16 سالہ گرتا تھنبرگ امن کے نوبیل انعام کے لیے نامزد

سوئیڈن سے تعلق رکھنے والی 16 سالہ طالبہ گرتا تھنبرگ جن کی کاوشوں نے ماحولیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک عالمی تحریک کو جنم دیا ہے، کو امن کے نوبل انعام کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔

انھیں ناروے کے تین اراکینِ اسمبلی نے نامزد کیا ہے۔

اگر وہ کامیاب ہوتی ہیں تو وہ یہ انعام جیتنے والی نوجوان ترین شخص ہوں گی۔ پاکستان کی ملالہ یوسفزئی نے یہ انعام 17 سال کی عمر میں حاصل کیا تھا۔

گرتا تھنبرگ نے اس خبر کے ردعمل میں ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا کہ یہ نامزدگی ان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔

ناروے کی سوشلسٹ پارٹی کے رکنِ پارلیمنٹ فریذی اوضتگارڈ نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے گرتا تھنبرگ کو اس لیے نامزد کیا ہے کیونکہ اگر ہم نے ماحولیاتی تبدیلی کے سلسلے میں کچھ نہ کیا تو یہ جنگوں، تنازعات اور لوگوں کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی کا باعث بنے گی۔‘

انھوں نے کہا ’گرتا نے اس حوالے سے ایک بڑی تحریک شروع کی ہے جسے میں امن میں اہم حصہ ڈالنا مانتا ہوں۔‘

سکولوں میں احتجاج کیا ہے؟

آئندہ جمعے کو توقع ہے کہ دنیا بھر کے سو سے زائد ممالک میں ہزاروں سکول جانے والے بچے ماحولیاتی تبدیلی کے سلسلے میں احتجاج کریں گے۔

یہ احتجاج گرتا تھنبرگ کی جانب سے شروع کی گئی فرائی ڈے فار فیوچر #FridaysForFuture تحریک کی ایک کڑی ہیں۔

اب تک متعدد بار اس سلسلے میں جرمنی، برطانیہ، فرانس، آسٹریلیا، اور جاپان میں سکولوں سے واک آؤٹ کیے جا چکے ہیں۔

تاہم آئندہ جمعے کے احتجاج کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ اب تک کا سب سے بڑا ہوگا۔

گرتا تھنبرگ کون ہیں؟

گرتا تھنبرگ کا تعلق سوئیڈن سے ہے اور اپنے ٹوئٹر پیج پر وہ اپنے آپ کو ’16 سالہ ماحولیاتی کارکن جسے ایسبرگرز سنڈروم ہے‘ کے طور پر بیان کرتی ہیں۔ گذشتہ سال انھوں نے اگست میں سوئیڈن کی پارلیمنٹ کے سامنے ایک سکولوں کی ہڑتال کا انعقاد کیا تھا۔

تب سے لے کر وہ تقریباً ہر جمعے کو سکول سے ناغہ کرتی ہیں تاکہ وہ اپنا احتجاج جاری رکھ سکیں۔

دسمبر میں پولینڈ میں اقوام متحدہ کی کلائیمیٹ ٹالکس اور جنوری میں ڈیویس میں ورلڈ اکنامک فورم میں تقاریر کرنے کے بعد انھیں عالمی شہرت ملی۔

انھوں نے ڈیویس میں عالمی رہنمائوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ ہم ناکام ہو چکے ہیں۔‘

نوبیل کی نامزدگی اور چناؤ کیسے ہوتا ہے؟

قومی سیاستدان، عالمی حکام، ماہرین اور اس انعام کے ماضی کے کامیاب لوگ ان میں شامل ہیں جو ممکنہ لوگوں کو اس کے لیے نامزد کرتے ہیں۔

اس انعام کا اکتوبر میں اعلان کیا جاتا ہے اور دسمبر میں ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں دیا جاتا ہے۔

نوبیل کمیٹی کا کہنا ہے کہ 2019 میں 301 نامزدگیاں ہیں جن میں سے 223 افراد اور 78 تنظیمیں ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *