دو’’سپائی ماسٹرز‘‘کے مشاہدات اور تاثرات

آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل(ر)اسد درانی کی پنشن سمیت تمام مراعات واپس لے لی گئی ہیں (البتہ ان کا تھری سٹار جنرل کارینک برقرار رکھا گیا ہے) 78سالہ ریٹائرڈ جنرل کے خلاف یہ کارروائی، اپنے انڈین ’’کاؤنٹر پارٹ‘‘ (راء کے سابق سربراہ) اے ایس دلت کے ساتھ ایک مشترکہ تصنیف پر عمل میں آئی ہے۔ دونوں ’’سپائی ماسٹرز‘‘ کے مابین یہ اس گفتگو کی روا دادتھی جو بیرونِ ملک ملاقاتوں میں ہوئی (جسے بھارتی صحافی ادتیاسنہا نے قلم بند کیا)۔ Spy chronicles: RAW ISI and the illusions of Peace کے نام سے دھماکہ خیز کتاب مئی1918ء میں منظر عام پر آئی۔ تب ’’ڈان‘‘کے سیرل ایلمیڈا سے ایک انٹرویو پر نوازشریف کے خلاف نیا ہنگامہ برپا تھاجن کے لیے ’’سپائی کرانیکلز‘‘ غیبی امداد ثابت ہوئی۔ سابق وزیر اعظم توچند سطور پر’’پکڑے گئے‘‘ تھے، یہاں دہشت گردی (بطور خاص ممبئی حملے) اور کشمیر سمیت دونوں ملکوں کے مابین حساس اور نازک ترین مسائل پر پوری کتاب آگئی تھی،اور لکھنے والے کوئی اور نہیں ، دونوں ملکوں کی سپریم انٹیلی جینس ایجنسیوں کے سابق سربراہ تھے۔ دلچسپ بات یہ کہ ایسی کتب بیسٹ سیلرز میں شمار ہوتی اور لکھنے( اور شائع کرنے) والوں کے لیے ڈھیروں آمدنی کا ذریعہ بنتی ہیں۔ نیٹ پر بھی ان کی سبسکرپشن خاصی مہنگی ہوتی ہے لیکن ’’سپائی کرانیکلز‘‘نیٹ پر مفت دستیاب تھی۔ مجاہد بریلوی دبئی جارہے تھے۔ ’’زادِ راہ ‘‘کے لیے ایئر پورٹ کے بکسٹال کا رخ کیا، جہاں ’’سپائی کرانیکلز‘‘ کا ڈھیر پڑا ہواتھا۔ دوکاندار نے بتایا، ان دوتین دنوں میں آپ اس کے پہلے گاہک ہیں۔ البتہ ریحام خان کی کتاب کے لیے اچھی خاصی ایڈوانس بکنگ ہوچکی تھی۔
جنرل درانی کے خلاف کورٹ آف انکوائری کا حکم جاری ہوا۔ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ جنرل درانی ملٹری کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی پر پنشن سمیت دیگر مراعات کی ضبطی کے مستحق قرار پائے ہیں،’’نوفلائی لسٹ‘‘ میں ان کا نام پہلے ہی موجود تھا۔ پاک، بھارت نازک مسائل کے علاوہ ’’سپائی کرانیکلز‘‘ میں پاکستان کی داخلی سیاست اور اس کے اہم کرداروں کے حوالے سے گفتگو بھی ہے۔ ہم نے قارئین کے لیے اس کے جستہ جستہ حصوں کا انتخاب کیا ہے۔
جنرل درانی نوازشریف کو پہلی وزارتِ عظمیٰ میں’’ورثے‘‘ میں ملے تھے۔ جنرل صاحب کے بقول نوازشریف کو خطرہ لاحق رہتا ہے کہ میں قابلِ اعتماد نہیں ، چنانچہ چھ ماہ بعد جوں ہی موقع ملا انہوں نے میری جگہ’’ اپنا آدمی ‘‘تعینات کردیا۔۔۔آپ کسی کو پسند کرسکتے ہیں لیکن ’’کام کی گھڑی ‘‘ آتی ہے، تو ہم ادارے کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔
محترمہ کی پہلی وزارتِ عظمیٰ میں وزیر اعظم راجیو گاندھی کی اسلام آباد آمد اور مشترکہ پریس کانفرنس کے حوالے سے جنرل درانی کا کہنا تھا، راجیو کا بی بی کی جانب روکھا پن عیاں تھا۔ کشمیر میں استصواب رائے کے سوال پر راجیو نے وہاں ہونے والے انتخابات کا حوالہ دیا(جیسے ریاستی جبر کے ساتھ منعقد ہونے والے نام نہاد انتخابات ، اقوام متحدہ کی زیر نگرانی استصواب کا متبادل ہوں) جس پر محترمہ خاموش رہیں۔۔۔میں بی بی کو ذاتی طور پر جانتا ہوں۔ میں نے ان کی دونوں حکومتوں میں خدمات انجام دیں۔ جنرل درانی کا کہنا تھا، وہ سبق سیکھ چکی تھیں کہ فوج کے ساتھ ان کے تعلقات اچھے ہوتے تو وہ اپنی پہلی مدت پوری کرلیتیں۔۔۔اس موقع پر دلت نے کہا، بی بی میری پسندیدہ شخصیت ضرور تھیں لیکن جہاں تک بھارت کا تعلق ہے، واجپائی اور میاں صاحب میں ایک خاص تعلق تھا۔ واجپائی ان کی بے پناہ عزت کرتے تھے اور ان کا پاک بھارت (امن) منصوبہ نوازشریف پر انحصار کرکے بنایا گیا تھا۔ چنانچہ پاکستان میں فوجی انقلاب پر وہ بہت دلبرداشتہ اور مایو س نظر آئے۔ یہاں درانی صاحب نے میاں صاحب کی تعریف کو ایک اور حوالے سے آگے بڑھایا: ’’مجھے بے حد خوشی ہوئی جب انہوں نے ایٹمی دھماکوں کا حکم دیا۔ انہوں نے صحیح اور دلیرانہ فیصلہ کیا۔ کلنٹن کی پانچ دس کالوں کا دباؤ برداشت کیا۔
میاں صاحب کی ’’نااہلی‘‘ کے بعد ، شاہد خاقان عباسی ان کے جانشین تھے۔ ان کے متعلق جنرل درانی کے تاثرات :میں ذاتی طور پر ان سے متاثر نہیں لیکن وہ نئی ذمہ داریاں خوب نبھا رہے ہیں۔ وہ ’’اداروں‘‘ سے مشاورت کرتے ہیں۔ ان کی سربراہی میں نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے اجلاس ہوتے رہتے ہیں،امریکہ کے ساتھ مشکل تعلقات کو انہوں نے جس طرح نبھایا وہ بھی قابل تعریف ہے، یو این او میں ان کی تقریر بہترین تھی۔ایشیا سوسائٹی کے ساتھ انٹرویو بھی ٹھیک تھا۔
بھارتی صحافی کے سوال پر کہ شاہد خاقان عباسی فوج کے آدمی ہیں؟ جنرل درانی کاجواب تھا: وہ فوج کے آدمی نہیں۔ (12اکتوبر1999ء کی فوجی کارروائی کے بعد) مشرف کے لوگوں نے انہیں نوازشریف سے علیحدہ کرنے کی کوشش کی مگر وہ اپنے لیڈر سے وفادار رہے اور جیل جانے کو ترجیح دی۔ مشرف اس پر پریشان تھے کیونکہ شاہد عباسی ایک سابق اےئر کموڈور (خاقان عباسی) کے بیٹے تھے۔
اس سوال پر کہ نوازشریف نے کارگل کے فوراً بعد مشرف کو کیوں نہ ہٹایا؟ جنرل درانی کاجواب تھا: وہ مشرف کو فارغ کرنا چاہتے تھے لیکن کچھ سمجھدار مشیر انہیں روکے ہوئے تھے۔ جنرل کرامت نے ایک سال پہلے استعفےٰ دیا (یا لیا گیا تھا) اس سے پہلے ایک نیول چیف کی برطرفی بھی ہوچکی تھی۔ فوج جیسے ادارے پر گھڑ سواری کوئی اچھا آئیڈیا نہیں ۔
انتخابات کے حوالے سے ’’ایجنسیوں‘‘ کا ذکر بھی ہوتا رہتاہے، لیکن لازم نہیں کہ ان کے اندازے ہمیشہ درست ہوں۔ جنرل درانی کے بقول میرے لوگوں نے 1990ء کے انتخابات کے بارے میں اندازے لگائے۔ میرا خیال تھا، پیپلز پارٹی کو نقصان تو ہوگا مگر بہت کم ہوگا ۔ انتخابی نتائج بتاتے ہیں کہ اس انداز ے کے بعد پی پی پی پر چھریاں چلا دی گئی تھیں۔ جنرل حمید گل مجھ سے پہلے آئی ایس آئی کے سربراہ رہے۔وہ 1988ء کے انتخابات مانیٹر کررہے تھے۔ ان کا کہناتھا، پیپلز پارٹی جیت جائے گی لیکن پنجاب اور سندھ میں ان کے اندازے غلط ثابت ہوئے سند ھ میں ان کا خیال تھا کہ پیپلز پارٹی کم سیٹیں لے گی لیکن اس نے جھاڑو پھیر دیا۔ پنجاب ان کا خیال تھا کہ زیادہ سیٹیں لے گی، مگر نتائج اس کے برعکس تھے۔۔۔جب ’’عوامی سطح‘‘ کی انٹلی جینس کا معاملہ ہو تو پولیس کی انٹلی جینس زیادہ موثر ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں پولیس کے سپیشل برانچ سے بہتر کوئی پرفارم نہیں کرسکتا۔ لال مسجد میں بہت سے بچے اور خواتین مارے گئے۔ اسے غلط طریقے سے ہینڈل کیا گیاتھا۔ کسی جگہ پر عسکریت پسندوں کے ساتھ بچے اور خواتین بھی ہوں تو بہتر ہے کہ سپیشل فورس کا استعمال کیا جائے جو بہت خفیہ طریقے سے عمل کرتے اور معصوموں کی جان بچاتے ہوئے عسکریت پسندوں کو پکڑنے کی مہارت رکھتے ہیں۔ میں راولپنڈی گیریژن کے علاقے میں تھا۔ ایک ایس ایچ او نے مجھے کہا: ’’جنرل صاحب اک ایس ایچ او دا کم سی، تسیں ساری فوج لے کر اوتھے پہنچ گئے‘‘۔ایک ایس ایچ او اندر جاتا اور اندازہ کرلیتا کہ کتنے عسکریت پسند ہیں، ان میں سے چند کو رشوت لگاتا، یا ان کے فیملی ممبرز کو قابو کرتا اور یرغمالیوں کو آزاد کروالیتا اور اس سے پہلے کہ ہمیں خبر ہوتی، وہ دس بارہ عسکریت پسندوں کو پچھاڑ چکا ہوتا۔
اس سوال پر کہ انڈین را کے سابق چیف کوپاکستان کاکونسا سیاستدان پسند ہے؟ دلت کا جواب تھا: میری پسندیدہ شخصیت بی بی تھیں، وہ خوبصورت تھیں، مستقبل بین تھیں اور بہت آگے جاسکتی تھیں۔۔۔راجیو اور بے نظیر کے درمیان دلچسپ موازنہ کیاجاتا ہے کہ راجیو اپنی دوسری مدت کے دوران بہتر وزیر اعظم ثابت ہوسکتے تھے، اسی طرح بے نظیر بھی اگر (تیسری بار)اقتدار میں واپس آتیں تو پاکستان میں معاملات مختلف ہوتے لیکن کیا وہ پاک بھارت تعلقات میں کچھ کرنے کے قابل تھیں، میں اس بار ے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ یہاں جنرل درانی کو ذوالفقار علی بھٹو یاد آگئے: ’’ پاکستان میں بھٹو کو بنگلہ دیش کی تباہی کا معمار سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ آخری ذمہ داری یحییٰ خان کی بنتی ہے جو مختار کل تھے لیکن بھٹو نے یحییٰ اور مجیب کی جانب سے، ملک کے دونوں حصوں کے مفادات کے تحفظ کی کوششوں کو ناکام بنادیا، ان کا وزارتِ عظمیٰ کا خواب تب ہی پورا ہوسکتاتھا اگر اکثریتی آبادی والا مشرقی حصہ، پاکستان میں شامل نہ رہے‘‘۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *