قرطبہ کی حسینہ

ھمیں ابھی تک شک ھے۔ ھمارے قدم اس ھسپانوی حسینہ کو دیکھ کر تھم گئے تھے۔ یا پھر ھم ریسٹورنٹ کی وجہ سے رکے تھے۔ بھوک بہت لگی تھی۔ اور ریسٹورنٹ کے اندر سے ترکی کھانے کی اشتعال انگیز خوشبو آ رھی تھی۔ جبکہ کچھ ایسی ھی اشتعال انگیزی اس حسینہ سے لپٹی معطر سینٹ کی مہک سے پیدا ھو رھی تھی۔ بھوک مزید بڑھ گئ تھی۔ ھم نے رک کر اس خرافہ کو دیکھا اور اب تک ھم نے ھسپانوی زبان کے جو دو الفاظ سیکھے تھے۔ ان میں سے ایک لفظ کو لچکتے ھوئے بول دیا۔ اولا ۔ یعنی ھیلو ، اس پری وش نے کمال بانکپن سے جوابی اولا ھماری جانب پھینکا ۔ جو ھمیں اندر دور تک گھائل کر گیا۔ پھر شستہ انگریزی میں بولی۔ آپ ھمارے ھاں طعام کرنا پسند کریں گے ؟ اک تیر تونے سینے میں مارا کہ ھائے ھائے۔ ظالمو نے بھوکے گاھک گھیرنے کے لیے کیسے کیسے نادر اور خطرناک ھتیار کھلے چھوڑ رکھے ھیں ۔ ایک ھسپانوی نازنین ،اوپر سے انگریزی میں گفتگو، گویا زبان سے بھوک تک تمام مسائل حل ھو گئے۔ ھم نے ھاں میں سر کو زور زور سے ھلایا۔ اور یہ کہنے والے ھی تھے۔ کہ طعام تو طعام ھم تو طویل قیام کے لیے بھی راضی ھیں۔ وہ پری رخ ھمیں کچے دھاگے سے باندھے اندر ریسٹورنٹ میں لے گئ۔ اور ایک جگہ بٹھا کر بولی۔ میں آپ کے لذت کام و دھن کا اھتمام کرتی ھوں۔ اور یوں وہ قاتلہ ھمیں وھاں چھوڑ کر اگلے گاھکوں کے گلے پر معطر بھری چھری پھیرنے چلی گئ۔
بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے ہائے کیا چیز غریب الوطنی ہوتی ہے۔
اندر ایک کھڑوس ھسپانوی بابا آرڈر لینے آ گیا۔ ایسی بلندی ایسی پستی۔ ھمارا اس کے ساتھ وھی پرانا لسانی فساد چھڑ گیا۔ ایک نقطے سے محرم سے مجرم بن جانے والا معاملہ تھا۔ ھم وفا لکھتے رھے وہ دغا پڑھتے رھے۔ ھم ککڑوں کوں سمجھاتے رھے۔ وہ میاوں میاوں سمجھتے رھے۔ چانچہ اسی حسینہ کی خدمات لی گئیں۔ آرڈر خوش اسلوبی سے طے ھو گیا۔ ھم نے ازراہ تفنن اس خوبصورت جل پری کو کہا۔ آپ کے ھاں اتنے زیادہ سیاح آتے ھیں ۔ آپ اپنے لوگوں کو تھوڑی بہت انگریزی کیوں نہیں سکھا دیتے۔ ھماری بات سن کر وہ ظالم خالی خالی نظروں سے ھمیں دیکھنے لگی۔ اور پھر ایک دلآویز مسکراھٹ کے ساتھ بولی۔ مجھے سمجھ نہیں آئ تم کیا کہہ رھے ھو۔ میری انگریزی اتنی اچھی نہیں ۔ ھم نے ھکے بکے ھو کر پہلے اسے دیکھا پھر اپنی فیملی کو دیکھا۔ اور ھسپانوی زبان کا جو دوسرا لفظ ھمیں یاد ھوا تھا۔ وہ بول دیا۔ گارسیا ۔ یعنی شکریہ ۔ اور سر جھکا کر کھانا کھانے لگے۔ قرطبہ کے المیہ کے بعد یہ دوسری ٹریجڈی تھی۔ جو قرطبہ میں اس مسلمان کے ساتھ ھوئ تھی۔ اور جس کا نام طارق تھا۔
ھمارا دل پہلے ھی دکھا ھوا ۔ ھم نے جب سے مسجد قرطبہ کو اندر سے دیکھا تھا۔ ھمارے اپنے اندر کے نازک اور حساس جزبے ٹوٹ پھوٹ گئے تھے ۔ غم یہ نہیں تھا۔ کہ ایک مسجد کو گرجے میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ تاریخ ایسے واقعات سے بھری ھوئ ھے۔ حب گرجوں، مندروں اور مسجدوں کو ایک دوسرے کے اندر تبدیل کر دیا گیا۔ ھر فاتح قوم یہ کرتی ھے۔ اپنے ساتھ اپنا مزھب ، اپنی زبان ، اپنا کلچر لے کر جاتی ھے۔ اور مفتوح اقوام انہیں قبول کرتی ھیں ۔ اپنا لیتی ہیں ۔ زندگی کا اوڑھنا بچھونا بنا لیتی ھیں۔ اور جب فاتح قوم کمزور پڑتی ھے۔ شکست و ریخت کا شکار ھوتی ھے۔ سقوط و زوال ان کے دروازے پر دستک دیتا ھے۔ تو پھر تاریخ پلٹا کھاتی ھے۔ یہی تاریخ کا سبق ھے۔ یہی ابدی سچائ ھے۔ جب اندلیسیہ میں مسلمانوں کا زوال ھو رھا تھا۔ ترکی کی سلطنت عثمانیہ عروج کی بلندیوں کو چھو رھی تھی۔ تاریخ کے عروج و زوال سے سبق سیکھنا چاھیے۔ نہ کہ آنسو بہائے جائیں۔ یہ سوچ کر رویا جائے۔ کبھی یہ ھماری سلطنت تھی۔ ھماری ملکیت تھی۔ یہاں مسلمان آباد تھے۔ یہاں کی فضاووں میں ازانیں گونجتی تھیں۔ خدا کے بندو ! تاریخ پر رونا دھونا چھوڑو۔ یہ دیکھو آج جن فضاووں میں ازان کی آوازیں گونج رھی ھیں۔ وھاں کا کیا حال ھے۔ آج دنیا میں مسلمان سب سے زیادہ کمزور، پسماندہ، غیر ترقی یافتہ، رجعت پسند، رسومات اور توھمات کے غلام ، ملائیت کے شکار، بند زھن ، بند دماغ ، بند تخیل ، بند تحقیق اور محدود ویثرن کے حامل موجود ھیں ۔ تفرقہ بازی، لسانیت ، اور فروعیت پر زندگی بسر ھوتی ھے۔ اور خواب یہ کہ ممولے کو شہباز سے لڑا دے۔
بہرحال ، قرطبہ کی عظیم مسجد مسلمانوں کے شاندار ماضی کی علامت ھے۔ لیکن ھمارا دکھ یہ تھا۔ آرٹ اور بے مثال خوبصورتی کے نمونے کو بدنما کر دیا گیا تھا۔ بہتر تھا۔ جس طرح غرناطہ، اشبیلیہ اور ملاقہ کے مساجد کو ڈھا کر وھاں گرجے تعمیر کر دیے گئے تھے۔ مسجد قرطبہ کو بھی ایسے ھی ختم کر دیتے۔ لیکن خوبصورت ستونوں اور پرنور دالانوں کے بیچوں بیچ جس طرح گرجا ایستادہ کیا گیا۔ جس طرح مسجد کی دیواروں کو تبدیل کیا گیا۔ اس نے اس آرٹ کے معجزے کو گھہنا دیا۔ جیسے چاند پر گرھن لگا ھو۔ یار ! کوئ حس جمال بھی ھوتی ھے۔ ھم تو راہ چلتے خوبصورتی کے مجسموں سے متاثر ھو جاتے ھیں ۔ جب ھم مسجد میں داخل ھو رھے تھے۔ تو دربان نے ھمیں خاص کہا۔ اندر نماز نہیں پڑھنی۔ ھم نے مسکرا کر کہا۔ ھم علامہ اقبال نہیں ھیں ۔ وہ بڑے آدمی تھے۔ لیکن کافی دیر سوچتے رھے۔ اس دربان کو کیسے معلوم ھوا۔ ھم مسلمان ھیں۔ یہ بات ھمارے لیے کافی حوصلہ افزاء تھی۔ ھم اپنی شکل، رنگ ، بودو باش اور لباس سے مسلمانوں کی طرع نظر آتے ھیں۔ حالانکہ ھم نے باقی لوگوں کی طرح جین کی پینٹ پہن رکھی تھی۔ اور منہ بگاڑ کر انگریزی بول رھے تھے۔ اس دوران ھم ھسپانوی زبان کا تیسرا لفظ بھی سیکھ چکے تھے۔ ھم نے سی یعنی یس کہا۔ اس نے اولا بولا اور ھم نے گارسیا کہہ کر مکالمہ ختم کر دیا۔ لیکن وہ ھسپانوی حسینہ ھمیں آج بھی یاد ھے۔ جو ھمیں اپنے دام میں پھنسا کر مہنگے طعام پر لے گئ تھی۔ ھم اولا اولا کرتے رہ گئے۔ وہ سی سی کرتی گئ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *