کلکتے کا جو ذکر۔۔۔

پہلی فروری کو ہمارا جہاز آن و شان سے ٹھیک 9:45پر کلکتہ ائیر پورٹ پر اترا۔ دلی سے دو گھنٹے کا سفر پلک چھپکتے ہی یو ں نکل گیا کہ ہمیں پورے سفر کا احساس ہی نہ ہوا۔مصر، ایران اور ہندوستان کے تمام مہمانوں کے ساتھ ائیر پورٹ کے باہر نکل کر اپنے دوست اعجاز احمد، شمس الدین اور بھائی نعیم کا انتظار کرنے لگا۔تھوڑی ہی دیر میں میرے تینوں دوست آدھمکے اور مجھے گلے لگا کر کلکتہ پہنچنے پر خوش آمدید کہا اور اپنی خوشی کا اظہار کرنے لگے۔ابھی ہم محوِ گفتگو ہی تھے کہ کسی نے بتایا کہ مغربی بنگال اردو اکاڈمی کے بھیجے ہوئے دو گاڑی مہمانوں کو لینے کے لیے تیار ہے۔تمام مہمان گاڑی میں سوار ہو نے کی غرض سے تیار ہی ہوئے تھے تبھی بھائی اعجاز نے یاد دلایا کہ مہمانوں کو ہوٹل پہنچانے کے لیے اکاڈمی کا کوئی آدمی موجود نہیں ہے۔ ایسی صورت میں ہم نے اعجاز سے مشورہ کر کے مہمانوں کو اکاڈمی کی طرف سے انتظام شدہ ہوٹل میں پہنچانے کا بندوبست کیا اور خود بھی ہوٹل کی جانب چل پڑا۔ مجھے اس وقت اپنے شہر کی عزت اور اکاڈمی کے رتبے کا خیال آیا اور میں یہ بھول بیٹھا کہ میں خود لندن سے آرہا ہوں۔
دوپہر تین بجے بیرونی مہمانوں کو کلکتہ گھمانے اور سیر کرانے کے لیے سب سے پہلے کلکتہ کے تاریخی وکٹوریہ میموریل ہال پہنچا۔ ملکہ وکٹوریہ کے مجسمے کی موجودگی اس بات کی یاد دہانی کرا ر ہی تھی کہ کلکتہ اور لندن شہر میں کتنے قریب کا رشتہ ہے۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ انگریزوں نے کلکتے کو ہمیشہ اپنا پسندیدہ شہر مانا تھا ۔ جس کی وجہ سے یہاں آج بھی لندن کی جھلک دِکھتی ہے۔ مہمانوں نے دل بھر کر وکٹوریہ میموریل ہال کی عمارت کو دیکھا اور کئی گھنٹے گزارنے کے بعد ہم دریائے ہگلی کی سیر کے لیے نکل پڑے۔جو مہمان ہمارے ساتھ تھے ان میں الازہر یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر یوسف عامر ، عین شمس یونیورسٹی کی پروفیسر ڈاکٹر ولاء جمال العسیلی، ڈاکٹر رانیا فوزی اور مروہ لطفی ہیکل السباعی اور ایران سے تشریف لائی ہوئی ڈاکٹر فرزانہ اعظم لطفی۔ اس کے علاوہ الہ آباد کے سابق پروفیسر علی احمد فاطمی اور فیکلٹی آف آرٹس، جموں یونیورسٹی کے ڈین جناب ڈاکٹر شہاب عنایت ملک بھی ہمارے ہمراہ تھے۔
شام دھیرے دھیرے اپنا اندھیرا پھیلا رہی تھی۔ کلکتہ کی خوبصورت سڑکیں بلو اور سفید چھوٹے چھوٹے قمقموں سے آرائش لیمپ پوسٹ ہمارے استقبال کے لیے اپنی بانہیں پھیلائے مرحبا مرحبا کہہ رہی تھیں۔ ابھی ہم گاڑی میں بیٹھے باہر کا نظارہ کر رہی رہے تھے کہ ڈرائیور نے دریائے ہگلی پہنچنے کا اعلان کر دیا۔ دریائے ہگلی مجھے لندن کے دریائے تھیمس کی بہت یاد دلا رہا تھا۔ وہی ناز وادا سے پانی کا بہنا اور لوگوں کا جمِ غفیر اس بات کا ثبوت تھا کہ کلکتہ کے لوگ دریائے ہگلی سے کتنا لطف و اندوز ہوتے ہیں۔پہلے تو ہم مہمانوں کو ایک بوٹ کے ذریعہ دریائے ہگلی کی سیر کرانا چاہتے تھے لیکن ایک پولیس آفیسر سے دریافت کرنے پر پتہ چلا کہ بوٹ صرف ہفتہ اور اتوار کو چلائے جاتے ہیں۔ ہمیں اس بات سے تھوڑی مایوسی ہوئی اور ہم اپنے بیرونی مہمان سے شرمندہ بھی ہوئے۔ لیکن ہم تھوڑی دیر کے لیے دریائے ہگلی کے کنارے چہل قدمی کرتے ہوئے کبھی پانی پوری یا ’پھچکا‘ کھا رہے تھے تو کبھی کلکتے کا مشہور بھانڑ میں پیش کی ہوئی چائے سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔
شام کی تاریکی سے کلکتہ ڈھک تو گیا تھا لیکن سڑکوں پر بھاگتی گاڑیوں اور روشنی کی جگمگاہٹ نے لوگوں کے اندر شہر کو اپنے مخصوص انداز میں جگا رکھا تھا۔ الازہر یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر یوسف عامر نے مجھ سے درخواست کی کے انہیں فورٹ ولیم کالج ضرور دِکھا دیں۔ہم نے ان کی درخواست پر موجودہ رائٹرز بلڈنگ کا باہری حصّہ دکھا یا جو شاید ڈاکٹر یوسف عامر کے لئے تسلی بخش نہیں تھا۔چائے کی خواہش اور سفر کی تھکان نے سبھوں کو کچھ لمحے کے لیے ’ہلدی رام‘ جانے پر مجبور کر دیا۔ ہلدی رام میں بیٹھ کر ہم تمام لوگوں نے چائے کی چسکی کے ساتھ کچھ مٹھائیاں بھی کھائیں اور پھر ہوٹل کی طرف آرام کرنے کے لئے چل دئیے۔

2؍فروری کی شام ہم نے تمام مہمانوں کی درخواست پر کلکتے کی مشہور نیو مارکیٹ شاپنگ کرنے کے لیے نکل پڑے۔ کہتے ہیں کہ دنیا کی سب سے پہلا سوپر مارکیٹ کلکتے کا نیو مارکیٹ ہی ہے جہاں تمام چیزیں دستیاب ہیں۔ مہمانوں نے اپنی مرضی کی ڈھیر ساری چیزیں خریدیں اور نیو مارکیٹ کے بھیڑ بھاڑ سے محفوظ بھی ہوئے۔
3؍فروری کی شام صوفی جمیل اختر لٹریری سوسائٹی کولکتا کے سالانہ جلسے میں الازہر یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر یوسف عامر کو صوفی جمیل اختر میموریل ایوارڈ پیش کیا گیا۔ ڈاکٹر یوسف عامر نے اپنی سادگی اور اعلیٰ ظرفی کا ثبوت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس ایوارڈ کے حقدار نہیں ہیں تاہم وہ کلکتے والوں کے پیار اور محبت کو کبھی نہیں بھول پائے گے۔ انہوں نے اس موقعہ پر یہ بھی اعلان کیا کہ ان شاء اللہ وہ جلد صوفی جمیل اختر لٹریری سوسائٹی کے ذریعہ الازہر یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے اسکالر شپ کا آغاز کریں گے۔ایوارڈ کے بعد صوفی جمیل اختر لٹریری سوسائٹی کے سیکریٹری اعجاز احمد کی دعوت پر آفرین ریسٹورنٹ میں تمام مہمانوں کو ڈاکٹر یوسف عامر کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیا گیا۔
کلکتہ جانا میری خوش نصیبی اور ضرورت بھی ہے۔ اپنے خاندان کے افراد سے ملنا اور پھر دوست احباب کا اتنا وسیع حلقہ کے ہم یقین ہی نہیں کر سکتے۔اس بار کلکتے کے سفر پر میری ملاقات شہر کے معزز ہستیوں سے ہوئی۔ جس میں عزت مآب ممبرپارلیمنٹ راجیہ سبھا ندیم الحق صاحب کا نام لینا میں ضروری سمجھتا ہوں ۔ جنہوں نے ہمیں کافی پر بلا کر عزت بخشی۔ اس میٹنگ میں ہمارے مداح جناب حفیظ الرحمٰن بھی ہمارے ساتھ موجود تھے۔ کئی مسائل پر باتیں اور تبادلہ خیال بھی ہوا۔اس کے بعد شہر کے معزز شخصیت جناب مشتاق صدیقی کی دعوت پر حاجی ہوٹل میں ایک پر تکلف دعوت پر بھی شرکت کرنا پڑا۔ مشتاق صدیقی صاحب شہر کی کئی تنظیموں سے وابستہ ہیں اور انہوں نے میرے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر قوم کی کئی ذمہ داریوں کو اٹھانے کا اشارہ بھی کیا۔مشتاق صدیقی کی دعوت میں شہر کی معزز ہستیاں ،اعلیٰ سرکاری افسران اور سماجی کارکن نے شرکت کی جو میرے لیے باعثِ فخر تھا۔
5؍فروری کو محمد موتی والا کی دعوت پر مجھے سیفی گولڈن جوبلی انگلش پبلک اسکول جانا پڑا۔ محمد موتی والا کمال کے انسان ہیں اتنی عمر ہونے کے باوجود پورے اسکول کا دورہ کروایا اور باتوں باتوں میں اسکول کے لیے اپنی قربانیوں اور محبت کا اظہار بھی کرتے رہے۔محمد موتی والا واقعی قابلِ مبارک باد ہیں جو پر جوش اور ایمانداری سے اسکول اور قوم کے بچوں کے تئیں فکر مند ہیں۔ مجھے اس بات کو بتانے میں کوئی جھجھک نہیں ہو رہی کہ جب میں ایک شام الحمد ایجوکیشنل کی دعوت پر اپنے اسکول محمد جان پہنچا تو اسکول کی حالت دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اسکول کی حالت خستہ تھی اور رنگ و روغن سے اسکول محروم تھا۔اس دن مجھے یہ محسوس ہوا کہ میرے ضمیر نے مجھے اچھے کپڑے پہننے پر میرا مذاق اڑا یا ۔اس بات سے بھی غمگین ہوا کہ زیادہ تر لوگوں نے اردو میڈیم اسکول کے گرتے ہوئے تعلیمی معیار پر بھی تشویش ظاہر کی جو کہ ایک پریشان کن بات ہے۔
6؍ فروری کو کلکتے کا نامور اور تاریخی ادارہ دی مسلم انسٹی ٹیوٹ نے میرے نام ایک شام کا اہتمام کیا تھا ۔ جس کے لیے میں اعزازی جنرل سیکریٹری نثاراحمد صاحب اور اعزازی ایجوکیشن سیکریٹری بھائی ڈاکٹر نعیم انیس کا شکر گزار ہوں۔ اس موقعے پر میں نے اپنے عزیز استاد مرحوم اعزاز افضل کو بھی یاد کیا جن کی محبت اور درس نے فہیم کو فہیم بنایا۔
کلکتہ دورے کے آخری چند دنوں میں ان اداروں کا بھی میں شکر گزار ہوں جنہوں نے میرے لئے گفتگو اور ٹاک شو کا اہتمام کیا تھا ۔ جس کی بدولت مجھے کلکتہ کے کافی لوگوں سے بات چیت کرنے کا موقعہ ملا تھا۔ان اداروں میں ہوڑہ کا ہیلپنگ ہینڈ،مٹیا برج کا گارڈن ریچ پیس موومنٹ اور کانکی نارہ کاآسرا ا یسے ادارے ہیں جن کے ممبران نوجوانوں پر مشتمل ہیں اور جن کاحوصلہ کافی بلند ہے۔اس کے علاوہ گڈ ہیومن فاؤنڈیشن کے محمد رافع محمود صدیقی کا بھی تہہ دل سے ممنون ہوں جن کی کاوش اور جذبے سے پہلی بار اقلیتی بچوں کے لیے ’کیرئیر کانفرنس‘ کا اہتمام عالیہ یونیورسٹی میں کیا گیا۔
میں ممبئی سے تشریف لائے ماہنامہ اردو آنگن کے ایڈیٹرامتیاز گورکھ پوری اورمعروف شاعر ریاض منصف کا بھی شکر گزار ہوں جو اپنی تمام تر مصروفیات کے باجود مجھ سے ملنے کلکتہ تشریف لائے اور ہمارے ساتھ انہوں نے کلکتہ کو جی بھر کے دیکھا اور کلکتہ والوں کے پیار میں گرفتار ہو گئے۔ امتیاز گورکھ پوری معروف شاعر ظفر گورکھپوری کے صاحبزادے ہیں۔
میں نے کلکتے کے دورے اور وہاں کے لوگوں سے کافی کچھ سیکھا ہے جو میرے لیے ایک سبق اور نصیحت بھی ہے۔ میں اپنے شہر کلکتہ کو اپنے سینے میں ہمیشہ دھڑکتے ہوئے پاتا ہوں۔ اللہ سے یہی دعا ہے کہ ہماری قوم خوب ترقی کرے اور آپس میں اتحاد اور بھائی چارگی قائم ہو۔
غالب کے اس شعر سے کلکتہ کو یاد رکھنا چاہتا ہوں کہ :
کلکتے کا جو ذکر کیا تونے ہم نشیں
ایک تیر میرے سینے میں مارا کہ ہاے ہاے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *