مذاکرات کی پیشکش کا جلد جواب دیا جائے گا، تحریک طالبان پاکستان

Hakeemullah Mehsud might have been killedکالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے سینیئر کمانڈرز نے کل بروز جمعرات کو نامعلوم مقام پر منعقد کیے گئے شوریٰ کے اجلاس میں اس بات پر تبادلۂ خیال کیا کہ آیا حکومت کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کا کس طرح سے جواب دیا جائے۔

امکان ہے کہ تحریکِ طالبان پاکستان کا مشاورتی اجلاس جو قبائلی علاقے میں افغان سرحد کے قریب نامعلوم مقام پر ہو رہا ہے کچھ دن اور جاری رہے۔

طالبان کے دو کمانڈروں کا کہنا ہے کہ پاکستانی طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود، جو ماضی میں حکومت کے ساتھ مذاکرات کی مخالفت کرتے تھے، اس مشاورتی اجلاس کی صدارت کررہے ہیں۔

طالبان ترجمان شاہد اللہ شاہد نے کہا کہ “ہم حکومتی پیشکش کو صورتحال کے تناظر اور ہر زاویے سے دیکھ رہے ہیں اور جلد فیصلے  سے میڈیا کو آگاہ کریں گے۔”

یاد رہے کہ اس سے  قبل طالبان کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کا خیرمقدم کیا گیا تھا۔

کسی نامعلوم مقام سے بات کرتے ہوئے طالبان کے ایک سینیئر کمانڈر کا کہنا تھا کہ ہم نے حکومت کی اس پیشکش کو سنجیدگی سے لیا ہے اور طالبان کمانڈرز ممکنہ مذاکراتی ایجنڈے پر بات کررہے ہیں۔

ایک اور طالبان کمانڈر کا کہنا تھا کہ شوریٰ کے اجلاس میں صورتحال کا مختلف تناظر میں جائزہ لیا جا رہے اور یہ بہت اچھا اقدام ہے کہ پاکستان کی حکومت نے مذاکرات کا عمل شروع کیا۔

انہوں نے فوج سے طالبان کے خلاف شمالی وزیرستان میں تمام آپریشنز اور امریکی ڈرون حملوں کو بند  کرنے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں ہمارے تمام قیدیوں کو رہا کیا جائے اور جو لوگ آپرییشنز میں ہلاک ان کے لیے معاوضے کا اعلان کیا جائے۔

طالبان کے تین کمانڈرز کا کہنا ہے کہ وہ مذاکراتی کمیٹی میں شامل افراد کے ناموں اور طالبان قیدیوں کی فہرست کو حتمی شکل دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ شوریٰ اجلاس میں تمام معاملات پر آئندہ پانچ سے چھ روز میں فیصلہ کرلیا جائے  گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ حکومت کی طرف سے ضمانت چاہتے ہیں کیونکہ ماضی میں حکومت اپنی کیے گئے وعدوں پر پورا نہیں اتری تھی اور ہم نہیں چاہتے کہ ایسا اب دوبارہ ہو۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *