نظریے کی نظیر!!

azhar majeedپچھلے دنوں یہ دو خبریں ایک ساتھ پڑھنے کو ملیں۔پہلی خبر تھی:’’کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ،پاک فوج کا ایک کیپٹن شہید ، متعدد زخمی‘‘۔۔۔ اوردوسری سرخی یہ تھی ’’بلوچستان میں خود کش دھماکے سے تیس پولیس جوان شہید‘‘
اخبار کی پیشانی پر روشنائی سے اورسرزمینِ وطن پر شہیدوں کے لہو سے یہ دونوں سرخیاں ایک ہی دن تحریر ہوئیں۔بظاہر یہ دو الگ الگ خبریں ہیں اور اِن کے محلِ وقوع میں سینکڑوں میل کا فاصلہ ہے لیکن بباطن یہ ایک ہی خبر ہے ۔۔۔ کہ فاصلہ ظاہر میں ہوتا ہے ‘ باطن میں نہیں۔ باطن کی آنکھ کھل جائے تو ہر خبر درحقیقت ایک ہی خبر ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ہر واقعہ دراصل ایک ہی واقعہ ہے۔۔۔صرف کردار بدلتے ہیں ‘ محلِ وقوع بدلتا ہے۔۔۔ واقعہ نہیں بدلتا۔ اگر انسان کا اندر نہ بدلے تو باہر واقعہ بھی نہیں بدلتا ۔ حقیقتِ حال یہ ہے کہ ہم اس وقت حالتِ جنگ میں ہیں۔ ہم پر ایک جنگ مسلط کر دی گئی ہے اور اعلانِ جنگ ابھی باقی ہے۔ قوم منتشر ہے کہ جنگ کا بگل ابھی بجانہیں۔ دراصل اعلانِ جنگ کیلئے ایک راہنما کی ضرورت ہوتی ہے اور راہنماابھی سامنے آیا نہیں ۔۔۔ قوم فی الحال سیاستدانوں کے ساتھ گزارہ کر رہی ہے۔
سیاستدان اور راہنما میں بس وہی فرق ہے‘ جوشاہین اور کرگس میں ہواکرتاہے۔ راہنما صرف راہنمائی کرتا ہے، وہ مدح و ذِمّ سے بے نیاز ہوتا ہے۔اسے توصیف کی حاجت نہیں اور تنقید سے وہ خائف نہیں ۔ وہ طے شدہ اور پامال راستوں پر چلنے کی بجائے نئے راستے تراش لیتاہے۔۔۔ اور اسی تراش خراش سے وہ اپنی قوم کی فکری صورت گری کرتا ہے ۔وہ غیر مقبول فیصلے کرتاہے،لیکن ان فیصلوں کے نتائج اسے مقبول کردیتے ہیں۔سچ بولنے کا فیصلہ یقینی طور پر ایک غیر مقبول فیصلہ ہے ۔سچا آدمی مقبولیت کی چوکھٹ پر نہیں ‘ قبولیت کے دَرپر جھکتا ہے ۔ راہنما کا زادِ راہ اخلاص اور صداقت ہوتا ہے ۔۔۔اخلاص جب قبول ہو جاتا ہے تو قابلیت پیدا کر دی جاتی ہے۔ قابلیت قبول نہیں ہوتی ‘ بلکہ یہ اخلاص ہے جو قابلیت کو قابلِ قبول بناتا ہے ۔ پس راہنما صرف قوم کیلئے سوچتا ہے۔۔۔ اور سیاست دان اپنے لیے۔۔۔اپنی پارٹی کیلئے، اپنے بینک اور پھرووٹ بینک کیلئے! راہنما کاجوہر اِخلاص ہے‘ سیاستدان کاہتھیار نفاق ہے! اخلاص کے ساتھ بسر کرنا ایک کارِ دشوار ہے۔ اخلاص کا راستہ درحقیقت درویشی کا راستہ ہے۔۔۔ کہ اِخلاص اپنے مزاج اور مفاد کی نفی کا نام ہے۔مفاد کی نفی تو سمجھ میں آتی ہے ۔۔۔ لیکن مزاج کی نفی کون سمجھے گا! مزاج کی نفی۔۔۔ کا ثبات ۔۔۔ ملامت کی گلی سے گذرے بغیرممکن نہیں!مفاداور نفاق کا سبق آسان ہے ، اس کیلئے صرف چالاک ہونا کافی ہے۔ نفاق ہرمرحلے اور ہر فیصلے میں اپنے مفاد کا تحفظ چاہتا ہے۔ جب ذہن میں مفاد پرستی دَر آتی ہے ‘تو دل میں نفاق بھی نقب لگا لیتا ہے۔
راہنما قوم کو وحدتِ فکر دیتاہے۔ قومیں وحدتِ فکر اور وحدتِ عمل سے پہچانی جاتی ہیں۔ایک طرزِ فکر ایک قوم کی تشکیل کرتا ہے۔ جرمن قوم اس لئے جرمن ہے کہ وہ جرمنوں کی طرح سوچتے ہیں، جب جرمنی میں دو اندازِ فکرپیدا ہوئے تو ایک ہی رنگ نسل اور زبان کے باوجودجرمنی دو ملکوں میں منقسم تھا، مشرقی اور مغربی جرمنی۔ مشرقی جرمنی سوشلسٹ طرزِ فکر اپنائے ہوئے تھا اور مغربی جرمنی کے لوگ سرمایہ دارانہ نظام پر متفق تھے۔۔۔یعنی صرف معیشت کے متعلق مختلف طرزِ فکر نے ایک رنگ نسل اور زبان بولنے والوں کودو قوموں میں تقسیم کر دیا۔ دیوارِ برلن اینٹ پتھر کی نہیں‘ نظریے کی دیوارتھی ۔دو قومی نظریہ مغرب میں ثابت ہوا پڑا ہے، لوگ ابھی مشرق میں اس کی نظیر ڈھونڈ رہے ہیں۔۔۔ مشرقی اور مغربی جرمنی تو قصۂ پارینہ ہوئے، آج کے دور میں یہ مثال شمالی اور جنوبی کوریا کی شکل میں موجود ہے۔۔۔ گویا نظریے کاڈھول چاروں اور بج رہا ہے۔ لوگ معیشت کے نظریے پر ایک دوسرے سے علیحدہ ہو جاتے ہیں ، ہمیں دینی نظریے کی بنا الگ ہونے کاحق حاصل نہیں ؟ قومیں نظریئے کی بنیاد پر اُٹھتی ہیں اور نظریے سے عدم وابستگی کی بناپر منہدم ہوجاتی ہیں ۔جب مشرقی جرمنی والوں نے سوشلزم کا نظریہ تج دیا تودیوارِ برلن کاگرنامحض تاریخی نہیں ‘ ایک فطری حقیقت تھی۔ قطبِ ارشاد حضرت واصف علی واصف ؒ کے اس معروف قول:۔۔۔ ’’پاکستان نور ہے اور نور کو زوال نہیں ‘‘۔۔۔ سے مراد یہی ہے کہ پاکستان کی اَساس جس نظریئے پر استوار کی گئی ہے ‘وہ نظریہِ زوال آشنا نہیں۔ نظریہ پاکستان کی بنیادایک کلمۂ وحدت ہے ‘ کلمہ صداقت ہے ۔۔۔لاالٰہ الّا اللہ محمد الرسول اللہ ۔۔۔ جب تک ہم اجتماعی طور پراِس نظریے کے ساتھ وابستہ ہیں‘ ملک کی سلامتی کو خطرہ نہیں۔پاکستان برصغیر میں بسنے والے مسلمانوں کا ایک متفقہ اجتہاد تھا۔۔۔اور اصولِ اجتہاد میں یہ شامل ہے کہ جس اَمر پر ایک مرتبہ اجتہاد ہو چکا ہو ‘ اس پر دوبارہ نہیں ہوتا۔برّ صغیر پاک وہند میں بسنے والے مسلمانوں کا یہ متفقہ متحدہ اور جمہوری فیصلہ تھا کہ اُن کاطرزِ فکر ہندوؤ ں سے جد اہے ، اس لیے انہیں اپنے لیے ایک علیحدہ گھر چاہئے۔۔۔ یہ ایک سیدھی سے بات ہے، اسے سمجھنے کیلئے کوئی لمباچوڑا فلسفہ درکار نہیں، اسے نظریہ کہہ لیں۔۔۔ اسے نظریۂ پاکستان کہہ دینے میں آخر حرج ہی کیا ہے ؟؟ا س نظریے پر یقین ہمیں مجتمع رکھے گا اور شک منتشر کردے گا!!
ایک طرزِ فکرایک قوم پیدا کرتا ہے۔ یکساں طرزِ فکر قوموں کو مجتمع بھی کرتا ہے اور منظم بھی!! چند ہزارمنظم اور تربیت یافتہ انگریز کتنے کروڑ غیر منظم ہندوستانیوں پر ایک سو سال تک ببانگِ دُہل حکومت کرتے رہے ۔دراصل قوم اُس وقت بنتی ہیں جب اُس کے افراداجتماعی مفاد کی خاطر انفرادی مفاد قربان کرنے کا ہنر سیکھ لیتے ہیں۔ کہتے ہیں‘برّ صغیر میں انگریز حکومت کی بنیاد اُس انگریز ڈاکٹر نے رکھ دی تھی جس نے مغل شہزادی کے لاعلاج مرض کا کامیاب علاج کرنے کے بعد معاوضے میں اپنے لیے ہیرے جواہرات قبول کرنے کی بجائے مغل شہنشاہ سے اپنی قوم کے تاجروں کیلئے آزادانہ تجارت کا پروانہ حاصل کر لیا تھا۔ایسٹ انڈیا کمپنی اپنے قدم جمانے کیلئے اِس انگریز معالج کا احسان نہیں بھول سکتی ۔
منتشر خیال اور منتشر حال عوام کو قوم نہیں ‘ ہجوم کہتے ہیں۔جنگیں ۔۔۔قومیں لڑا کرتی ہیں ‘ منتشر ہجوم نہیں۔ جنگیں دشمنوں سے لڑی جاتی ہیں۔۔۔اور ایک ہم ہیں کہ اِس جنگ میں اپنے دشمنوں کی نشاندہی تک نہیں کر پا رہے ۔ بیرونی سرحدوں پر دشمن یونیفارم میں ہے‘ پہچان میں آجاتاہے لیکن اندرونِ خانہ دشمن بغیر یونیفارم کے ہے ۔۔۔ دندناتا پھرتا ہے اورپہچان میں نہیں آرہا۔ اگرہمارا فکرآئینے کی طرح شفاف ہوتاتو اپنے پرائے کی پہچان آسان ہوتی، لیکن شومئی قسمت کہ تاریخ کے اِس موڑ پر ہماری فکری وحدت دھندلا سی گئی ہے ۔ بصیرت کمزور ہو تو بصارت بھی کام نہیں آتی۔ قوموں کی زندگی میں فکری موڑ بہت اہم ہوتے ہیں ۔۔۔اور ایسے ہی دوراہوں پر بڑے بڑے دانشور دام ہمرنگِ زمیں سے دھوکا کھا جاتے ہیں۔
’’زمینی حقائق‘‘ کے نام پر قنوطیت اور مصالحت کے نام پر مصلحت کا سبق دینے والے بیربل قوم کو فکری انتشار میں مبتلا کر رہے ہیں۔ ہمارے دانشور دائیں اور بائیں بازو ؤں میں منقسم ہیں ۔۔۔اس لئے قوم کے ہاتھ کچھ نہیں آتا۔کچھ لوگ لیفٹسٹ ہیں ، کچھ رائٹسٹ ۔۔۔اور راہِ اعتدال اورمستقیم پر بہت کم !!دانشوروں کی بہتات ہے ‘اور دانش مندوں کاکال پڑا ہوا ہے! لیفٹسٹ حضرات ملک کی نظریاتی سرحد وں کا سرِ عام تمسخر اُڑاتے ہیں، وہ کسی نظریۂ حیات کے تحت ملک اور معانی کا تعین کرنے والوں کو احمق تصور کرتے ہیں اور جغرافیائی سرحد وں پر کھڑے اسلحہ تانے اوریونیفار م میں ملبوس دشمن کو دشمن ماننے کیلئے تیار نہیں، اُن کا کہنا ہے کہ آج کے دَور میں صرف سائنس اور معیشت ہوتی ہے ، دشمن وشمن کچھ نہیں۔۔۔ یہ سب تمہار فریبِ نظر ہے۔ دوسری طرف رائٹسٹ (دائیں بازو والے )ہیں‘ وہ اتنے ’’سیدھے ‘‘ہیں کہ پاس کھڑے دشمن کو پہچان نہیں پاتے ۔ وہ اپنے دائیں بائیں کھڑی ننگی جارحیت کیلئے توجیہات کے لباس تجویز کرتے رہتے ہیں۔ وہ ملک کی سیکیورٹی فورسز پر حملہ کرنے والوں کو دشمن تصور نہیں کرتے ۔وہ بیان کی حد تک بھی اُن کی مذمت نہیں کرتے ۔۔۔ وہ مذمت کی بجائے معذرت کرتے رہتے ہیں ۔اندرونِ خانہ آتش و آہن کی تخریب کاری بھی اُن کے رویے کی سرد مہری نہیں توڑ سکی!!نتیجہ یہ ہے کہ قوم منتشر الخیال ہے، لوگ گروہوں اور ٹولوں میں تقسیم ہیں ،مملکت کو درپیش کسی مسئلے اور خطرے پر فکری ہم آہنگی کا شدید فقدان ہے۔قوم کو یک نظر اور یک سُو کرنا آخر کس کا کام ہے۔۔۔کیا تنخواہ دار تجزیہ کار یہ کام سرانجام دیں گے؟
واہگہ، چکوٹھی اور کھوکھراپار مونا باؤمحض جغرافیائی لکیریں نہیں ‘ نظریاتی سرحدوں کی علامتیں بھی ہیں۔ جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت فوج کا کام ہے اور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت دانشوروں کے ذمّہ ہے۔ جنگوں میں صف بندی اہم ہوتی ہے ۔۔۔ دوست کو دوست اور دشمن کو دشمن کی صف میں کھڑا کر دیں‘پہلا مرحلہ سر ہوجائے گا ۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے: ’’دوست تین قسم کے ہوتے ہیں، اوّل دوست ، دوست کا دوست اور دشمن کا دشمن ۔۔۔ دشمن کی بھی تین قسمیں ہیں‘ دشمن ، دشمن کا دوست اوردوست کا دشمن ۔یاد رکھیں !ہر وہ فرد ، نعرہ اور نظریہ ہمارادشمن ہے‘ جوہمارے وطن کی نظریاتی اور جغرافیائی وحدت میں ترمیم چاہتا ہے۔ نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کوکنفیوژ کرنے والا دراصل لائن آف کنٹرول کے اُس پار فائرنگ کرنے والی دشمن فوج کی مدد کر رہاہے۔۔۔ دَر پردہ۔ یہ نفاق ہے۔۔۔ وہ کفر !مملکتِ مدینہ کی طرح مملکتِ پاکستان بھی روزِ اوّل سے دونوں محاذوں پر جنگ لڑ رہی ہے، باہر کافرو یہود اور اندر منافقین!! دراصل نفاق ہی وہ فتنہ ہے جو قتل سے زیادہ شدید ہے۔ کفر گردن کاٹتا ہے ، نفاق جڑ !!کفر اور نفاق ایک ہی مشن پر ہیں ۔۔۔ صرف محاذ الگ الگ ہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *