Point of Strength سے…

27 فروری کی صبح 2 بھارتی طیاروں کو مار گرانے کی پاکستان کی کارروائی جنگی ماحول کو Escalate کرنے کے لیے نہیں De-escalate کر نے کے لیے تھی۔ یہ ''اصول‘‘ ازل سے چلا آ رہا ہے اور ابد تک رہے گا کہ باہم مخاصمت رکھنے والے فریقوں میں، ایک کی کمزوری، دوسرے کو جارحیت پر اکساتی ہے۔ پاکستان نے در اندازی کرنے والے بھارتی طیاروں کو گرا کر اپنی دفاعی صلاحیت کا بھرپور اظہار کر دیا تھا۔ حریف کو مذاکرات کی میز پر لانے (اور مذاکرات کو کامیاب بنانے) کے لیے ضروری ہے کہ آپ Point of Strength پر ہوں۔ یہی ''کلیہ‘‘ جنرل ضیاء الحق نے استعمال کیا تھا، جب بھارت فوجی مشقوں کی آڑ میں، جنگ میں استعمال ہونے والے بھاری اسلحے کے ساتھ پاکستان کی سرحد پر آن پہنچا تھا۔ تب ضیاء الحق جے پور میں پاک بھارت کرکٹ میچ دیکھنے کے بہانے (میزبان ملک کی دعوت کے بغیر) وہاں جا پہنچے، اور وزیر اعظم راجیو گاندھی کے کان میں چپکے سے وہ صور پھونک آئے جس سے اس کا جنگی جنون ہرن ہو گیا، جنگ کے بادل چھٹ گئے اور ٹمپریچر معمول پر آ گیا۔
واجپائی ہندو قوم پرست بی جے پی کا ''سافٹ فیس‘‘ تھے لیکن 11 مئی 1998ء کے ایٹمی دھماکوں کے بعد، واجپائی حکومت کے انتہا پسند وزیر، پاکستان کے خلاف جارحانہ عزائم میں قابو سے باہر ہوئے جا رہے تھے۔ ایڈوانی تو صبح شام ایک ہی مالا جپنے لگا، پاکستان انڈین کشمیر کو بھول کر اپنے والے کشمیر کی خیر منائے۔ پاکستانی تنصیبات پر حملے کے لیے، اسرائیلی طیاروں کے ہندوستان پہنچ جانے کی خبریں بھی آئیں۔ پاکستان کے جوابی ایٹمی دھماکوں سے پہلے ایک دو راتیں اسی طرح بھاری تھیں، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے بقول جس طرح اب 27 اور 28 فروری کی شب بہت بھاری تھی۔ ایسے میں پاکستان کی طرف سے سخت تر جوابی کارروائی کا پیغام کارگر رہا اور پاکستان نے 28 مئی کی سہ پہر خیر و عافیت کے ساتھ اپنی ایٹمی صلاحیت کا بھرپور اظہار کر دیا۔
اہم خارجی اور دفاعی امور پر سول اور ملٹری لیڈرشپس ''سیم پیج‘‘ پر ہیں۔ بھارت کے ساتھ پرُ امن تعلقات پر دونوں کا اتفاق ہے۔ فوجی قیادت ایک سے زائد بار اس مؤقف کا بر ملا اظہار خیال کر چکی۔ وزیر اعظم عمران خان کی یہ خواہش بھی دیرینہ ہے۔ مبصرین اس حوالے سے خان صاحب کی 25 جولائی 2018 کے انتخابات کے بعد کی تقاریر کا حوالہ دیتے ہیں، لیکن اس حوالے سے بھارتی صحافی کرن تھاپر سے ان کا انٹر ویو بھی ہے۔
30 اکتوبر 2011 کے سونامی جلسے (مینار پاکستان) کے بعد یہ انٹرویو ایک ایسے لیڈر سے تھا جسے مستقبل کا وزیر اعظم سمجھا جا رہا تھا۔ پانچ اور گیارہ دسمبر 2011 کو CNN-IBN سے نشر ہونے والا یہ انٹرویو آج بھی نیٹ پر موجود ہے۔ ظاہر ہے، اس کا بڑا حصہ پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے تھا اور اس میں خان صاحب نے پاکستان میں تمام دہشت گرد تنظیموں پر پابندی لگانے، اور پاکستان اور انڈیا کی سرزمین کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کے واشگاف اعلان کے علاوہ، دونوں ملکوں میں نارملائزیشن کے لیے کشمیر کو ''بیک برنر‘‘ پر رکھنے کی تجویز بھی پیش کی تھی۔ وہ اس یقین کا اظہار کر رہے تھے کہ دونوں سول حکومتیں باہم مل بیٹھیں تو ڈائیلاگ کے ذریعے تمام مسائل حل کر سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا، تحریک انصاف اقتدار میں آئی تو ہمارا اصرار ہو گا کہ پاکستان سے کوئی انتہا پسند گروپ آپریٹ نہ کرے۔ دنیا بدل چکی ہے۔ افغان جہاد کے دوران قائم کیے گئے گروپوں کو ''اثاثہ‘‘ سمجھنے کا تصور فرسودہ ہو چکا۔ آخر میں ان کا کہنا تھا، میری پرورش لاہور میں ہوئی‘ اس لیے میں انڈیا سے نفرت کے جذبات کے ساتھ پروان چڑھا‘ لیکن ہندوستان آنے جانے لگا، تو وہاں ایسے دوست اور اتنی محبت ملی کہ یہ سب کچھ ختم ہو گیا۔ آپ جانتے ہیں، میرا بہترین دوست وکرم ہے (جو انڈین ہے)۔
گیارہ مئی 2013 کے انتخابات میں خان صاحب پاکستان کے وزیر اعظم نہ بن سکے‘ لیکن 7 دسمبر 2013 کو دہلی میں ہندوستان ٹائمز کے زیر اہتمام گیارہویں لیڈر شپ سمٹ سے خطاب میں انہوں نے پاک بھارت سرحد پر مشترکہ سول، نیوکلیئر پلانٹ لگانے کی تجویز پیش کی تھی۔ کرن تھاپر سے 2011 کے انٹرویو اور دہلی میں 2013 کے خطاب کا حوالہ ہم نے اس لیے دیا کہ پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے نیک خواہشات، کوئی وقتی ابال ہے، نہ دنیا کو متاثر کرنے کے لیے ایک ڈپلومیٹک موو، بلکہ یہ ان کی سوچی سمجھی رائے ہے جس کے دیانتدارانہ (اور بے باکانہ) اظہار میں انہیں کبھی عار نہیں رہی۔
پاکستان کے خلاف در اندازی کے مرتکب انڈین ونگ کمانڈر ابھے نندن کی رہائی کا یکطرفہ فیصلہ بھی پاکستان کی امن پسندی اور جنگی ماحول کے خاتمے کی خواہش کا ایک اور اظہار ہے، حالانکہ بھارتی سیکرٹری خارجہ نئی دہلی میں میڈیا سے بریفنگ میں بڑ ہانک چکا تھا کہ ان کا ملک اپنے افسر کی رہائی کے لیے پاکستان سے درخواست کرے گا، نہ ان کے ایٹمی ہتھیاروں کے رعب میں مذاکرات کی میز پر آئے گا۔ پاکستان کے سیاسی، سفارتی اور عسکری تجزیہ نگاروں (اور سیاسی و مذہبی جماعتوں) کی طرف سے بھی، بھارت کی مسلسل ''شر سگالی‘‘ کے باوجود پاکستان کے یکطرفہ اظہار خیر سگالی کی تحسین کی گئی، اگر چہ ایک رائے یہ بھی تھی کہ ونگ کمانڈر نندن کی گرفتاری اپنے ریٹائرڈ کرنل حبیب کی رہائی کے لیے سودے بازی کا اچھا موقع تھا، جسے انڈین را نے، ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں ملازمت کی آڑ میں ٹریپ کیا اور وہ کئی ماہ سے دشمن کی اذیت ناک قید میں ہیں۔ (ہمارے ہاں تو انڈین قیدی کے لیے دو، اڑھائی دن کی حراست بھی جنیوا کنونشن کی سہولتوں سے زیادہ آرام دہ تھی۔)
وہ جو اقبال نے کہا تھا، خاص ہے ترکیب میں قومِ رسول ہاشمی۔ کسی بڑے بحران، کسی سنگین چیلنج میں پاکستانی قوم کا معاملہ بھی یہی ہوتا ہے۔ یہ معاملہ ہندوستا ن کی طرف سے ہو تو قوم رسولِ ہاشمی کا جذبہ بے حد و بے کنار ہو جاتا ہے۔ ہندوستان کے جارحانہ عزائم کے جواب میں پاکستانی قوم اپنے تمام تر اختلافات اور تعصبات کو بھول کر متحد و متفق ہو گئی۔ اس حوالے سے اپوزیشن جماعتوںکی قیادت کا رویہ بھی قابلِ رشک اور قابل قدر ہے لیکن کیا یہ بات حکمران جماعت (اور اس کی لیڈرشپ) کے حوالے سے بھی کہی جا سکتی ہے؟ پلوامہ واقعہ پر مودی کے جارحانہ عزائم فوری قومی اتفاق رائے کے متقاضی تھے اور اس کے اہتمام کی زیادہ ذمہ داری حکمران جماعت پر تھی۔ سعودی ولی عہد کی آمد نے اس کا موقع بھی مہیا کر دیا تھا لیکن اس دوران اور اس کے بعد بھی ''چور کو چور نہ کہیں، ڈاکو کو ڈاکو نہ کہیں تو کیا کہیں‘‘ کی گردان جاری رہی۔ سپیکر سندھ اسمبلی کی اسلام آباد میں گرفتاری (اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ناروا سلوک) کا واقعہ اور قومی اسمبلی کے اجلاس میں خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر کے مسئلے پر ہنگامہ بھی اس دوران ہوا۔ پارلیمانی لیڈروں کے لیے عسکر ی قیادت کی بریفنگ میں بھی وزیر اعظم (اپنے چیمبر میں موجود ہونے کے باوجود) تشریف نہ لائے۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بھی قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف میں فاصلہ برقرار رہا۔ ٹی وی کے سامنے بیٹھے ہوئے کروڑوں پاکستانیوں کی آنکھیں دونوں میں مصافحہ کے خوش کن مناظر کو ترس کر رہ گئیں اور... ایک گلہ شہباز شریف سے بھی، انہوں نے پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کے حوالے سے ذوالفقار علی بھٹو اور نواز شریف کا ذکر تو کیا (اور بجا طور پر کیا) اول الذکر نے اس کا آغاز کیا تو مؤخرالذکر نے بے پناہ عالمی دباؤ کے باوجود دھماکوں کا جرأت مندانہ فیصلہ کیا لیکن ضیاء الحق نامی ایک شخص بھی تھا جس کے دور میں پاکستان نے یہ صلاحیت حاصل کی۔ کچھ کریڈٹ ان کا ( اور ان کی افغان پالیسی کا) بھی تھا‘ لیکن ڈکٹیٹروں کے ساتھ یہ المیہ بھی تو ہوتا ہے کہ ان کے جانے کے بعد انہیں ''اون‘‘ کرنا، ان کی اچھی باتوں کا ذکر کرنا بھی آسان نہیں ہوتا۔
بشکریہ روزنامہ دنیا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *