ایگزیکٹ کے خلاف تحقیقات کا رخ موڑنے کی کوشش، اعلیٰ بیوروکریسی سرگرم

exactکراچی: آئی ٹی کمپنی ایگزیکٹ کی جانب سے مبینہ طور پر جعلی ڈگریوں کے عوض ملکی اور غیرملکی شہریوں سے کروڑوں ڈالر وصول کرنے کے الزامات کی تحقیقات کا رخ موڑ دیا گیا جب کہ  تحقیقات غیرمؤثر کرنے کے لئے اعلی بیوروکریسی سرگرم ہوگئی ہے۔

ایف آئی اے کی جانب سے کراچی اور اسلام آباد میں کمپنی کے دفاتر میں چھاپوں کے دوران انتہائی مختلف نوعیت کے رویوں کا مظاہرہ کیا گیا، کراچی میں تحقیقات سائبر کرائم سرکل سے لے کر کارپوریٹ کرائم سرکل کے حوالے کردی گئی،کمپنی کے دفاتر میں خانہ پری کے لئے چھاپہ مارا گیا، ایف آئی اے اہلکاروں نے ویب ہوسٹنگ کا ریکارڈ حاصل کرنے کے لئے کمپیوٹر سرورز اور ریکارڈ کوقبضے میں لینے کی کوشش نہیں کی گئی، چھاپہ مارنے والی ٹیم کے سربراہ نے دعویٰ کیا کہ ایف آئی اے نے کمپنی کے کمپیوٹرز پر ایک فلٹر (تالا) لگادیا ہے جس کے بعد وہ اپنے ریکارڈ میں ردوبدل نہیں کرسکیں گے۔

نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان کی آئی ٹی کمپنی بڑے پیمانے پرجعلی ڈگریوں اور دیگر دستاویزات کے عوض مشرق وسطی اور امریکی شہریوں سے کروڑوں امریکی ڈالر وصول کررہی ہے،ان الزامات کی تحقیقات کیلیے منگل کی صبح وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے ایگزیکٹ کے خلاف لگائے جانے والے الزامات کی تصدیق کے لئے ایف آئی اے کو ذمے داری سپردکی، وزیرداخلہ کے احکام ملنے کے بعد ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کے پروجیکٹ ڈائریکٹر یاسین فاروق نے کراچی اور اسلام آباد راولپنڈی میں واقع ایف آئی اے سائبر کرائم سرکلز کو بیک وقت ایگزیکٹ کے صدر دفتر کراچی اور اسلام آباد میں واقع دوسرے اہم ترین دفتر پر چھاپہ مار کر متعلقہ دستاویزی اور کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ قبضے میں لینے کی ہدایت کی۔

ذرائع کے مطابق ایف آئی اے سائبر کرائم کی ٹیمیں بیک وقت کراچی اور اسلام آباد کے دفاتر میں داخل ہوئیں، اسلام آباد میں ایف آئی اے کی ٹیم نے کمپنی کے دفتر میں واقع تمام کمپیوٹرز اور دستاویزی ریکارڈکوقبضے میں لے کر سائبر کرائم سرکل منتقل کردیا جب کہ کمپنی کے مختلف شعبہ جات کے سربراہان کو بھی پوچھ گچھ کے لئے کچھ دیرکے لئے حراست میں لیا گیا جب کہ دوسری جانب کراچی میں جب ایف آئی اے کی ٹیم ایگزیکٹ کے صدر دفتر میں داخل ہوئی تو اسے ابتدائی طور پرآئی ٹی کمپنی کے انتظامی افسران کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تاہم مذاکرات کے بعد ایف آئی اے کی ٹیم کواندر داخل ہونے کی اجازت دے دی گئی۔

آئی ٹی ماہرین پرمشتمل ایف آئی اے کی ٹیم نے کمپنی کے کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ کا معائنہ کرنے کے بعد متعدد سرورز اور دیگر ریکارڈ کو قبضے میں لینے کا فیصلہ کیا تاہم اچانک اسلام آباد ہیڈکوارٹرز سے آنے والی ایک ٹیلی فون کال کے بعد چھاپہ مارنے والی ٹیم کے سربراہ نے نشاندہی کیے گئے کمپیوٹرز اور ریکارڈ کو قبضے میں لیے بغیر واپس جانے کا فیصلہ کیا، ذرائع نے بتایا کہ اس وقت تک ایف آئی اے ہیڈکوارٹرز اسلام آباد کی بیورو کرسی حرکت میں آچکی تھی اور انہوں نے ایک مرتبہ پھر ہائی پروفائل تحقیقات کے لئے وزیرداخلہ کی ہدایات کے برعکس معاملے کو اپنے انداز سے نمٹانے کا فیصلہ کیا۔

ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے نے  ایگزیکٹ کی جانب سے جعلی ڈگریاں جاری کرنے کی تحقیقات کے لئے ایک کمیٹی کا نوٹی فیکیشن جاری کردیا، جس کے تحت ڈائریکٹر ایف آئی اے سندھ زون شاہد حیات کو تحقیقاتی کمیٹی کا سربراہ بنایا گیا تھا کراچی سے کمیٹی کے دیگر اراکین میں ڈپٹی ڈائریکٹر سائبر کرائم احمد ضعیم اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر سعید میمن شامل ہیں جب کہ اسلام آباد سے کمیٹی کے اراکین میں پروجیکٹ ڈائریکٹر سائبر کرائم یاسین فاروق، اسسٹنٹ ڈائریکٹر طاہر نوید، اسسٹنٹ ڈائریکٹر احسان کیانی اور سب انسپکٹر راجہ واجد شامل ہیں، شاہد حیات کی سربراہی میں کمیٹی کے اراکین کا اجلاس منعقد ہوا جس میں ایک دلچسپ فیصلہ کیا گیا کہ کراچی میں ایگزیکٹ کے خلاف جعلی ڈگریاں فروخت کرنے کی تحقیقات کی انکوائری کارپوریٹ کرائم سرکل میں درج کی جائے گی اور سائبر کرائم سرکل کے ماہرین تحقیقات میں معاونت کریں گے۔

ایڈیشنل ڈائریکٹر کارپوریٹ کرائم سرکل کامران عطا اﷲ کی سربراہی میں ایک مرتبہ پھر ایف آئی اے کی 4 رکنی ٹیم ایگزیکٹ کے دفتر گئی جہاں انہوں نے کمپنی کے مالک شعیب شیخ کو ایک روز بعد ایف آئی اے کے دفتر میں طلب کرنے کا قانونی نوٹس دیا اور کمپنی کے ڈائریکٹرز کی تفصیلات بھی حاصل کیں تاہم ایف آئی اے کی ٹیم نے پہلے سے نشاندہی کیے جانے والے کمپیوٹر سرورز اور دیگر ریکارڈ کو قبضے میں لینے کی کوشش نہیں کی، اس سلسلے میں رابطہ کرنے پر ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے کامران عطا اﷲ نے بتایا کہ ایف آئی اے کے ماہرین نے ایگزیکٹ کے کمپیوٹرز پر فلٹر(تالا) لگادیا ہے اور اب وہ ان کمپیوٹرز کے ریکارڈ میں ردوبدل نہیں کی جاسکتی، تاہم جب ان سے فلٹر کی تفصیلات پوچھی گئیں تو انہوں نے یہ کہہ کر جان چھڑالی کہ میں آئی ٹی ماہر نہیں ہوں مجھے اس بارے میں کچھ زیادہ معلومات نہیں ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ ویب ہوسٹنگ کا ریکارڈ حاصل کرنے کے بجائے دانستہ طور پر کمپنی کے ماہرین کو موقع دیا گیا کہ وہ اپنے خلاف موجود کسی بھی ریکارڈ کو ضائع کرسکیں یا وہ ان میں ردوبدل کردیں، ذرائع نے بتایا کہ اس قبل ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی سمیت اہم نوعیت کے مالی اسکینڈلز کی تحقیقات میں ایف آئی اے ہیڈکوارٹرز کی جانب سے وفاقی وزیر داخلہ کو لاعلم رکھ کر بااثر ملزمان کے خلاف تحقیقات کو سست روی کا شکار کیا جاچکا ہے اور ایک مرتبہ پھرایف آئی اے ہیڈکوارٹرز میں تعینات اعلی بیوروکریسی اپنے روایتی حربوں پر اتر آئی ہے اور ایف آئی اے کے فیلڈ افسران کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی جارہی ہے اور غالب امکان یہ ہے کہ اس مرتبہ بھی طاقتور بیوروکریسی تحقیقات کو غیرموثر کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *