ٹی وی کی بدولت بہت بڑے ڈرامہ نگار اور اداکار مشہور ہوچکے تھے۔ پروڈیوسرز اور دیگر افسران کو خاطر میں نہ لاتے۔ ’’اپنی مرضی‘‘ کرتے اور ’’جان بوجھ کر‘‘ ڈراموں میں ایسے سین ڈالتے جہاں چھوٹے اداکاروں کی کافی تعداد کو ایک آدھ لائن بولنے کا موقع مل جاتا۔ لوگوں کو ’’’چانس‘‘ دینے کے لئے ڈراموں میں ’’خواہ مخواہ‘‘ کے سین اور مکالمے لکھنے والے انور سجاد کو ہفتے کے روز جاری ہوئی وڈیو میں دیکھا تو مزید پریشانی لاحق ہوگئی۔

وہ وقت یاد آگیا جب 1970کی دہائی کے آغاز میں ڈاکٹر انور سجاد نے چینی ثقافتی انقلاب سے متاثر ہوکر نوجوان فن کاروں کو ’’ایکٹرز ایکیوٹی‘‘ میں ایک جتھے کی صورت جمع کیا تھا۔ اس جتھے کی ’’انقلابی قوت‘‘ کی مدد سے انہوں نے نعیم طاہر سے لاہور آرٹس کونسل کی چیئرمینی ’’چھین‘‘ لی تھی۔ وہ ’’عوامی ناٹک‘‘ کے ذریعے پاکستان میں ’’انقلابی ثقافت‘‘ پھیلانے کو بے چین تھے۔ان کے روئیے میں انکار اور بغاوت ہمیشہ نمایاں ترین رہے۔ مروجہ فیشن سے ہٹ کر اپنا لباس تیار کرواتے۔ افسانہ لکھتے ہوئے روایتی پلاٹ کی پرواہ نہ کرتے۔ مصوری کرتے ہوئے بھی انہیں ’’تجرید ‘‘کی طلب رہتی اور عمر کے اس حصے میں جہاں بدن میں لچک نہیں رہتی مہاراج غلام حسین کتھک کے شاگرد ہوکر پائوں میں گھنگرو باندھ کر طبلے کی تھاپ کے ساتھ کلاسکی رقص سیکھنے کی لگن میں بھی مبتلا ہوگئے۔

تخلیقی خیالات کا سمندر اس چھوٹے قد کے شخص میں مسلسل موجزن نظر آتا۔ یوں محسوس ہوتا کہ اس بیکراں سمندرکو اظہار کے لئے مناسب کنارہ نہیں مل رہا۔ افسانے، ناول اور مصوری سے تسکین نہ ملی تو ’’تھیا تھیا‘‘ کرنے کو مجبور ہوگئے۔

بیکراں توانائی سے بھرے ایسے شخص کو ہفتے کے روز جاری ہوئی وڈیو میں دیکھنے کے بعد ’’بے شک انسان خسارے میں ہے‘‘والی حقیقت کا مجسم اظہار نظر آگیا۔ اپنے ’’اکڑفوں‘‘ والے مزاج سے بہت خوف آیا۔ ربّ کریم سے فریاد کی کہ مجھے کبھی کسی چیئرمین بیت المال سے مدد کی ضرورت والی بے بسی نصیب نہ ہو۔ میں گزارے کی رقم وصول کرنے کے بعد حکمرانِ وقت کے لئے ’’میں تو ان کا فین ہوں‘‘ والا ورد کرنے کو مجبور نہ ہوجائوں۔

بشکریہ نوائے وقت

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *