سچائی کہیں درمیان میں ہے

نجم سیٹھیNajam Sethi

سیمور ہرش کو امریکی اسٹبلشمنٹ کا ’’خوفناک بچہ‘‘ قراردیا جاتا ہے۔ اس نے دو مئی 2011کو پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں ملٹری اکیڈیمی کاکول کے نزدیک احاطے میں اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کے لیے کیے گئے فوجی اپریشن کے حوالے سے ایک غیر معمولی سازش کی تھیوری کو پیش کرتے ہوئے دنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا ۔ یہ کہانی سناتے ہوئے ہرش بہت سے نام لیتے ہوئے واقعات کو بیان کرتا ہے۔ یہ معلومات امریکی انٹیلی جنس کے گمنام ذرائع سے مندرجہ ذیل معلومات حاصل کی گئیں...(1)جس دن (2005-06) سے اسامہ بن لادن نے ایبٹ آباد کے خصوصی طور پر تیار کیے گئے احاطے میں قدم رکھا تھا، وہ آئی ایس آئی کی ’’ حفاظتی تحویل‘‘ میں تھا۔ (2)2010کے آخر میں ایک پاکستانی فوجی افسر امریکی سفارت خانے میں آیا ، بن لادن کی موجودگی کی اطلاع دی، انعام کی رقم، جو پچیس ملین ڈالر تھی، حاصل کی اور امریکی افسران کے تعاون سے اپنے اہلِ خانہ سمیت ہمیشہ کے لیے امریکہ میں آباد ہوگیا۔ (3)آنے والے مہنیوں میں امریکہ نے دو ڈاکٹروں، جن میں ڈاکٹر شکیل آفریدی بھی شامل تھا، کی خدمات حاصل کیں تاکہ یہ تصدیق کی جاسکے کہ اُس احاطے میں قیام پذیر شخص بن لادن ہی ہے۔ (4) امریکیوں نے سابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق کیانی اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل احمد شجاع پاشا کو بن لادن کی موجودگی کے ثبوت فراہم کرتے ہوئے بن لادن کو ختم کرنے کے مشن میں خفیہ تعاون کے لیے کہا۔ پاکستانی افسران کو یہ بھی بتادیا کہ ان کے انکار کی صورت میں وہ دنیا کو بتادیں گے کہ یہ دونوں جنرل دنیا کے سب سے خطرناک مطلوب دھشت گرد کو پناہ دیے ہوئے ہیں۔ اس کی پاداش میں پاکستان کو اور اُنہیں ذاتی طور پر سخت مصیبت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ (5) دستیاب آپشن کہ تعاون کریں تو مشکل اور اگر نہ کریں تو تباہی، کو سامنے رکھتے ہوئے جنرل کیانی اور پاشا نے فیصلہ کیا کہ خفیہ طور پر امریکی سیل کمانڈوز کے ہیلی کاپٹرزحملے کے ساتھ ’’تعاون‘‘ کیا جائے۔ طے یہ پایا تھاکہ امریکہ بعد میں بیان دے گا کہ بن لادن کسی دور افتادہ پہاڑی علاقے میں ڈرون حملے میں ہلاک ہوگیا ہے۔ (6)تاہم پاکستانی نقطۂ نظر سے یہ منصوبہ اُ س وقت چوپٹ ہوگیا جب ایک ہیلی کاپٹر موقع پر کریش ہوگیا اور صدر اوباما نے اس اپریشن کی تفصیل کو ٹی وی پر بیان کردیا۔ اس پر جنرل کیانی اور جنرل پاشاسخت مشکل میں پھنس گئے کیونکہ اُن پر یا تو ایک دھشت گرد کو تحفظ دینے کا الزام لگ رہا تھا یا نا اہلی کا۔
ہرش کی یہ کہانی پاک امریکہ سرکاری بیان کے برعکس ہے جس میں کہا گیا تھا پاکستانیوں کو اس کارروائی سے بالکل لاعلم رکھا گیا تھا اور یہ کہ بن لادن کے وہاں روپوش ہونے ، پکڑے جانے اور ہلاک کیے جانے میں پاکستانی افسرا ن کا کوئی ہاتھ نہ تھا۔ درحقیقت اُس وقت پاکستانی افسران بہت سی وضاحتیں دیتے دکھائی دیتے تھے کہ اُنھوں نے نہ تو بن لادن کو وہاں پناہ دی تھی اور نہ ہی ان کے پاس ایسے آلات تھے جن سے وہ جلال آباد سے پرواز کرنے والے امریکی ہیلی کاپٹروں ، جو پاکستان میں کارروائی کرکے واپس چلے گئے، پر نظر رکھ سکتے۔ اس سے پہلے ایبٹ آباد واقعے کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کو بھی منظرِ عام پر نہیں آنے دیا گیا۔
جنرل پرویز مشرف، جنرل کیانی اور جنرل شجاع پاشا کی طرف سے دی جانے والی وضاحت یہ تھی کہ وہ اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی سے آگاہ نہیں تھے، لیکن بعض ملکی اور غیر ملکی حلقوں نے اسے حتمی طور پر تسلیم نہیں کیا تھا۔ جنرل پرویز مشرف اور ان کے ڈی جی آئی ایس آئی ندیم تاج، جن کے دور میں بن لادن ایبٹ آباد میں آکر قیام پذیر ہوا، کو عالمی برادری کے سامنے سخت مشکل کا سامنا کرنا پڑتا اگریہ بات ثابت ہوجاتی کہ اُنھوں نے اُس کی موجودگی سے اغماض برتا۔ اس کے علاوہ ہرش کے دعوے کے مطابق طرفین (امریکی اور پاکستانی افسران) اس بات پر راضی ہوگئے تھے کہ بن لادن کو وہاں سے نکال کر ختم کردیا جائے گا تو پھر اُس طرح کے حملے کا خطرہ کیوں مول لیا گیا۔ اگر طرفین میں اتفاق ہوگیا تھا تو پھر معاملہ سیدھا سادھا ہونا چاہیے تھا کہ امریکی حملے کی نوبت ہی نہ آئے اور پاکستانی افسران بن لادن کو خاموشی سے وہاں سے نکال کرلے جائیں اور شمال میں کسی جگہ امریکیوں کے حوالے کردیں۔ اس کے بعد امریکی دعویٰ کریں کہ اُنھوں نے بہت اعلیٰ معلومات کی بنا پر بن لادن کو ڈرون حملے میں ہلاک کردیا ہے۔ اس طریقے سے پاکستان کو بھی شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑتا کہ اُس نے دنیا کے مطلوب ترین دھشت گردکوپناہ دے رکھی تھی اور نہ ہی ملک میں داخلی طور پر اُفسران کو تنقید کا نشانہ بننا پڑتا کہ اُنھو ں نے امریکیوں کے ایجنٹ کا کردار ادا کیا ۔ درحقیقت اگر جنرل کیانی اور جنرل پاشا امریکیوں کے ساتھ تعاون کررہے ہوتے تو اُنہیں نہ صرف ائیرچیف اورCJCSC بلکہ بہت سے چھوٹے بڑے افسران کو بھی اعتماد میں لینا پڑتا۔ اس میں اتنا بڑا رسک ہوتا کہ پاکستان کی انتہائی اہم ملٹری اکیڈیمی کے قریب ایسا اپریشن خطرے میں پڑجاتا۔ اس سے بدرجہا بہتر ہوتا کہ بن لادن کو شمال میں لے جاکر امریکی فورسز کے حوالے کردیا جاتا۔
چونکہ ایسا نہیں ہوا، اس لیے یہ بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ امریکیوں نے حملے سے پہلے پاکستانیوں پر اعتماد نہیں کیا تھا، چنانچہ کارروائی کے بعد پاکستانیوں کے دل میں رنجش پیدا ہونا لازمی امر تھا۔ اس حملے سے پہلے بھی سی آئی اے اور آئی ایس آئی کے درمیان تناؤ کی کیفیت پائی جاتی تھی۔ اس کی بنیادی وجہ پاک فوج کا شمالی وزیرستان میں حقانی نیٹ ورک اور لشکرِ طیبہ کے خلاف کارروائی کرنے سے انکارتھا۔ اس سے پہلے ریمنڈ ڈیوس کے معاملے کی بازگشت بھی فضا میں موجود تھی۔پاکستانی سائیڈ پر شک کی وجہ یہ تھی کہ اگر بن لادن کو آئی ایس آئی کی پناہ حاصل نہ ہوتی تووہ اتنے حساس علاقے میں اتنے طویل عرصے تک نہیں رہ سکتا تھا۔ ان عوامل نے امریکیوں کو باور کرایا کہ وہ اکیلے ہی کارروائی کریں ۔ نائن الیون کے بعد پہلی مرتبہ ایسا ہوا تھا کہ القاعدہ اور طالبان سے تعلق رکھنے والے دھشت گردوں کے خلاف پاکستان کے شہری علاقے میں مشترکہ اپریشن کی بجائے امریکیوں نے تنہا کارروائی کی تھی۔ اس سے پہلے مشترکہ اپریشنز میں بیس کے قریب اہم دھشت گردوں کو پکڑا جاچکا تھا۔
ایبٹ آباد کارروائی کے بعد پاکستان نے ردِ عمل کے طور پر ڈاکٹر شکیل آفریدی کو جیل میں بند کردیاحالانکہ امریکی سینٹرز نے بہت شور مچایا۔ اس کے بعد اسلام آباد میں موجود سی آئی اے چیف کو بھی نکال دیا گیا اور پھر سلالہ حملے کے بعد طویل عرصے کے لیے نیٹو سپلائی لائن بھی بند کردی۔ جواب آں غزل کے طور پر مائیک مولن نے حقانی گروپ کو ’’آئی ایس آئی کا فعال بازو‘‘ قراردیا۔ ان سب معاملات کی ایک وضاحت کی جاسکتی ہے کہ اگر پاکستانیوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا تو رات کے وقت ایبٹ آباد جیسے حساس علاقے میں کارروائی انتہائی خطرناک نتائج کی حامل ہوسکتی تھی۔ اس میں ناکامی کی صورت میں اوباما کودورِ دجدید کا جمی کارٹر قرار دیا جاتا.... جمی کارٹر 1979-80 میں ایران میں امریکی یرغمالیوں کو چھڑوانے کے لیے کی جانے والی کارروائی میں ناکام ہوگئے تھے۔ اس لیے امکان یہی ہے کہ امریکیوں نے جنرل کیانی اور جنرل پاشا کو یہ کہتے ہوئے اعتماد میں لیا ہوگا کہ اُنہیں پاکستان کے شمالی علاقوں میں کہیں ایک ہائی ویلیو ٹارگٹ( اُنہیں یہ نہیں بتایا گیا ہوگا کہ وہ بن لادن ہے) ملا ہے اور اسے ہلاک کرنے کے لیے سیل کمانڈوز کی ایک ٹیم آرہی ہے، چنانچہ وہ تعاون کرتے ہوئے اس اپریشن کے راستے میں رکاوٹ نہ ڈالیں۔ پاکستانی حکام کو اس پر طیش آیا ہوگا کہ نچلی پرواز کرنے والی ہیلی کاپٹرز شمالی علاقوں کی طرف نہیں ایبٹ آباد سے واپس جارہے تھے۔ ممکن ہے کہ طرفین نے ایک دوسرے سے جھوٹ بولا ہو لیکن یہ بات طے ہے کہ ایک نے دوسرے کو ڈبل کراس کیا تھا۔ سیمور ہرش نے یقیناًبہت اعلیٰ کام کیا ہے لیکن اس رپورٹ میں بہت سی غلطیاں موجود ہیں۔ ان سے اس کی حقانیت پر زد پڑتی ہے۔ اصل سچائی پاکستانی اور امریکی بیان کے درمیان کہیں موجود ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *