ڈپریشن سے لے کر ’’ٹھوک کے رکھو‘‘ تک

گزشتہ سے پیوستہ روز معاملہ چار کلو میٹر سے اسی کلو میٹر کے درمیان پھنسا ہوا تھا اور چار عدد ہزار پائونڈ والے بموں سے لیکر ''پے لوڈ‘‘ کے بیچ اٹکا ہوا تھا اور ان سب سے زیادہ اہم مسئلہ یہ تھا کہ فواد چوہدری نے استعفیٰ دیا ہے یا نہیں دیا اور یہ طے نہیں ہو پا رہا تھا کہ ان کا اصل جھگڑا نعیم الحق سے ہے ، ایم ڈی پی ٹی وی سے ہے اور اسی اثنا میں پاکستان نے دو بھارتی جنگی جہاز گرا کر ساری توجہ ایک طرف کر دی۔ بعض فیس بکی ''ایئر مارشل‘‘ اور فضائی جنگ کا زبانی کلامی سو سالہ تجربہ رکھنے والے ماہرین فیس بک و سوشل میڈیا پرایسے ایسے نکتے نکال رہے تھے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔
جہاز کی رفتار سے قطعاً ناواقف اور ریسپونس ٹائم وغیرہ سے مکمل طور پر نا آگاہ فیس بک پر گریڈ بائیس کے درجنوں افسران نے حسب معمول‘ اداروں کے خلاف خوب دل کے پھپھولے جلائے اور جی کھول کر اپنا بغض نکالا۔ بظاہر وہ وطن کی محبت سے سرشار تھے‘ لیکن اسی محبت محبت میں وہ پراپرٹی ڈیلری کے نقصانات پر بھی روشنی ڈالتے رہے۔ تاہم کل سے انہیںکافی افاقہ ہے اور ان کے پیٹ کے مروڑوں میں کافی کمی واقع ہوئی ہے‘ تاہم پرسوں کے بالاکوٹ پر ہندوستانی حملے سے لیکر کل دو بھارتی جہازوں کے گرائے جانے تک کے چھبیس گھنٹے دو لوگوں پر بڑے مشکل تھے؛ شوکت گجر پر اور ملک خالد پر۔
میں صرف اخبار پڑھتا ہوں اور سوشل میڈیا یا ٹیلی ویژن سے ہفتوں، بلکہ مہینوں دور رہتا ہوں۔ کبھی تو سال بھر بھی۔ پرسوں صبح اخبار پڑھا تو کوئی غیر معمولی خبر نہ تھی۔ وہی معمول کی خبریں۔ فواد چوہدری اور پی ٹی وی کے ایم ڈی کی چپکلش اور نعیم الحق سے مخاصمت۔ شوکت گجراور ملک خالد کا آدھا دن ٹیلی ویژن کے سامنے گزرتا ہے۔ ملک خالد باقاعدہ ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر پریشان ہوتا ہے اور شوکت گجر پر دو منٹ بعد اپنے سمارٹ فون پر مختلف ٹی وی چینلز لگا کر اپنے لیے پریشانی مول لیتا رہتا ہے؛ حالانکہ میں ٹی وی نہیں دیکھتا‘ مگر ان دو حضرات کے طفیل مجھے یوں لگتا ہے کہ میں بذات ِخود ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھا ہوا ہوں۔ شوکت گجر ہر اہم اور غیر اہم خبر کا خلاصہ مجھے سناتا رہتا ہے اور ملک خالد (آج کل وہ لندن میں ہے‘ اس لیے دوپہر بارہ ایک بجے تک سکون رہتا ہے) بہر حال ہر اہم خبر کے بعد فون کرتا ہے۔ ہر بار سوال کرتا ہے‘ تم نے وہ خبر سنی ہے؟ میں پوچھتا ہوں: کونسی؟ وہ خبر سناتا ہے اور میں جواب میں کہتا ہوں ہاں! سنی ہے۔ وہ پوچھتا ہے: کہاں سے سنی ہے؟ میں کہتا ہوں: ابھی ابھی تم سے سنی ہے۔
پرسوں صبح دفتر آیا تو شوکت نے پوچھا کہ آپ نے خبر سنی ہے؟ میں نے کہا: صبح اخبار کی خبروں کے علاوہ اگر کوئی خبر ہے تو وہ بہر حال میں نے نہیں سنی‘ کیونکہ تم نے سنائی نہیں اور ملک خالد کا ابھی فون نہیں آیا۔ شوکت نے بتایا کہ آج علی الصبح دو بھارتی طیاروں نے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی ہے اور مظفر آباد سیکٹر پر چار کلو میٹر اندر آ کر بم پھینکے ہیں۔ یہ وہ اطلاع تھی‘ جو شوکت نے ٹی وی پر خبر سننے کے بعد مختلف دیگر ذرائع سے اکٹھی کی تھی۔ دوسری طرف ترجمان کا میرا مطلب ہے ‘حکومت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارتی طیارے جاتے ہوئے اپنا ''پے لوڈ‘‘ پھینک کر چلے گئے تھے۔ میں نے کہا: میں بنجوسہ گیا تھا اور اس راستے میں بالاکوٹ نہیں ‘راولا کوٹ آتا ہے۔ ملک خالد کہنے لگا :بالکل ٹھیک بتایا۔ میں بالاکوٹ اور راولاکوٹ میں کنفیوژ ہو رہا تھا۔ میں نے پوچھا: لیکن ‘تمہیں لندن بیٹھے بیٹھے اچانک بالاکوٹ کے راستے کی کیا آن پڑی؟ کہنے لگا: پہلے یہ بتائو‘ بالاکوٹ لائن آف کنٹرول سے کتنا دُور ہوگا؟ میں نے کہا : مجھے اس کا واقعتاً کوئی، درست اندازہ نہیں۔ مظفر آباد سے راستہ تو خاصا ہے ‘لیکن ایک ہی پہاڑی سلسلے سے گھومتا گھماتا اور پیچ و خم سے گزرتا ہے کہ بندے کو سمت یاد نہیں رہتی‘ تاہم میں اندازاً بتا سکتا ہوں کہ بالاکوٹ وادی نیلم میں اٹھ مقام کے متوازی ہونا چاہئے۔ اٹھ مقام بالاکوٹ سے اور کچھ بھی نہیں تو ستر پچھترکلو میٹر ہونا چاہئے اور خود اٹھ مقام لائن آف کنٹرول سے دو اڑھائی کلو میٹر یا حد چار کلو میٹر ہونا چاہئے۔ اس طرح بالاکوٹ لائن آف کنٹرول سے اگر ''کرو فلائٹ‘‘ کے حساب سے ناپا جائے ‘تو اسی کلو میٹر کے لگ بھگ ہونا چاہئے۔
ملک خالد کہنے لگا : بھارتی میڈیا کہہ رہا ہے کہ انہوں نے ایبٹ آباد والے بالاکوٹ پر سرجیکل سٹرائیک کی ہے‘ یعنی لائن آف کنٹرول سے اسی کلو میٹر اندر آ کر پاکستان کے شہر پر حملہ کیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں انہوں نے لائن آف کنٹرول نہیں، بین الاقوامی سرحد عبور کر کے ہم پر حملہ کیا ہے۔ میں نے کہا: پتا کر تا ہوں کہ معاملہ ہے۔ یہ کہہ کر فون بند کیا اور شوکت سے پوچھا کہ تازہ خبریں کیا ہیں؟ شوکت کہنے لگا: یہ والا بالاکوٹ دوسرا ہے ۔ زور‘ وادی نیلم میں ایک چھوٹا سا گائوں ہے۔ لائن آف کنٹرول کے نزدیک‘ پھر اس نے ایک دوست کو بالا کوٹ فون کر کے پوچھا کہ کیا یہاں کوئی فضائی حملہ یا اس طرح کی کوئی کارروائی ہوئی ہے؟ فون پر اس دوست نے انکار کر دیا۔ اسی اثنا میں ملک خالد کا دوبارہ فون آ گیا۔
جب بندہ پردیس میں ہو تو اس کی پریشانی سوا ہو جاتی ہے‘ یہی حال ملک خالد کا تھا۔ مجھ سے پوچھنے لگا کہ کیا وادی نیلم میں کوئی گائوں بالاکوٹ ہے؟ میں نے کہا: میں نے اس علاقے میں خاصی آوارہ گردی کی ہوئی ہے۔ مظفر آباد سے جاگراں، اٹھ مقام، کیرن، شاروم، اڑنگ کیل، اور رتی گلی جھیل تو دیکھی ہے۔ آگے تائوبٹ تک جانے کا اتفاق نہیں ہوا‘ لیکن اب بھلا سارے علاقے کے چھوٹے چھوٹے گائوں وغیرہ کا نام کسے معلوم ہو سکتا ہے؟ ملک خالد کہنے لگا: لیکن چار کلو میٹر اور اسی کلو میٹر میں بہت فرق ہے۔ اتنی سی بات تو سمجھ میں آ سکتی ہے کہ بھارت جھوٹ بول رہا ہو گا۔ بکواس کر رہا ہوگا۔ اپنی خفت مٹانے کے لیے پہلے کی طرح والا ''سرجیکل حملہ‘‘ بیان کر رہا ہوگا‘ جو کبھی ہوا ہی نہیں تھا۔ مودی ہندو انتہا پسندوں کو مطمئن کرنے اور اپنے بلند بانگ دعوئوں کو جھوٹ میں لپیٹ کر سچ ثابت کرنے کے لیے چار کلو میٹر کو اسی کلو میٹر بنا رہا ہو گا اور پے لوڈ کو کم بنا رہا ہوگا‘ لیکن یہ چار کلو میٹر والے معاملے کو اگر ٹھنڈے پیٹوں برداشت کر لیا تو اگلی بار وہ واقعتاً اسی کلو میٹر اندر آ جائیں گے اور بڑے والے بالاکوٹ پر پے لوڈ کے بجائے بم بھی پھینک جائیں گے۔ وہ آخر بہاولپور کی طرف آنے کی کوشش بھی تو کر چکے ہیں۔ یہ والا طریقہ کار تو آپ کا رد عمل دیکھنے اور پھر اس کے مطابق اگلا لائحہ عمل بنانے والا معاملہ ہے؛ اگر اب کچھ نہ کیا تو پھر کچھ بھی ہو سکتا ہے۔فضائی جنگ کا یہ نابغہ ٹائپ ماہر صرف سوشل میڈیا پر کیا کر رہا ہے؟ اسے تو فضا میں طیارے اڑانے چاہئے تھے۔
کل سے پھر سکون ہے۔ سوشل میڈیا کے گریڈ بائیس کے سارے افسر کل سے چھٹی پر ہیں‘ تاہم کچھ لوگوں نے فوری رجوع کر لیا ہے۔ میرا ایک دوست بھی کل سے آزادی اظہار کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکومت، فوج، ایئر فورس اور ان سے محبت کرنے والوں پر مسلسل تبرا کر رہا تھا۔کل وہ دراصل ڈپریشن میں تھا۔ آج اس نے پوسٹ لگائی ہے''ویل ڈن پی اے ایف ''ٹھوک کے رکھو‘‘۔ سرحدوں پر معاملات ٹھیک ہوں تو قوم کا مورال بھی بلند ہوتا ہے اور قوم متحد بھی ہوتی ہے۔ جنگ قابل رشک چیز نہیں اور اس سے حتیٰ الامکان بچنا چاہئے‘ لیکن اگر یہ مسلط کر دی جائے تو پھر اس کو ویسے بھگتانا چاہئے‘ جیسا کہ اس کا حق ہے۔ ایمانداری کی بات ہے کہ میں نے ابھی تک ایک شخص کو بھی اس صورتحال میں خوفزدہ نہیں پایا۔ فکر مندی کی بات اور ہے۔
بشکریہ روزنامہ دنیا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *