’’انوکھا قیدی…؟‘‘

وہی بات جو جاوید ہاشمی نے کوٹ لکھپت جیل کے باہر کہی: نواز شریف نے کس سے کہا، کب کہا کہ انہیں علاج کے لیے بیرون ملک بھیجا جائے؟ بدھ کی شام ہاشمی سے شامی صاحب کے دفتر میں ملاقات ہوئی۔ کوٹ لکھپت جیل میں میاں صاحب سے ملاقاتوں کے لیے جمعرات کا دن مقرر ہے۔ ہاشمی اسی لئے لاہور آئے تھے۔ میاں صاحب کے خلاف اسلام آباد میں مقدمہ چل رہا تھا تو ہاشمی ہر پیشی پر وہاں اپنی موجودگی کو یقینی بناتے۔ سزا ہوئی تو وہ ہفتہ وار ملاقات کے لیے اڈیالہ پہنچ جاتے۔ اب میاں صاحب کوٹ لکھپت جیل میں ہیں تو جمعرات کی ہفتہ وار ملاقات کو ہاشمی صاحب نے اپنے لیے فرض ٹھہرا لیا ہے اور ظاہر ہے، اس میں کوئی سیاسی غرض نہیں۔ وہ دسمبر 2011ء میں نواز شریف کو داغ مفارقت دے کر، تحریک انصاف کو پیارے ہو گئے تھے۔ اس حوالے سے ان کے اپنے ''دلائل‘‘ تھے (جن سے آپ کا اور ہمارا متفق ہونا ضروری نہیں) شاعر نے کہا تھا ؎
جانے والوں کو کہاں روک سکا ہے کوئی
تم چلے ہو تو کوئی روکنے والا بھی نہیں
لیکن ہاشمی کو روکنے کے لیے بیگم صاحبہ جاتی امرا سے سعد رفیق کے ہاں آئی تھیں۔ اگلے روز خود میاں صاحب بھی شاید ملتان پہنچ جاتے لیکن ہاشمی پہلی فلائٹ سے (علی الصبح) کراچی روانہ ہو گئے (جہاں 25 دسمبر کے جلسے میں انہیں تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کرنا تھا) 24 دسمبر کی کہر آلود صبح ملتان کے سینکڑوں مسلم لیگی متوالے بھی ہاشمی صاحب کا ''راستہ روکنے‘‘ کے لیے پہنچ گئے تھے، بعض تو ان کی گاڑی کے آگے لیٹ گئے تھے، لیکن ہونی کو کون ٹال سکتا ہے۔ میاں صاحب کی ہدایت تھی کہ ان کے ہمدمِ دیرینہ کے اس فیصلے پر کوئی منفی تبصرہ نہ کیا جائے۔ یاد پڑتا ہے، میاں صاحب اگلے روز انجینئرنگ یونیورسٹی کی تقریب میں آئے تو اخبار نویسوں کا پہلا سوال ہاشمی صاحب کی رخصتی کے حوالے سے تھا، میاں صاحب کا جواب تھا: وہ جاتے ہوئے سلام دعا تو کر جاتے (مزید یہ کہ) وہ برُے وقتوں کے بہت اچھے ساتھی تھے۔ پی ٹی آئی میں عمران خان کے بعد ہاشمی ہی کا مقام و مرتبہ تھا۔ 2013ء کے انتخابات کے بعد، وزارتِ عظمیٰ کے انتخاب میں نواز شریف کے مقابل پی ٹی آئی کے امیدوار بھی وہی تھے۔ شکست کے بعد، ان کا تبصرہ تھا: نواز شریف کل بھی میرے لیڈر تھے اور آج بھی، (اس ایوان کے) لیڈر ہیں۔ لیکن تحریکِ انصاف کے ساتھ ان کی زیادہ نہ نبھ سکی۔ اگست 2014 کے دھرنے کے حوالے سے، اختلاف، بالآخر تحریک انصاف سے ان کی علیحدگی پر منتج ہوا۔ وہ کنٹینر سے اتر کر جانے لگے تو کوئی انہیں روکنے والا نہ تھا۔ وہ تحریک انصاف کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے، اور اب رکنیت سے استعفے کو ایک لازمی اخلاقی تقاضا سمجھتے تھے، اس موقع پر ایوان میں ان کی (الوداعی) تقریر بلا شبہ پارلیمنٹ کی شاہکار تقریروں میں ایک تھی ؎
آج تک گم سُم کھڑی ہیں شہر میں
جانے دیواروں سے تم کیا کہہ گئے
ان کا گھرانہ قیام پاکستان کے پہلے سے مسلم لیگی تھا (جب اس علاقے کے اکثر و بیشتر زمیندار انگریز کی وفادار یونینسٹ پارٹی کا حصہ تھے)‘ ہاشمی بھی دوبارہ مسلم لیگ میں لوٹ آئے‘ لیکن ان کی یہ واپسی (اور وابستگی) کسی سیاسی غرض پر مبنی نہیں۔ مسلم لیگ کی ''قیادت‘‘ نے انہیں قومی اسمبلی کا ٹکٹ دیا، نہ سینیٹ کا۔ اس کے باوجود وہ نواز شریف کو اپنا لیڈر قرار دیتے ہیں کہ ان کے خیال میں نواز شریف، ان کی سیاسی آرزوئوں اور جمہوری تمنائوں کی علامت ہیں۔
ہاشمی سے ہمارا جذباتی تعلق، نصف صدی کا قصہ ہے؛ چنانچہ ان کے ذکر پر بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔ شامی صاحب کے ہاں اس ملاقات میں معلوم ہوا کہ وہ انہی دنوں عمرہ بھی کر آئے ہیں (اور کسی کو کانوں کان خبر بھی نہیں ہونے دی) ہم نے پوچھا: گزشتہ دنوں آپ نے نواز شریف رہائی کمیٹی بنانے کا اعلان کیا تھا۔ ہاشمی صاحب کا جواب تھا: لیکن اگر خود میاں صاحب رہائی نہ چاہتے ہوں؟
بدھ کی شام مریم نے ٹویٹ کر دیا تھا کہ طبیعت کی خرابی کے باعث جمعرات کو میاں صاحب سے ہفتہ وار ملاقاتیں نہیں ہوں گی، اس کے باوجود کارکنوں کی بڑی تعداد کوٹ لکھپت جیل کے باہر (حسبِ معمول) پہنچ گئی تھی۔ ظاہر ہے، جمعرات کی اس ملاقات کا ''اذنِ عام‘‘ نہیں ہوتا۔ اس کے لیے باقاعدہ آئی جی جیل خانہ جات سے منظوری آتی ہے۔ یہ کارکن ملاقات کے لیے نہیں، پسِ دیوار زنداں لیڈر سے وفاداری کے اظہار کے لیے آتے ہیں۔ ہاشمی ملتان سے ملاقات کے لیے آئے تھے، تو ملاقات کا امکان نہ ہونے کے باوجود جیل کے پھاٹک تک پہنچ گئے کہ اتمام حجت ہو جائے۔ یہیں اخبار نویسوں سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا: نواز شریف نے کس سے کہا، کب کہا کہ انہیں علاج کے لیے بیرونِ ملک جانے دیا جائے؟ 
نواز شریف کی علالت واقعتاً ایک سنگین مسئلہ ہے اسی لئے تو وزیر اعظم صاحب نے پنجاب حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ جہاں چاہیں، اور علاج کے لیے جیسی سہولتیں چاہیں مہیا کی جائیں۔ اس کے لیے بیرون ملک ڈاکٹروں کی خدمات بھی مہیا کی جا سکتی ہیں‘ جنہوں نے ان کی دو گزشتہ سرجریز کی تھیں۔ سپیکر پنجاب اسمبلی نے بھی میاں صاحب کے علاج معالجے کی نگرانی کے لیے خصوصی کمیٹی بنا دی ہے، جس میں وزیر قانون راجہ بشارت اور وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کے ساتھ مسلم لیگ (ن) کے دو ارکان بھی شامل ہیں۔ (یاسمین راشد کے بقول، وہ سیاستدان بعد میں اور ڈاکٹر پہلے ہیں) لیکن خود میاں صاحب اب کوئی ''احسان‘‘ لینے کے روادار نہیں۔ گزشتہ دو مہینوں کے دوران، ان کی بیماری پر طنز و استہزا کا جو مظاہرہ کیا گیا، اس پر وہ دُکھی ہیں، اتنے دُکھی کہ والدہ محترمہ کو بھی انکار کر دیا۔ ہر سعادت مند اولاد اپنے والدین کا احترام کرتی ہے، لیکن شریف فیملی میں تو یہ معاملہ ایک مثال کا ہے۔ جہاں والدین کو ''ناں‘‘ گناہ کے درجے میں سمجھی جاتی ہے اور ان کی اطاعت و فرماں برداری دینی فرائض کا حصہ۔ بڑے میاں صاحب کے انتقال کے بعد، ان کے حصے کا احترام بھی والدہ صاحبہ کے حصے میں آ گیا۔ میاں صاحب جاتی امرا سے شہر بھی آتے، تو والدہ صاحبہ کو سلام (اور ان سے اجازت) لازم سمجھتے اور واپسی پر بھی سب سے پہلے ان کی خدمت میں حاضر ہوتے۔ بڑے میاں صاحب کے بعد عباس شریف بھی اگلے جہاں سدھار گئے۔ پھر بیگم صاحبہ بھی روانہ ہو گئیں۔ ان پے در پے صدمات کے ساتھ بیٹوں کے لیے آزمائشیں، پوتی کو آٹھ سال کی سزا (جو ہائی کورٹ کے حکم پر معطل ہے) اس کے بعد تو والدہ صاحبہ کو ''ناں‘‘ کا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ تو اطاعت شعار بیٹے کے لیے وہ لمحات کتنے بھاری ہوں گے جب اس نے کہا: ماں جی! آپ گھر جائیں اور اللہ سے دعا کریں۔ جو ہونا ہو گا، ہو جائے گا۔ قرآن کے الفاظ میں، اُفوّض امری اِلی اللہ... اور بقول شاعر 
اے زندگی سپردِ خدا کر دیا تجھے
بے فکر ہو گئے ترے سود و زیاں سے ہم
سرکار کے مقرر کردہ ماہرین پر مشتمل پہلے بورڈ کی رپورٹ17 جنوری کو آ گئی تھی... چوتھے لارجر بورڈ کی رپورٹ کو بھی ایک ماہ سے زائد ہو چکا... ان سب رپورٹوں میں دل کے سنگین معاملے کا ذکر تھا (شوگر اور گردے کے مسائل اس کے علاوہ ہیں) میاں صاحب کا کہنا ہے، اس دوران انہیں شٹل کاک کی مانند کبھی یہاں، کبھی وہاں لے جایا جاتا رہا۔ کبھی پی آئی سی، کبھی سروسز اور کبھی جناح (اور وہ ہر جگہ جاتے رہے) اس دوران سنگدلانہ تبصروں کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ ایک میڈیکل رپورٹ میں گردے میں پتھری آئی تو فرزند لال حویلی نے ''قطری سے پتھری تک‘‘ کی پھبتی کسی۔ باقی حضرات بھی حسبِ توفیق تبصرہ آرائی (تیر آزمائی) کرتے رہے۔ عین اس روز جب وزیر اعظم کے زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں یہ معاملہ زیر غور آیا‘ اور وزیر اعظم صاحب نے ہر ممکن سہولتوں کی فراہمی کا حکم جاری کیا، اخبارات میں پنجاب کے وزیر قانون کا تبصرہ تھا: ''کیسا انوکھا قیدی‘‘ ہے جو چاہتا ہے کہ علاج بھی اس کی مرضی کا ہو، عدالتی فیصلے بھی اس کی پسند کے ہوں... ان کا اشارہ اس مصرعے کی طرف تھا:
انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند
بشکریہ روزنامہ دنیا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *