کشیدگی فوری طور پر ختم ہونی چاہیے۔

دنیا میں بہت کم ایسے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں جو جنگ کے لیے سنسنی پیدا کرنے والے اینکرز، سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ شروع کرنے والے جنگجو اور باز کے بچوں کی طرح کے جذباتی لوگ جنہوں نے کبھی گولی چلتے بھی نہیں دیکھی ہوتی اور سٹوڈیو میں بیٹھ کر کنفگ فو دیکھنے کے عادی ہوتے ہیں کے رویے سے زیادہ محضوض  کر سکتے ہوں۔  ان گھر بیٹھے تمام جنگجوؤں کو ہفتے بھر کے لیے لائن آف کنٹرول پر ایک بنکر میں بٹھایا جائے اس سے پہلے کہ یہ اپنی قیادت کو جنگ کے مشورے دینے میں لگ جائیں۔

وزیر اعظم عمران خان نے صحیح اشارہ دیا کہ اگر آپس میں اس طرح کی سٹرائیکس ہوتی رہیں تو پھر یہ سلسلہ کسی کے قابو میں نہیں رہے گا۔ اگرچہ انہوں نے یہ الفاظ از خود نہیں کہے، یہ حقیقت کہ آپس میں یہ جنگی کھیل کھیلنے والے دونوں ممالک ایٹمی طاقت ہیں اس بات کو ہر ایک کو جاننے کی ضرورت ہے۔ اس کشیدگی کو مزید بڑھانے کی بجائے انہوں نے بھار ت کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسئلہ کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا۔  بھارت کو اس دعوت کو قبول کرلینا چاہیے ۔

جیسے جیسے ہم سیڑھی پر چڑھتے جاتے ہیں ، صورتحال  ہاتھ سے باہر ہوتی جاتی ہے اور کھیل ہاتھ سے کھسکتا نظر آتا ہے ۔ خیبر پختونخواہ میں پہاڑ کی چوٹی پر ایک بے فائدہ سٹرائیک کے ساتھ انڈیا نے ایک پیغام دیا کہ ان کے پاس قابلیت ہے کہ وہ اندر آ کر پاکستان کو تباہ کر سکتے ہیں اور اگلی سٹرائیک ایک زیادہ اہم ٹارگٹ ثابت ہو سکتی تھی۔ لیکن پاکستان نے 24 گھنٹوں کے اندر ہی اپنے علاقے میں ایک سٹرائیک کرتے ہوئے حساب برابر کر دیا۔ "پہلا راؤنڈ ختم"، دہلی سے اس بحران کے خاتمے کے خواہاں ہیپی مان جیکب نے ٹویٹ کیا۔ "میرے خیال میں یہ سب اچھا نہیں ہوا۔ راؤنڈ 2 ہو گا یا یہاں بات ختم ہو جائے گی؟!"

اب دونوں ممالک نے  اپنا اپنا موقف بیان کر دیا ہے اور یہ دکھا دیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کی سرحدوں کے اندر کاروائی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وزیر اعظم نریندرا مودی نے سیڑھی پر ایک قدم رکھا یہ سوچتے ہوئے کہ شاید انہیں پاکستان کو سزا دینے کا ایک موقع مل سکے اور وہ اپنے حلقے کے عوام کی نظروں میں سرخرو ہو سکیں  لیکن ایسا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔  اب ان کے پاس موقع ہے کہ وہ یا تو سیڑھی پر اگلا قدم رکھیں یا اپنے موقعے کی تلاش کو وہیں روک دیں۔ راؤنڈ 2 یا کھیل کا خاتمہ؟

مسلسل کشیدگی کا مطلب ہے کہ صلاحیت کے مظاہرے  کیے بغیر ایک نظریہ پروموٹ کیا جائے۔ اب مودی کو یہ دکھانے کی ضرورت ہے کہ وہ پاکستان  کو جوابی کاروائی سے روک سکتے ہیں  اور انہیں یہ کشیدگی بڑھائے بغیر کرنا ہو گا۔ یہی مقام ہے جہاں وزیر اعظم عمران کے انتباہ کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔ جتنی کشیدگی بڑھتی جائے گی، ائیر سٹرائیکس ہوں گے، لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کے واقعات ہوں گے، اتنا ہی حالات کو سمجھنا مشکل ہوتا جائے گا  اور غلطی کے امکانات بڑھتے جائیں گے  اور معاملہ بگڑتا جائے گا۔ کشیدگی کی سیڑھی پر چڑھتے چڑھتے معاملات حد سے باہر ہو جائیں گے۔

جنگ کی صورت میں مودی کو کچھ نہیں ملنے والا۔ نہ کوئی انعام، نہ کوئی ٹرافی جو وہ گھر لائے۔ سیڑھی کا ہر قدم  چڑھنے کے بعد بے عزت ہوئے بغیر نیچے اترنا مشکل ہو گا اور بے عزتی ایسی چیز ہے جو مودی برداشت نہیں کر پائیں گے کیوں کہ یہ عزت ہی ہے جس کی خاطر وہ یہ کھیل کھیل رہے ہیں۔

اور میڈیا میں بیٹھے انتقام کے لیے اصرار کرنے والوں کو پر سکون رہنے کی ضرورت ہے اور پہلے یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ وہ کس حد تک آگے جانا چاہتے ہیں (اور آئیں ہم یہاں تسلیم کر لیتے ہیں کہ  بھارت میں پاکستان  کے مقابلے میں کہیں زیادہ میڈیا جنگی جنون کو بھڑکانے کی کوشش کر رہا ہے۔)۔ جنگ کوئی ویڈیو گیم نہیں، اور ایٹمی ہتھیار کوئی کھلونے نہیں۔ اور بڑے بڑے مردوں اور عورتوں  کو یہ بتانا پڑتا ہے تو یہ بڑی شرمندگی کی بات ہے۔ لیکن جو ہم دیکھ رہے ہیں اس کے حساب سے بدقسمتی سے یہ ضروری ہو گیا ہے۔

ایک مثال لیجیے۔بھارت کے ایک سینئر صحافی نے  بھارتی در اندازی اور سٹرائیک والے دن ایک ٹویٹ کیا  جس میں انہوں نے لکھا: "یہ انتقام نہیں بلکہ یہ اپنا دفاع ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ دفاعی قوت اتنی مضبوط ہو جائے کہ دشمن اس کا جواب دینے کے قابل نہ رہے۔ اس طرح کا ناقابل تسخیر دفاع ایٹمی ہتھیاروں کو غیر متعلق کر دے گا۔ "

نہایت احترام کے ساتھ میں ان صاحب کو بتانا چاہتا ہوں کہ باوجود ان کی کوالیفکیشن اور تجربہ کے  ان کے الفاظ میں کوئی وزن نہیں ہے۔ جنگ کی کسی بھی سطح پر ایٹمی ہتھیار کبھی بھی غیر متعلق نہیں رہیں گے۔ اس حقیقت کا ادراک نہ کر سکتا اصل میں ایٹمی ہتھیاروں کی اہمیت سے نا واقفیت کے مترادف ہے۔

ہرمن  کہن کے الفاظ میں اگر بیان کیا جائے تو  اصل مسئلہ یہ ہے کہ جنگ کے نقصانات اور اثرات کو فراموش کر دیا جاتا ہے  اور ایسے لوگ اس معاملے پر رائے زنی کرنے لگتے ہیں جنہوں نے جنگ میں اپنا کوئی کھویا نہیں ہوتا۔

امریکہ میں بھی 1950 اور 1960 کی دہائی میں امریکہ کے ایٹمی ہتھیاروں  کے معاملے میں گفتگو نوجوان سویلین ٹیکنوکریٹس نے ہائی جیک کر لی تھی جنہوں نے فوج کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور جنگ کی حمایت کرنے والے تمام نظریات کو مسترد کر دیا۔  اس وقت انہیں ''وز کڈز'' کا نام دیا گیا، اور جب کینیڈی نے ان کی ایک بڑی تعداد کو اپنی کابینہ میں لیا  تو وہ حکومت کو ویت نام کی ایک بڑی تباہی کی طرف لے گئے۔ ان میں سے ایک رابرٹ مکنمارہ تھے اور انہوں نے اس جنگ اور ''وز کڈز'' کے بارے میں ایک مفصل کتاب بھی لکھی تھی۔ مہربانی کر کے اسے پڑھ لیں۔

یہ  نہیں کہا جا سکتا کہ خارجہ  پالیسی  یا دھمکی کے خطرات کے معاملے میں  عوام کی آواز کوئی معنی نہیں رکھتی۔ لیکن پاکستان کی طرف سے امن کی خواہش اور جنگ کے کنٹرول سے باہر ہو جانے کی جو باتیں کی جا رہی ہیں ان کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستانی فوج  بھارتی ہٹ دھرمی کا جواب دینے کے لیے تیار نظر آتی ہے۔

جس طرح فوجی جنگ، اس کے دھوئیں، اس سے پیدا ہونے والی تکلیف اور کنفیوژن  کو جانتے ہیں اس طرح صحافی اور سوشل میڈیا پر شور مچانے والے کبھی نہیں جان سکتے۔ میں دونوں ممالک کی قیادت کو یہ بتانے کا اختیار  نہیں رکھتا کہ  انہیں کیا کرنا چاہیے۔ لیکن میں اپنے ہم پیشہ ساتھیوں سے پرزور طریقے سے کہہ سکتا ہوں کہ سکون میں آ جائیں اور جنگ کے ڈھول پیٹنا بند کر دیں۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *