پاکستان میں انڈین ڈراموں اور فلموں پر پابندی، زیادہ نقصان پاکستان کا؟

انڈیا نے جب پاکستانی سرحد کے اندر فضائی حملہ کیا تو پاکستان نے نہ صرف طاقت سے اس کا جواب دیا بلکہ اپنے ملک میں انڈین ڈرامے اور فلمیں دکھانے پر بھی پابندی لگا دی۔ یہ آسان راستہ ہے لیکن بی بی سی کے الیاس خان اور شمائلہ جعفری کے مطابق اس کے نتائج غیر متوقع بھی ہو سکتے ہیں۔

سنہ 1947 کے بعد سے ہی انڈیا اور پاکستان کے درمیان تنازع رہا ہے لیکن بالی وڈ کے ساتھ ان کی مشترکہ محبت کسی طرح تقسیم اور اس کے بعد بھی بچی رہی ہے۔

لیکن مختلف حکومتوں کے لیے بالی وڈ ہمیشہ آسان ہدف رہا ہے۔ تازہ ترین واقعہ اس وقت پیش آیا جب انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں شدت پسندوں نے پلوامہ میں انڈین فوجیوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں انڈیا نے پاکستان پر فضائی حملہ کیا جسے وہ شدت پسندوں کے کیمپ پر حملہ قرار دیتا ہے اور پھر پاکستان نے انڈیا کے ایک جنگی طیارے کو بھی مار گرایا۔

انڈین فلمیں

پاکستان میں فلم دکھانے والوں کی تنظیم نے کہا کہ وہ پاکستان میں بالی وڈ فلموں کی ریلیز پر پابندی لگا رہی ہے جبکہ مارچ میں پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے یہ حکم نامہ جاری کیا کہ پاکستان کے مقامی ٹی وی پر انڈیا کا کوئی مواد نشر نہ کیا جائے۔ اس پابندی کی زد میں انڈیا کے اشتہارات، ڈرامے اور فلمیں آتی ہیں۔

سپریم کورٹ کے جج نے پابندی لگاتے ہوئے پوچھا: 'کون انڈیا کے مواد دیکھنا چاہے گا جب انڈیا ہماری حدود میں در اندازی کر رہا ہے؟'

بالی وڈ

24 سالہ طالبہ اقصیٰ خان دل و جان سے اس بات سے متفق ہیں۔

انھوں نے پوچھا: 'وہ ہم پر جنگ مسلط کر رہے ہیں تو ہم ان کے فلم اور ڈرامے یہاں کیسے ریلیز ہونے دیں گے؟'

لیکن اس پابندی سے کس کو ضرب پڑے گی یہ ابھی دیکھنا باقی ہے۔

پاکستانیوں کی اچھی خاصی تعداد کے لیے انڈین انٹرٹینٹمنٹ دیکھنے کا لطف اس پر لگنے والی پابندی کے پیچھے جذبے پر فتح یاب ہوتا نظر آتا ہے۔

علی شیواری نے کہا: 'ہم شاہ رخ خان، عامر خان، اور سلمان خان کو دیکھتے ہوئے بڑے ہوئے ہیں۔' وہ سینما کے اتنے بڑے شائق ہیں کہ انھوں نے انڈین سینیما کے متعلق سٹڈی کا فیصلہ کیا ہے۔

'انھوں نے کہا کہ ہمیں ان جیسا پاکستان میں ڈھونڈنے میں وقت لگے گا۔'

شاید پاکستانیوں پر اس کا سب سے زیادہ اثر مالی اعتبار سے پڑے گا۔

فلم صحافی رافع محمود کہتے ہیں کہ 'انڈیا کی فلم انڈسٹری پاکستانی باکس آفس کی زندگی کے لیے اہم ہے۔'

انھوں نے بتایا کہ ملک میں تقریباً 120 سینیما ہال ہیں اور کسی بھی اچھی فلم کی وہاں دو ہفتوں تک نمائش ہوتی ہے۔ ان کے تخمینے کے مطابق پاکستانی سینیما کو کم از کم 26 نئی فلمیں ہر سال پیش کرنی ہوں گی تاکہ ان کا کاروبار چلتا رہے۔

لیکن پاکستان کی اپنی فلم انڈسٹری سال بھر میں صرف 12 سے 15 فلمیں ہی تیار کر پاتی ہے۔ محمود مزید بتاتے ہیں کہ یہ فلمیں بہت زیادہ شائقین کو اپنی طرف متوجہ بھی نہیں کر پاتیں۔

صحافی حسن زیدی کا کہنا ہے کہ درحقیقت پاکستانی فلم انڈسٹری میں 70 فیصد کمائی انڈیا کی فلموں سے ہوتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ 'یہ پابندی قابل عمل نہیں ہے۔ یہاں کی سینیما انڈسٹری بالی وڈ کے بغیر جی نہیں سکتی۔'

سب سے طویل پابندی سنہ 1965 سے سنہ 2005 تک قائم رہی اور یہ انڈیا کے ساتھ جنگ کے نتیجے میں لگائی گئی تھی۔

اس کے سبب فلم انڈسٹری رو بہ زوال ہو گئی۔ کئی سو سینما ہالوں کو شاپنگ مال یا شادی گھروں میں تبدیل کر دیا گيا۔

سنہ 1990 کی دہائی میں جب یہ پابندی ہٹائی گئی تو جو پاکستانی فلم انڈسٹری مر چکی تھی وہ پھر سے جی اٹھی۔

پاکستان میں ڈان نیوز ویب سائٹ کی مدیر اور سابق انٹرنینمنٹ صحافی عتیقہ رحمان نے کہا: 'اس کی وجہ سے ناظرین سینیما گھروں کو آنے لگے اور اس نے فلم بنانے کے لیے پاکستان کے فلم سازوں کی حوصلہ افزائی کی۔'

لیکن ان کی فلمیں بجٹ یا سٹار پاور کے لحاظ سے بالی وڈ کا ہمیشہ مقابلہ نہیں کر پاتیں۔

سینیما کے کاروباری پہلوؤں سے واقف ایک صاحب کے مطابق یہ چیزیں اس بات کی وضاحت کرتی ہیں کہ آخر پاکستان کے سینیما گھروں میں حالیہ برسوں میں 60 فیصد سے زیادہ انڈین فلموں کی نمائش کیوں ہوتی ہے اور اس کے بعد ہالی وڈ کی فلموں کا نمبر آتا ہے۔

فواد خان

انصاف کی بات کریں تو پاکستان میں انڈین مواد پر حالیہ دو پابندیاں ایک دوسرے کے جواب میں ہیں اور حالیہ پابندی کشمیر کے حملے کے بعد آل انڈیا سِنے ورکرز ایسوسی ایشن کی جانب سے بالی وڈ میں تمام پاکستانی فنکاروں کے کام کرنے پر پابندی کے بعد آئی ہے۔

اور یہ پہلا موقعہ نہیں ہے جب انڈیا نے اس قسم کی پابندی ‏عائد کی ہے۔ پاکستان کے فواد خان پر بالی وڈ فلموں میں اداکاری کرنے پر اس وقت پابندی لگا دی گئی جب انڈیا میں دائیں بازو کے نظریات کے حامل افراد نے سنہ 2016 میں 'سرجیکل سٹرائک' کے بعد پابندی کا مطالبہ کیا۔

اس کے علاہ بالی وڈ کے اداکار شاہ رخ خان کے ایک پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان کے ساتھ فلم میں کام کرنے پر بھی سنہ 2017 میں شور اٹھا تھا۔ اس فلم کی ریلیز پر دائیں بازو کے سخت گیر ہندوؤں کی جانب سے پابندی کا تنازع شروع ہو گیا تھا اور انڈیا میں اس کی ریلیز تاخیر کا شکار ہوئی جبکہ پاکستان میں یہ فلم ریلیز نہ کی جاسکی کیونکہ سینسر بورڈ نے کہا کہ اس میں 'قابل اعتراض مواد' ہے۔

انڈین فلمیں

پاکستانی فلم ساز ندیم مانڈوی والا کی خواہش ہے کہ یہ پابندی عارضی ثابت ہو۔

انھوں نے کہا: 'امید ہے کہ دونوں ممالک میں سمجھداری پیدا ہو۔ '

اور آج کے دور میں یہ نہ بھولیں کہ بالی وڈ کے شائقین نیٹ فلکس، یوٹیوب اور دوسرے پلیٹ فارمز پر بھی فلمیں دیکھ سکتےہیں جس سے یہ پابندی محض علامتی رہ جاتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *