امن کی بات کیسے ہو گی؟

پاکستان اور انڈیا کے درمیان  کشیدگی وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہو جائے گی۔ لیکن جب ہم اپنے حواس بحال کر رہے ہوں گے  اور جیت کی خوشیاں منا رہے ہوں گے  تو ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ  صورتحال ایک بار پھر کشیدگی کی طرف جا سکتی ہے اور تصادم کا خطرہ بدستور برقرار ہے۔  

سب  سے پہلا اور اہم سوال یہ ہے  کہ وہ شرمندگی جس کا نیو دہلی نے سامنا کیا، پہلے ایک سٹرائیک کے ساتھ جس سے کوئی نقصان نہ ہوا، اور پھر ایک جوابی کاروائی جو ایک آئی اے ایف ایئر کرافٹ کے تباہ ہونے اور پائلٹ کے پاکستان کے قبضے میں آنے کا موجب بنا، مستقبل میں اسے اس طرح کی مہم جوئی سے روک پائے گی؟

پچھلے ہفتے میں لکھے گئے بہت سے آرٹیکلز میں بتایا گیا ہے کہ نریندرا مودی سے قبل ہندوستانی لیڈروں نے انڈین پارلیمنٹ اور ممبئی حملوں  پر جوابی حملے کیوں نہ کیے؟  تاہم مودی اتنے سمجھدار نہیں تھے؟  مودی کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ  انہیں ایٹمی ممالک کے بیچ جنگ کی صورتحال   کو ہوا نہ دیں ۔ اس لیے انہوں نے 2016 میں  سرجیکل سٹرائیک کا دعوی کر کے  حالات خراب کرنے میں پہل  کی۔ تین سال بعد وہ  اس سے بھی آگے بڑھ گئے۔ لیکن انہیں اس پاکستان کا سامنا کرنا پڑا جو جواب دینے والا ہے۔

کچھ ماہرین محسوس کرتے ہیں کہ مودی نے ایک نیا معمول   متعارف کروانے کی ایک ناکام کوشش کی۔ انہوں نے یہ طریقہ اختیار کرنے کی کوشش کی کہ بھارت پر جب بھی کوئی حملہ ہو تو سزا کے طور پر وہ پاکستان پر بھی ایک حملہ کریں۔  البتہ کیا ہم  یہ فرض کر سکتے ہیں کہ پچھلے ہفتے میں ہم نے بھارت کو مستقبل میں ایسے حملوں سے باز رکھنے پر آمادہ کر لیا ہے؟

مودی نے شاید مقامی طور پر ایک نیا معیار اس حساب سے  متعارف کروا دیا ہے  کہ بھارتی قائدین کو حملوں کے جواب میں کیسے  رد عمل کا اظہار کرنا چاہیے۔ کوئی شک نہیں کہ اندرونی طور پر انڈیا میں ان کی حد سے زیادہ تعریف ہوئی ہے ، اور شاید سزا کے طور پر ایسی سٹرائیک  کے حمایتی بھی موجود ہوں گے۔ لہٰذا جو بھی جماعت اقتدار میں ہو  گی اس پر دباو ہو گا کہ حملے کے جواب میں ایک بڑا حملہ کر کے دکھائے۔ اگر مودی نے ایسا کیا ہے تو اس کےبعد آنے والے اپنے آپ کو کمزور ثابت کرنا نہیں چاہیں گے۔

بلاشبہ سیاست  کا یہ ایشو ہے کہ یہ اکثر منتخب قائدین کو مجبور کرتی ہے کہ وہ اپنی حمایت کو کھونے کے ڈر سے یا اپوزیشن کی تنقید سے بچنے کے لیے ایسے فیصلے کرے۔ ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ  ، اگرچہ وہ علاقائی سطح پر اس معمول کو نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں ،  کیا انہوں نے یہ معمول اپنے ملک کے اندر نافذ کر دیا ہے  اور اس کا پاکستان اور بھارت کے آپستی تعلقات پر کیا فرق پڑے گا؟

تاہم یہ واحد وجہ نہیں ہے جو پاکستان کو بھارت پر سبقت کی کوشش پر آمادہ کر سکتی ہے۔  اس معاملے میں عالمی اثرات کا بھی تعین کرنا باقی ہے۔

آج کے دور میں جو دہشت گردی کا مظلوم ہونے کا ڈھونگ کرتا ہے اسے بین الاقوامی طور پر سپورٹ حاص ہونے لگتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بہت سے ممالک کو دہشت گردی  کا سامنا رہا ہے۔  اس  صورتحال کی وجہ سے  بڑے ممالک جیسا کہ امریکہ، برطانیہ اور فرانس  ایسے ملک کی سپورٹ کریں گے جو دہشت گردی کا شکار ہونے کی شکایت کرے گا۔  اسی وجہ سے  جب بھارت نے پلوامہ حملے کے جواب میں  کاروائی کی دھمکیاں دیں تو عالمی سطح سے کوئی سخت رد عمل نہیں آیا ۔بالا کوٹ پر سٹرائیک کےد عوے کے بعد بھی دنیا خاموش ہی نظر آئی۔ یہ صورتحال تب بدلی جب پاکستان نے جوابی کاروائی  کی اور ایٹمی جنگ کا خدشہ حقیقت بن گیا۔

معید یوسف جنہوں نے پاکستان انڈیا کے تعلقات کا مطالعہ کیا ہے، محسوس کرتےہیں کہ انٹرنیشنل کمیونٹی نے  یہ غلط اندازہ لگا لیا تھا کہ اوڑی حملے کے جواب میں جس طرح پاکستان نے کوئی کاروائی نہیں کی تھی اس بار بھی نہیں کرے گا۔ لیکن کیا یہ صرف ایک غلط اندازہ ہی تھا یا یہ اس لیے تھا کہ دنیا پاکستان اور عسکریت پسندی کو کیسے دیکھتی ہے؟

یہ ایک اور رئیلٹی چیک ہے جو ہمیں اس بات پر ابھارتا ہے کہ ملک میں سے غیر ریاستی عناصر کا خاتمہ کیا جائے۔

تیسرا یہ کہ ہمیں یہ احساس کرنا ہو گا کہ مسئلہ کشمیر کی انٹرنیشنلائزیشن کے لیے نعرے لگانے کے بجائے غور  و خوض کی ضرورت ہے۔ اس مسئلے کو انٹرنیشنلائز کرنا سادہ الفاظ میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کے لیے دباؤ کا موجب بنے گا۔ اس کے لیے ہمیں پہلے سے ملک میں اتفاق پیدا کرنا ہو گا کہ مسئلہ کا کیا حل قابل قبول ہو گا  اور اس حل پر عوام کے بیچ اتفاق رائے پیدا کرنا چاہیے۔

کیا اب بھی ہم اس علاقے کی منتقلی کے بارے میں سوچ رہے ہیں، جو بین الاقوامی سیاست میں ایک  ناممکن چیز  بن چکی ہے۔ کیا ہم دوسری آپشن پر بات کرنے پر آمادہ ہیں جس کے تحت شاید کشمیر پاکستان کا حصہ نہ بنے  لیکن کشمیریوں کی زندگی  پرسکون ہو جائے۔ کیا ہم بطور ریاست اور معاشرہ یہ قبول کرنے پر آمادہ ہیں کہ اپنی تمام غلطیوں کے باوجود مشرف کی  کشمیر کے بارے میں رائے درست تھی؟  صرف پاک بھارت تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے  مذاکرات    اور پھر مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے  تا کہ کشمیر میں شدت پسندی ختم ہو،  بشرطیکہ  دہلی میں ایک سمجھدار حکومت ہو ۔ پاکستانی قیادت کو چاہیے کہ  مذاکرات اور مسئلہ کشمیر پر مزید کاروائی  کے لیے عوام کا اعتماد حاصل کرے۔

آخری لیکن غیر حتمی بات یہ کہ قیادت کو  حالیہ اقدام کے بعد عوام میں جنگ اور اس سے ہونے والے نقصانات سے آگاہی پھیلانی چاہیے۔

انڈین سٹرائیک کے بعد 24 گھنٹے تک ناراض پاکستانی حکومت اور مسلح افواج پر انتقام کے لیے  دباؤ ڈال رہے تھے۔ ڈرائنگ روم میں بیٹھے ہوئے مباحثے، غیر رسمی  بات چیت اور سوشل میڈیا میسجز سوالات سے بھر پور تھے کہ در اندازی کرنے والے انڈین جہازوں کو تباہ کیوں نہیں کیا گیا، قیادت نے یہ کیوں کہا کہ وہ وقت آنے پر جواب دیں گے؛ اور کسی کاروائی سے بچنے کے لیے یہ کیسا بہانہ ہے۔ مایوسی بالکل عیاں تھی۔

بہت کم لوگ   ایسے تھے جو  امن پسندی کو سراہ رہے تھے۔ امن کے حق میں آوازیں (اور جنگ کے خلاف) صرف  تب بلند  ہوئیں جب پاکستان نے حملے کا جواب دے دیا۔ جس کے بعد اتنے جشن ہوئے کہ (حکومت اور مسلح افواج سے باہر) کسی کو اس  حملے کی فکر نہیں تھی جس کا ہم نے سامنا کیا۔

خوش قسمتی سے حالات  بہتر ہو  چکے ہیں۔ لیکن امید ہے کہ اس ہفتے کے واقعات سے ہمیں یہ سبق مل گیا ہے کہ ایٹمی جنگ کے خلاف آگاہی پھیلا سکیں  اور یہ بھی سمجھ سکیں کہ جنگ پر اکسانے کے نتائج کتنے خطرناک ہو سکتے ہیں۔ اور ہمارے عوام نے یہ سیکھ لیا ہو گا کہ فوج کو جوابی حملے پر مجبور کرنے کی بجائے امن پسندی کا راستہ اختیار کرنے پر ابھاریں۔

کیا پیمرا جسے اشتہاروں کو بند کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، اپنی طاقت کو لوگوں کو تعلیم میں مدد دینے میں بھی استعمال نہیں کر سکتی کہ ایٹمی طاقت کے ساتھ جنگ کا انجام کیا ہو گا؟ امید ہے کہ اسلام آباد اور پنڈی میں کوئی تو اس بارے میں سوچ رہا ہو گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *