تھریڈ۔۔۔

" ابسار عالم "
پرویزی سوچ اور نواز شریف انسان کے اندر جو بھی اچھی یا بری سوچ پلتی ہے وہ اسی کے مطابق دوسروں کو بھی ویسا ہی اچھا یا برا سمجھتا ہے جیسا وہ اندر سے خود ہوتا ہے۔ پہلے بیگم کلثوم نواز صاحبہ اور اب نواز شریف کی بیماری کو بہانہ کہنے والوں کی سوچ سے ایک واقعہ یاد آگیا جس کا عینی شاہد ہوں۔ پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کے دوران نوازشریف پر بہت دباؤتھا کہ مشرف کو بیرون ملک جانے دیا جائے۔مشرف یہاں فوجی ہسپتال میں بیمار پڑے تھے۔ اور انکی مریضوں کے لباس میں تصویریں وقتاً فوقتاً ٹی وی چینلز کو “لیک” بھی ہو جاتی تھیں۔
جب دباؤ کا حربہ ناکام  ہوا تو کچھ لوگوں نے جو نواز شریف کے ظرف کو اچھی طرح جانتے ہیں ایک منصوبہ بنایا۔ اچانک ایک دن تمام ٹی وی چینلز نے پرویز مشرف کی والدہ محترمہ، جو پہلے ہی دبئی جا چکی تھیں، کی طبیعت خراب ہونے کی خبر نشر کرنا شروع کردی۔ اُنہیں ہسپتال لے جا یا گیا اور باقاعدہ ہسپتال کے فوٹیج کے ساتھ پرویز مشرف کی والدہ محترمہ کو وہاں بستر پر بیمار پڑا دکھایا گیا۔ مشرف یہاں ہسپتال میں اور انکی والدہ محترمہ دبئی ہسپتال میں۔ ٹی وی چینلز نےاس کو خوب اُچھالا اور حکومت پر دباؤ ڈالا کہ پرویز مشرف کواپنے علاج اور والدہ محترمہ سے ملنے ور تیمارداری کے لئے ۔۔فورا” باہر جانے دیا جائے حالانکہ وہ سنگین غداری مقدمے کے مرکزی ملزم تھے۔

نواز شریف سمیت سب کو اور میڈیا والوں کو پتہ تھا یہ سب پرویز مشرف کو باہر بھجوانے کا بہانہ ہے اور طبیعت خرابی کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔ لیکن ۔۔ اُنہوں نے اپنی طبیعت کے مطابق ان خبروں کی صداقت کو نہ خود چیلنج کیا اور نہ ہی اپنی پارٹی کے کسی رہنما کو ایسا کرنے دیا۔ماں اور بیٹے کے رشتے کا احترام کرتے ہوئے اور اپنی اخلاقی ذمہ داری سمجھتے ہوئے اُن کے ملنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی بلکہ مشرف کو باہر جانے کی اجازت کا الزام بھی اپنے سر لیا۔ بعد کے واقعات اور مشرف کے ڈانس نے یہ ثابت کردیا کہ بیماری کی خبریں کیس سے فرار کا ایک بہانہ تھا۔ اللہ دونوں ماں بیٹے کو زندگی دے لیکن مشرف کے ۔۔انہیں دوسروں کو بھی اپنے جیسا موقع پرست نہیں سمجھنا چاہئے۔ بیگم کلثوم نواز کی بیماری کا مذاق اڑانے والوں اور انکے ہینڈلرز کا ضمیر اگر زندہ ہوتا تو کلثوم صاحبہ کی وفات کے بعد وہ شرمندہ ہوتے۔ لیکن اپنے جھوٹ پر شرمندگی کی بجائے وہ اب نواز شریف کی بیماری بارے بھی اُسی ڈھٹائی سے ممبرز اگر اپنی سوچ کو پاکیزہ نہیں کر سکتے اور رعایات لینے کے لئے کوئی بھی بہانہ گھڑ سکتے ہیں تو انہیں۔۔اپنی ذہنیت کے مطابق راگ الاپ رہے ہیں اور ذاتی مفاد کے لئے جیسی بہانے بازی خود کرنے کی تربیت ہے دوسروں کو بھی ویسا ہی دکھانا چاہ رہے ہیں پرویزی سوچ میں عزت نفس کا مجروح ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا لیکن نواز شریف کے لئے اپنی اور دوسروں کی عزت نفس اہم ہے۔ سچ ہے فطرت نہیں بدل سکتی۔اور دوسروں کے بڑوں کا احترام کرتے ہیں--

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *