پریشان ہونا چھوڑئیے ، خوش رہناسیکھیں !

" حرا احمد "

حالات کا دباؤزندگی کے بہاؤ کو پیچیدہ بنا رہا ہے ۔ہر گزرتے دن کے ساتھ الجھنیں اور پریشانیاں ہیں کہ بڑھتی ہی جارہی ہیں۔کسی کو فکر معاش نے پریشان کر رکھا ہے تو کوئی قسمت سے نالاں نظر آتا ہے۔کہیں خاندانی جھگڑے ہیں توکوئی گھریلو مشکلات کا شکار ہے ۔کوئی اولاد کی نافرمانیوں کا مار ا ہوا ہے تو کوئی اخلاقی گراوٹ کے ہاتھوں پریشان ہے ۔کسی کو اپنوں کی بے وفائی کا غم ہے تو کوئی غیروں کی بے اعتنائی سے دل شکستہ ہے۔ خیالات اور حالات کا دباؤ انسانوں کی زندگی کو چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے بے نیاز کرتا جا رہا ہے۔ہماری زندگی میں جتنی زیادہ شکایتیں بڑھتی جاتی ہیں خوشی کا مادہ اتنا ہی کم ہوتا جا رہا ہے۔ان حالات میں ہم ایک لمحے کے لئے بھی رک کر غور نہیں کرتے کہ ہمیں جس چیز کی ضرورت ہے وہ ہم سے زیادہ دور نہیں کہیں ہمارے ارد گرد ہی موجود ہے۔
ہمیشہ اس یقین کے ساتھ زندگی گزارئیے کہ آپ کے اردگرد بے شمار خوشیاں آپ کے انتظار میں ہیں اور وہ بہت جلد آپ تک پہنچے والی ہیں۔ آپ کاکام صرف ان کی کھوج لگانا اور انھیں اپنی طرف کشش کرنا ہے۔ حوصلہ مند اور باشعور لوگ اسی ذہنی روئیے کے ساتھ مشکل سے مشکل حالات سے بھی چھوٹی چھوٹی اور انمول خوشیوں کے ساتھ اپنا تعلق ہمیشہ استوار کیے رکھتے ہیں ۔دراصل یہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں ہی ہیں جو بڑی بڑی خوشیوں کے حصول کو ممکن بناتی ہیں ۔آپ اگر خوشی رہنا چاہتے ہیں تو اپنی ان خوشیوں پر کام کریں ۔
اپنے خالق کے ساتھ اپنی تعلق کو مضبوط سے مضبوط تر کرتے رہیں۔ اس سے بڑی خوشی اور کیا ہوسکتی ہے کہ اللہ کبھی اپنے بندوں کو تنہا نہیں چھوڑتا ۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ مسائل، مشکلیں ،آزمائشیں اور الجھیں انسانی زندگی کا حصہ ہیں۔ اور ان سے چھٹکاراپانے یا نجات حاصل کرنے کا سب سے بہترین راستہ ہے اللہ تعالی کی عبادت اور اس کی بندگی ۔قرب الہی کو حاصل کرنے اور اس کی بارگارہ میں اپنا دست سوال دراز کرنے کا بہترین ذریعہ ہے نماز۔ اس بے نیاز کے سامنے جولی پھیلائیں جو دینے پر آئے تو فقیر کو بھی بادشاہ بنا دینے پر قادر ہے۔ اس پاک ذات کے سامنے اپنی تکلیفوں پریشانیوں کا تذکرہ کریں جو کسی کو اس کی ہمت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا۔بے شک اس کی بارہ گاہ میں پیش ہو کر دل کا بوجھ ہلکا کرنے والے ہر غم اور تکلیف سے بے نیاز کردئیے جاتے ہیں۔
خودشناشی اور باطنی شعور اندورنی اور بیرونی خوشی کے حصول کا اہم ذریعہ ہے۔اپنی پہچان کا احساس اور باطنی شعور ہمیں حقیقی خوشی کی لذتوں سے سرشار کرتاہے۔ ہم اپنا سارا وقت اپنی ساری توانائی صرف کرنے اور صرف ظاہری اور مادی خوشیوں کو حاصل کرنے کی دوڑ دھوپ میں خرچ کردیتے ہیں ۔ وقت گزر جاتا ہے اور زندگی کا طویل سے طویل سفر بھی کٹ جاتا ہے لیکن افسوس اس سارے عمل کے دوران ہم اپنے آپ اور اپنی ذات سے انجان اور حقیقت بے خبر رہتے ہیں۔اپنی شخصیت کی نشو ونما کے امکانات پر کام کرنے والے اور اپنی ذات کا عرفان حاصل کرنے کی جدوجہد کرنے والے حقیقی خوشیوں کی دوڑ میں بہت آگے نکل جاتے ہیں ۔ خو دشناسی کا عمل آپ کے لیے خوشی کے حصول کو آسان بنا سکتاہے ، اسے کبھی بھی نظرانداز مت کریں ۔
اپنے ذہن اور ذہنی ماحول کی صفائی ستھرائی بھی آپ کو خوشی کے حصول میں مدد فراہم کرتی ہے ۔ اگر آپ اپنے نصیب اور قسمت کو جگانا چاہتے ہیں تو اپنے ذہن سے ہر قسم کی منفی باتوں ، منفی عادتوں ، اور منفی رویؤں کو نکال باہر کریں۔ اپنے دماغ سے وہ تمام کچرا اور فضولیات نکال کر باہر پھینک دیجیے جو آپ کو ایک بہترین انسان بننے سے روکے کھڑا ہے۔ ہمیشہ اپنے ذہن کی صفائی ستھرائی کرتے رہیں۔ اپنے دماغ میں خوشیوں اور کامیابیوں کے لیے زیادہ سے زیادہ جگہ بنائیں یہ آپ کے حصے کی خوشیاں تلاش کرنے میں آپکا بہترین مونس و رفیق ثابت ہوگا۔ خود کو ایک پیداواری ، موثر اور بہترین انسان بنانے کے لیے اپنا دماغ اور اپنی دماغی صلاحیتوں کا بہترین استعمال کیجیے۔ اپنے دماغ کو ہر طرح کے حالات سے خوشیاں کشید کرنے اور پرامید رہنے کی عادت ڈالیں۔بڑی بڑی مادی خوشیوں کے لیے خود ہلکان کرنے کی بجائے چھوٹی چھوٹی خوشیوں کی اہمیت کو جانیے۔
ہر ممکن حد تک دوسروں کے لیے آسانیاں پیداکریں اوران کے کام آئیں۔ انسانوں کی خدمت اور ان کے کام آنے کا جذبہ ہمیں خوشی کا وہ انمول اور قیمتی احسا س عطا کرتا ہے جوہمیں قلبی اور روحانی طورپرمضبوط اور توانا بناتا ہے۔بے سہارا اور ضرورت مندوں کے کام آنا ہی انسانیت کی معراج ہے۔ خود کو اس خوشی سے محروم رکھنے والے کبھی بھی حقیقی اور اصلی خوشی کا مزا نہیں پا سکتے ۔
زندگی کے سفر میں اپنے لیے خوشیاں پانا چاہتے ہیں تو اپنے اندر زیادہ سے زیادہ ہمت اور حوصلہ پیدا کریں۔۔ہماری زندگی میں ہمیں بہت سارے لوگ ایسے ملتے ہیں جو تھوڑی سی مشکلات کو دیکھ کر ہی ہمت ہار بیٹھتے ہیں۔پریشانیوں میں ہمت وحوصلہ سے کام لیں اور ااپنی پریشانیوں کا ذکر ان لوگوں سے کبھی نہ کریں جو آپ کو خوش دیکھنا نہیں چاہتے ہیں۔پریشانیا ں اور ٹینشن آپ کی صحت پر بہت برے اثرات مرتب کرتی ہے ۔ خود کو کسی بھی قسم کی پریشانی میں پرسکون رکھنے اور صبر کے ساتھ اسے بہترین طریقے سے نمٹانے کی کوشش کریں۔ قرآن مجیدمیں ارشاد ہے۔۔۔
’’اور تم ہمت نہ ہارو اور غم نا کرو اور تم ہی غالب آؤ گے اگر تم( کامل )ایمان رکھتے ہو۔‘‘
اگر آپ زندگی میں سچی اور حقیقی خوشی حاصل کرنا چاہتے ہیں توآپ کو اس دنیا میں اپنی موجودگی کے مقصد کو تلاش کرنا ہوگا۔ صدق دل اور خلوص نیت سے تلاش کریں گے تو مقصد حیات خود بخود آپ کے سامنے آکھڑا ہوگا۔ پھر آپ کا کام ہے کہ اپنی تمام تر تو انیاں اور کوششیں اپنے مقصد حیات کے حصول کیلئے وقف کردیں ۔دراصل مقصد حیات ہی وہ منزل ہے جس کے لیے جہدو جہد کرنے اور اسے پانے کی خوشی ہمیں دنیا کی باقی تمام خوشیوں سے بے نیا ز کردیتی ہے۔
اپنی زندگی میں خوشیوں کے دروازے کھولیں۔یاد رکھئے کہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں زندگی کے سفر کا ایندھن ہیں اور زندگی کے سفر میں وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو مشکل حالات سے بھی چھوٹی چھوٹی خوشیاں کشید کرنے کا فن جانتے ہیں۔
تحریر: حرااحمد
تعارف: رائٹر نوجوان بلاگر اور افسانہ نگار ہیں ۔ لکھنے اور پڑھنے کا شوق رکھتی ہیں۔ عوامی مسائل خصوصََا خواتین کے مسائل پر گہری نظر رکھتی ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی سے ایم ایس سی کمپیوٹرسائنسز میں فارغ التحصیل ہیں اور پیشے کے اعتبار سے ٹیچر اور موٹی ویشنل سپیکر ہیں۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *