امیر بننے کا آسان فارمولا

" محمد منور سعید "

مفلسی  احساس  لطافت  کو  مٹا  دیتی  ہے
بھوک ڈھل نہیں سکتی آداب کے ڈھانچوں میں
ہمارے گھر کے باہر مرکزی شاہراہ سے متصل فٹ ہاتھ پر روزانہ دوپہر دو آدمی رکشہ سے اترتے ہیں انکےساتھ کھانےکی  دو دیگیں یوتی ہیں خاموشی سے دستر خوان بچھاتے  ہیں پلیٹیں سجاتے ہیں بے شمار غریب و نا دار افراد انکے پہلے سے منتظر ہوتے ہیں سیر ہوکر کھانا کھاتے ہیں اور دعائیں دیتے رخصت ہوجائے ہیں ۔برسوں سے یہ سلسلہ  جاری ہے اور  انشااللہ ہمیشہ  جاری وساری رہے گا۔
اہل محلہ میں ایک بیزار صاحب ہیں اور انکے جیسے بے شمار ہوں گے جو اس  عمل خیر پر سخت معترض اور نالاں رہتے ہیں ۔حالانکہ  موصوف نے کبھی کسی کو چاے بھی نہیں پلائی ہوگی انکے خیال میں یہ لوگوں کو مفت خوری کی ترغیب دی جارہی ہے ۔اچھے خاصے ہٹے کٹے لوگ مفت میں روٹیاں توڑتے ہیں۔یہ سلسلہ فی الفور بند ہوجانا چاہیے ۔
درویش کی  رائے میں یہ سوچ طبعیت کی سخت گیری  ، بخل اور  احساس مروت سے محرومی کا مظہر ہے۔
کیونکہ
سرکار دو عالم حضرت محمد  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:
"رحمان کی عبادت کرتے رہو ،کھانا کھلاتے رہو اور سلام پھیلاتے رہو(ان اعمال کی برکت کی وجہ سے)سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاﺅگے۔"(ترمذی)
ہوسکتا ہے کہ یہ بات جزوی طور پر کسی حد تک درست ہو کہ کچھ لوگ مستحق نہ ہوتے ہوںے بھی لنگر سے مفت کھانا کھالیتے ہوں مگر استحقاق مصارف زکات  میں دیکھا جاتاہے صدقہ و خیرات میں نہیں۔انسان کی عزت نفس سے بڑھ کر اہم اس کیلئے  کچھ نہیں ہوتا اگر کوئی اپنی عزت نفس کو قربان کر ہی رہاہے تو انسانیت  کے ناطے اس کا احترام کرنا واجب ہے ۔
اکٹریت فلاحی دستر خوانوں پر مفت  کھانا کھانے والوں میں  کم آمدنی والا طبقہ جیسے  گھریلو اور دفتر ی ملازمین،دیہاڑی دار مزدور ،ڈرایور اور غریب غربا  ہوتے ہیں ۔جو بصورت دیگر مہنگائی کی وجہ سے اکثر  کھانے کی بچت کرتے ہیں کہ اس پر ستم اور پر آشوب دور میں جو رقم پس انداز کرلی جائے وہ ہی غنیمت ہے۔
ہمارے پڑوسی کا ڈرایور اکتر گھر کے باہر مل جاتا ہے سلام دعا کرتا رہتا ہے۔ایک دن باتوں ہی باتوں میں کہنے لگا کہ چونکہ صاحب کے بچوں کو صبح اسکول چھوڑنا ہوتا ہے لہذا سویرے ایک گھنٹے پہلے گھر سے نکلتا ہوں تاکہ بروقت  ڈیوٹی پر پہنچ سکوں  بیوی بیچاری بیمار رہتی ہے  بنا ناشتے کئے  گھر سے آتا ہوں وہ تو بیگم صاحبہ بہت نیک دل ہیں جو چائے پلادیتی ہیں ورنہ  یہ سوسائٹی کا علاقہ ہے یہاں ہوٹل کافی مہنگے ہیں ۔
صاحب جی ! میں تو دوپہر کا کھانا بھی نہیں کھاتا ۔
۔زیادہ بھوک ستائے  تو اک دو سموسے کھاکر گزارا کرلیتا ہوں آپ خود ہی بتائیں کہ بارہ ہزار تنخواہ ہے آنے جانے کا بس کا کرایہ پچاس روپے روز کا لگ جاتا ہے اگر روز ہوٹل پر کھانا کھانے لگوں تو بچوں کو کیا  کھلاوں گا۔بیوی کا علاج اور اسکول کی فیس بھی تو دینی ہوتی ہے تاکہ میرے بچے پڑھ لکھ جائیں اور میری طرح غربت کی چکی نہ پیسیں اسکی  آنکھوں میں بسے خواب اور پلکوں کے چلمن میں چھپی نمی واضح طور محسوس کی جاسکتی تھی ۔
معاشرے میں ایسے نجانے کتنے  ہونگے۔
بھوکوں کو کھانا کھلانا اللہ کے محبوب بندوں کا پسندیدہ مشغلہ رہا ہے۔یہ فعل اللہ تعالی کو اسقدر محبوب ہے کہ قرآن پاک میں جہاں نماز اور روزے کی پابندی کا حکم ہے وہیں مسکینوں کو کھانا کھلانے کی تلقین اور ترغیب بھی دی ہے۔اسی اہمیت کے پیش نظر  حضرت نظام الدین اولیاء رح   روٹی کو  اسلام کا چھٹا رکن قرار دیتے ہیں ۔
پیٹ اگر خالی ہو تو نماز میں  خشوع وخضوع ممکن ہی نہیں ۔اسی لئے حکم ہے کہ  اگر بھوکے ہیں تو پہلے کھانا کھائیں  پھر  نماز ادا کرہں۔
اسی بات کو اگر دوسرے زاویے سے دیکھیں تو ایک نیا پہلو سامنے آئےگا کہ جب آپ کسی مسکین کو  کھانا کھلائیں گےاور وہ آپکی معرفت حاصل  ہونے والی خوراک سے توانائی پاکر بھرپور یکسوئی  سے عبادت کرے گا تو اس عبادت سے اسکو جو بھی  فیوض و برکات حاصل  ہونگی یقینا ان سے آپ بھی فیضیاب ہونگے۔
کھانا کھلانے کا اجر و ثواب  اگر ہم جان جائیں تو سارے کام چھوڑ کر لوگوں کو کھانا ہی کھلاتے رہیں گے۔
اولیاء اللہ کی خانقاہوں میں بلا رنگ نسل ،مذہب ہر کس و ناکس کیلیے لنگر عام تھے ۔کیا ہندو کیا سکھ عیسائی یا مسلمان سب یہاں آکر کھانا کھاتے بالکل اسی طرح جیسے آجکل سیلانی ویلفیئر چھپا جعفریہ  اور ایسے دوسرے فلاحی ادارے دستر خوان لگارہے ہیں۔ اولیاء اللہ کے  مہمان  بنکر یہ غیر مسلم انکا فیض پاٹے اور انکے قلوب نور ایمانی سے جگمگا اٹھتے۔آج بھی خواجہ غریب نواز ، داتا صاحب  پر چوبیس گھنٹے لنگر چلتا ہے اور   ہر کوئی کھانا کھاسکتا ہے اس میں امیر و غریب کی کوئی قید نہیں ہے۔
کسی بھوکے کو اپنے ہاتھ سے کھانا کھلانے سے انمول روحانی خوشی  اور ذہنی  و قلبی سکون حاصل ہوتا ہے۔آجکل ہر دوسرا شخص ڈیپریشن کے مرض میں مبتلا ہے۔اگر وہ حسب  استطاعت روزانہ کسی  بھوکے کو اپنے ہاتھ سے کھانا کھلانے لگے تو اس کو  قلبی سکون اور طمانیت حاصل ہوگی جس کی بدولت وہ بہت جلد  ڈیپریشن سے نجات پا لے گا ۔
کراچی میں جا بجا ایسے ہوٹل اور فلاحی ادارے موجود ہیں جہاں جاکر آپ یہ خدمت بزعم خود انجام دے سکتے ہیں ۔ اپنے بچوں میں ایسا in built سسٹم انسٹال کردیں کہ صدقہ وخیرات  کا جذبہ  انکی فطرت ثانیہ بن جائے ۔
بچے  وہی کچھ سیکھتے ہیں جو اپنے بڑوں کو کرتا دیکھتے ہیں ۔
ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ بچپن میں بلا ناغہ  نماز عصر کے بعد  ایک گگی والا بابا ہمارے گھرکی دہلیز پر آتا تھا ہم دلچسپی سے اسکی حکایتیں سنتے اتنی دیر میں ہماری امی جان اس بابا جی کیلیے تازہ روٹی اور گرم سالن تیار کرکے ٹفن میں ڈال کر دیتیں  اور بابا دعائیں دیتا رخصت ہوجاتا ۔
یہ دعائیں یقینا عالم بالا میں امی جان اور دنیا میں ہمارے  کام آرہی ہوں گی۔
کھانا کھلانا صرف غریب ہی کیلیے مخصوص  نہیں  ہے بلکہ گھر آئے مہمان کی مہمان نوازی  ہماری تابندہ روایات میں شامل رہی ہے۔مہمان کو کھانا کھلائے بغیر رخصت نہیں کیا جاتا تھا مگر افسوس اب یہ روایات دم توڑ رہی ہیں۔
اشفاق احمد صاحب  کے بابا جی کہتے ہیں کہ اگر رب سے   کچھ مذید حاصل کرنا چاہتے ہو تو "دتے ہوئیے سے دیئے جاو"  یعنی جو کچھ خدا نے عطا کیا ہے اسمیں سے راہ خدا میں خرچ کرو۔
صدقہ و خیرات کرنے سے آپ کا بینک بیلنس بڑھے گا کم نہیں ہوگا۔ہم نے آج تک کوئی آدمی ایسا نہیں دیکھا جو نیکی کی راہ میں خرچ کرے اور اسکا مال کم ہوجائے -
یہ تو من چلے کا سودا ہے بھائی چاہے تو قبول کرلیں  چاہیں تو انکار  کردیں ۔
آج ہی سے اللہ کے بندوں میں بانٹا شروع کردیں  وہ آپ کو  اتنا  نوازے گا کہ آپ سنبھال نہ پائیں گے۔

ضروری نہیں کہ دولت ہی بانٹیں پیار بانٹیں مسکراہٹیں بانٹیں  آسانیاں بانٹیں ۔

"میٹھی بات بھی  صدقہ ہے "۔

بابا فرید رح فرمائے ہیں

پانچ   ہیں کُل  رکن دینِ اسلام  کے
اور چھٹا ہے    رکن اے فریدا طعام
گر نہیں دسترس میں کسی کے  چھٹا
تو  پھر ان پانچ کا کام سمجھو تمام

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *