ویمن ڈے: کیا آپ یہ بات کسی مرد سے کہیں گے؟

آپ کسی مرد کو یہ بات نہیں کہیں گے؟

وہ وکیل ہوں یا ڈاکٹر، صحافی ہوں یا کرکٹر، کاروباری شخصیت ہوں یا سیاستدان دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی زندگی کے مختلف شعبہ جات میں نمایاں مقام حاصل کرنے والی خواتین کو ایسے جملے سننے کو ملتے ہیں جن کے بارے میں انھیں یقین ہے کہ اگر وہ مرد ہوتیں تو انھیں کبھی نہ کہے جاتے۔

اس مضمون میں وہ آپ سے ایسی باتیں شیئر کر رہی ہیں۔

عنبر رحیم شمسی

عنبر رحیم شمسی

صحافی، اینکر

میں فرقہ وارانہ تشدد کے حوالے سے ایک خبر پر کام کر رہی تھی۔ ایک مذہبی سکالر نے مجھ سے پوچھا کیا آپ شادی شدہ ہیں؟ میں نے انھیں بتایا ’جی ہاں اور میری دو بیٹیاں ہیں‘۔ اس پر انھوں نے مجھے جڑی بوٹیوں سے بنی ایک دوا استعمال کرنے کی تجویز دی جس کا مشورہ وہ دوسری خواتین کو بھی دے چکے تھے، تاکہ اگلی بار میرے ہاں لڑکا پیدا ہو!

ہاجرہ یامین

ہاجرہ یامین

اداکارہ

فلم ’پنکی میم صاحب‘ سے شہرت حاصل کرنے والی ہاجرہ کا کہنا ہے انھیں ’باہر اکیلے مت جاؤ‘ اور ’تمہیں نوکری کی کیا ضرورت ہے‘ اکثر سننے کو ملتے ہیں۔

عالیہ

عالیہ ریاض

کرکٹر

مجھ سے پوچھا جاتا ہے ’آپ نے اس فیلڈ کا انتخاب کیوں کیا؟ یہ تو لڑکوں کا کھیل ہے۔ لڑکی ہو کر کیسے دھوپ میں کھیل لیتی ہیں۔ دھوپ میں کھیلنے سے رنگ خراب ہو جاتا ہے۔‘

انعم علی

انعم علی

اسسٹنٹ کمشنر ریوینیو، فیصل آباد

صرف الفاظ ہی نہیں، اشارے اور انداز بھی ایسے ہوتے ہیں جو بہت چونکا دینے والے اور حیرت انگیز ہوتے ہیں۔

جیسے ایک دفعہ محرم کا مہینہ تھا اور میں نے شاید کالا لباس پہنا ہوا تھا اور لپ سٹک نہیں لگائی ہو گی۔ میرے ایک سینیئر نے کہا ’آپ کا محرم لگتا ہے اب شروع ہوا ہے، لوگوں کا تو ختم ہو گیا ہے۔ آپ کے شوہر آپ کے ساتھ کیسے گزارہ کرتے ہوں گے؟‘

اعظمی

اعظمیٰ بخاری

سیاستدان

جب میں پہلی بار 2002 میں پنجاب اسمبلی کی رکن کی حیثیت سے آئی تو اس وقت ہمارے مرد ساتھی ہمیں 'سویٹ ڈش' کہا کرتے تھے۔ پھر 2007 کی صوبائی اسمبلی میں خواتین اراکین کو ’خیراتی نشستوں پر آنے والی خواتین‘ کہا گیا۔

ان الفاظ نے ہمیشہ میرا عزم اور مضبوط کیا اور میں نے اپنا سیاسی سفر جاری رکھا۔

عمارہ

عمارہ اطہر

پولیس افسر

’مجھ سے اکثر پوچھا جاتا ہے کہ پولیس میں کیوں بھرتی ہوئیں۔ کیونکہ خواتین کی بڑی تعداد اب پولیس میں آنا شروع ہوئی تو اس لیے یہ اب کم پوچھا جاتا ہے۔‘

سیمی

ڈاکٹر سیمی جمالی

منتظم، جناح ہسپتال، کراچی

مرد مجھے ’آئرن لیڈی‘ یعنی خاتونِ آہن کہتے ہیں، مجھے اس پر فخر محسوس ہوتا ہے۔ میری عمر اور حجم کے کسی مرد کو یہ کبھی نہ کہا جاتا۔ میں سے ایک قابل خاتون کے طور پر جانی جاتی ہوں اور مجھے اپنے عورت ہونے پر بہت خوشی ہے۔

کلثوم

کلثوم لاکھانی

بانی، سٹارٹ اپ فنڈ ’انویسٹ ٹو اِنوویٹ‘

سرمایہ کاروں کی ایک کانفرنس میں میرے سوا تمام مرد تھے، لیکن میں سب سے زیادہ بڑھ چڑھ کر بول رہی تھی۔ جب میں سٹیج سے اتر رہی تھی تو ایک بڑی عمر کے صاحب نے مجھ ںے کہا ’میں متعصب نہیں ہونا چاہ رہا لیکن مجھے حیرت ہو رہی ہے کہ آپ اتنا کچھ جانتی ہیں۔‘

میں نے کہا ’جی، میں سات سال سے یہ کام کر رہی ہوں، مجھے اتنا تو کم از کم آتا ہی ہوگا۔‘

نگہت

نگہت داد

سماجی کارکن، بانی ’ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن‘

مجھے جو جملہ کہا گیا وہ تھا ’ایک طلاق یافتہ عورت اس معاشرے میں اپنی جگہ نہیں بنا سکتی‘۔ لیکن میں نے ثابت کیا ہے کہ یہ قطعاً درست نہیں۔

ریما عمر

ریما عمر

وکیل، انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس

جب میں نے وکالت شروع کی تو مجھے کہا گیا کہ اگر قانون کی پریکٹس کرنی ہے تو فیملی لا خواتین کی نرم اور حساس طبعیت کے اعتبار سے زیادہ مناسب ہے۔ ’ہارڈ‘ قانونی معاملات سے دور رہی رہو تو بہتر ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *