’سفید فام انتہا پسندی پوری دنیا کا مسئلہ ہے‘

کرائسٹ چرچ میں ہلاک ہونے والوں کی تدفین: وزیرِاعظم جاسنڈا آرڈرن کہتی ہیں ’سفید فام قوم پرستی پوری دنیا کا مسئلہ ہے‘

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں گذشتہ جمعے کو دو مساجد پر ہونے والے حملوں میں زندگی کی بازی ہارنے والوں کی پہلی تدفین جاری ہے۔ اس واقعے میں 50 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

نیوزی لینڈ کے دیگر شہروں میں رہنے والے رضاکاروں نے تدفین کے عمل میں مدد کرنے اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کے لیے کرائسٹ چرچ تک سفر کیا۔

دوسری جانب نیوزی لینڈ کی وزیرِاعظم جاسنڈا آرڈرن نے حملے کو ’انتہا پسندی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں فوجی ساختہ نیم خودکار اسلحے کی دستیابی نیوزی لینڈ کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کلائیو مائری کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں وزیرِاعظم آرڈرن کا کہنا تھا کہ ’وائٹ نیشنل ازم‘ یا سفید فام قوم پرستی ایک عالمی مسئلہ ہے۔

’یہ حملہ ایک آسٹریلوی شہری نے کیا، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ مسئلہ ہمارے یہاں نہیں پایا جاتا۔‘

اس سوال کے جواب میں کہ کیا یہ حملہ انٹیلی جنس کی ناکامی تھا، ان کا کہنا تھا کہ ایجنسیوں کی سالانہ رپورٹس میں ہر بات کا تذکرہ نہیں ہوسکتا۔ ’ان حقائق کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کہ عالمی سطح پر سفید فام قوم پرستوں کی موجودگی بڑھی ہے، ہماری ایجنسیاں گذشتہ نو ماہ سے خاص طور پر ایسے گروہوں کے رہنماؤں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔‘

جاسنڈا آرڈرن

جب ان کو یاد کرایا گیا کہ ان ہی کی حکومت کی ایک اتحادی جماعت کے سربراہ نے کہا تھا کہ ان کے لیے امیگریشن ’قومیت اور نسل پرستی‘ ہے، تو وزیرِاعظم آرڈرن نے کہا کہ انکی حکومت کے ہوتے ہوئے ملک میں تارکین وطن کی تعداد بڑھی ہے۔

انھوں نے پوری دنیا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس حملہ آور نے نشانہ نیوزی لینڈ کو بنایا، لیکن ان کے خیالات کی تشکیل کہیں اور ہوئی تھی۔

’ان کا نام کسی واچ لسٹ پر نہیں تھا، نہ آسٹریلیا میں اور نہ کہیں اور۔ لیکن ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس سوچ کو جڑ پکڑنے نہ دیں اور ایک ایسا ماحول بنائیں جہاں اس طرح کے خیالات کو پنپنے کی اجازت نہ ہو۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کے اس واقعے کی خبر سننے کے بعد پہلے تاثرات کیا تھے، تو وزیرِاعظم آرڈرن نے بتایا کہ 'میرا نہیں خیال کہ کوئی بھی لیڈر کہیں بھی اس طرح کے واقعے کے لیے تیار ہوتا ہے اور بطور ایک پرامن ملک کی وزیر اعظم، جہاں 200 قومیتوں اور 60 مختلف زبانیں بولنے والے لوگ بستے ہیں، یہ خبر میرے لیے ایک صدمہ تھی۔'

انھوں نے بتایا کہ جب وہ ولینگٹن کی ایک مسجد میں گئیں تو وہاں ایک بچے نے ان سے سوال کیا ’وزیر اعظم، کیا اب ہم محفوظ ہیں؟‘

ان کا کہنا تھا: ’یہ میری ذمہ داری ہے کہ میں ہر طبقے کی حفاظت کو یقینی بناؤں۔‘

دوسری طرف اس حملہ کے ذمہ دار 28 سالہ آسٹریلین شہری برینٹن ٹیرنٹ پر فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔

نامہ نگار کلائیو مائری

تدفین کا عمل

کرائسٹ چرچ حکام نے بدھ کو تدفین سے قبل میڈیا کے لیے سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے درخواست کی ہے کہ متاثرہ خاندانوں کو اکیلا چھوڑ دیا جائے۔

کونسل کی خاتون ترجمان کا کہنا ہے کہ ’ لاشوں کو ایک نجی مارکی جسے خاندانی علاقے کے طور پر قائم کیا کیا ہے کی سائٹ پر لایا جائے گا۔‘

ترجمان نے مزید کہا ’نماز کے لیے مختصر وقت کے بعد، خاندان اور دوست احباب لاش کو قبرستان میں لے جائیں گے جہاں اسے دفنایا جائے گا۔‘

اسلامی روایات کے مطابق میتوں کو جلد سے جلد دفن کرنا چاہیے لیکن شناخت کے طویل عمل کے باعث تدفین کے عمل میں تاخیر ہو رہی ہے۔

پولیس نے بدھ کو النور مسجد میں ہلاک ہونے والے چھ افراد کی شناخت ظاہر کرتے ہوئے اس بات کی امید ظاہر کی کہ بدھ تک تمام لاشوں کو ورثا کے حوالے کر دیا جائے گا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ لاشوں کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے۔

44 سالہ خالد مصطفی اور 16 سالہ حمزہ گذشہ سال نیوزی لینڈ پناہ حاصل کرنے آئے تھے۔

خالد نے سوگواران میں اہلیہ اور ایک کم عمر بیٹا زید مصطفی چھوڑا ہے جو اس حملے میں زخمی ہوگیا تھا اور جنازے میں شرکت کے لیے وہیل چیئر میں بیٹھ کر آیا تھا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جنازے میں موجود افراد نے بتایا کہ زید نے اس موقع پر کہا کہ وہ اپنے والد کے ساتھ ہونے چاہتے ہیں بجائے ان کے سامنے کھڑے ہونے کے۔

اس کے باوجود کچھ خاندانوں نے شناخت کے عمل میں ہونے والی تاخیر پر برہمی کا اظہار کیا۔ 23 سالہ محمد سافی جن کے والد مطیع اللہ سافی النور مسجد میں ہلاک ہوئے تھے نے اس حوالے سے فراہم کی جانے والی معلومات کے بارے میں شکایت کی۔

جنازے

انھوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ’وہ کہہ رہے ہیں کہ وہ اپنا طریقۂ کار مکمل کر رہے ہیں۔ مجھے معلوم نہیں کہ وہ لاش کی شناخت کے لیے کیا کر رہے ہیں؟‘

دوسری جانب پولیس نے منگل کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ’ہم لاشوں کی شناخت کے لیے درکار طویل وقت کے حوالے سے متاثرہ خاندانوں کی مایوسی سے پوری طرح آگاہ ہیں۔‘

پولیس کے بیان میں مزید کہا گیا ’ہم اس کام کو مکمل کرنے کے لیے جتنا ممکن ہے وہ سب کر رہے ہیں اور لاشوں کو ان کے پیاروں کے حوالے کرنا چاہتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *