خود پسندی: اس ’بیماری‘ کی علامات کیا ہیں؟

سوشل میڈیا پر ایک نظر ڈالنے سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ دنیا خود پسندی کا شکار ہو چکی ہے۔ کم سے کم سوشل میڈیا کی دنیا تو ضرور۔

اس نتیجے پر پہنچ کر آپ غلطی نہیں کر رہے۔ دماغی صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ خود پسندی اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے اور عام نظر آ رہی ہے۔

لیکن لوگ اتنی بڑی تعداد میں خود پسندی یا نرگسیت کا شکار کیوں ہیں؟ بی بی سی کی جولین جنکنز نے یہی معلوم کرنے کی کوشش کی۔

ورزش کے بعد سیلفی

ورزش کے بعد کی سیلفی سوشل میڈیا کے لیے بہت ضروری ہے

خودپسندی یا نرگسیت کیا ہے؟

کالنز انگلش ڈکشنری کے مطابق اس کا مطلب ہے اپنے آپ خاص طور پر اپنے روپ میں غیر معمولی دلچسپی اور اس سے متاثر ہونا۔

یہ اپنی اہمیت اور صلاحیتوں کے حد سے بڑھے ہوئے احساس اور اپنے آپ میں دلچسپی کا دوسرا نام ہے۔ خودپسندی کے کچھ ایسے پہلو ہیں جو کسی حد تک شاید ہم سب میں موجود ہیں لیکن زیادہ تر معاملوں میں یہ ایک بیماری کی شکل میں سامنے آتی ہے جیسے نارسیسٹک پرسنیلیٹی ڈس آرڈر (این پی ڈی) یعنی یہ خیال ہونا کہ آپ بہت اہم ہیں۔

ایک کاروباری خاتون اپنے ڈیسک پر

تو یہاں نمبر ون کون ہے؟

نرگسیت یا خود پسندی کے مریض کو پہچانا کیسے جاتا ہے؟

ایک برطانوی کنسلٹنٹ ڈاکٹر ٹینیسن لی کے مطابق اس بیماری کو پرکھنے کے نو نکات ہیں جو پوری دنیا میں رائج ہیں۔ خودپسندی کا مریض قرار دیے جانے کے لیے ان نو میں سے پانچ شرائط پوری ہونی چاہیں۔

* اپنی اہمیت کا انتہائی احساس

* کامیابی اور طاقت کے بارے میں وہم ہونا

* اپنے آپ کو انوکھا اور منفرد خیال کرنا

* سراہے جانے کی حد سے زیادہ طلب

* ہر چیز پر اپنا حق سمجھنا

* باہمی رشتوں میں صرف اپنے بارے میں سوچنا

* ہمدردی کے احساس کی کمی

* ہر ایک پر رشک کرنا

* مغرور اور گھمنڈی رویے رکھنا

ہم سب کے ملنے جلنے والوں میں غالباً ایسے لوگ ہوں گے جن میں ان میں سے کچھ خصوصیات موجود ہوں گی لیکن یہ بیماری کب بن جاتی ہیں؟ لی کے مطابق ایسا اس وقت کہا جا سکتا ہے جب ان خصوصیات کی وجہ یہ لوگ اپنے لیے یا دوسروں کے لیے پریشانیاں اور مشکلات پیدا کرنا شروع کر دیں۔

انسانی دماغ کا ایک تصوراتی ماڈل

نارمل کیا ہے؟

خودپسندی بیماری کی صورت میں کتنی عام ہے؟

ڈائگنوسٹک اینڈ سٹیٹیسٹیکل مینوئل کے معیار کے مطابق کی گئی ایک تحقیق کے مطابق امریکی آبادی کا 6 فیصد خود پسندی کا شکار ہے۔ تاہم اس کے علاوہ اس سے زیادہ سخت معیار پر کیے گئے پانچ جائزے ایسے بھی ہیں جن کے مطابق امریکہ میں ایک بھی شخص ایسا نہیں ہے۔

سو مختلف ماہرین سے بات کریں تو معلوم ہو گا کہ یا تو خود پسندی کا مرض بہت عام ہے یا بہت کم۔

ڈاکٹر لی کا کہنا ہے کہ یہ بیماری ہے جس پر میڈیکل کے میدان میں ابھی زیادہ توجہ نہیں دی گئی۔ ان کے خیال میں یہ مسئلہ ہمارے اندازے سے زیادہ بڑا ہے۔

انوشکا مارسن جنہوں نے خود پسندی کی علامات دکھانے والے اپنے شریکِ حیات کو چھوڑ دیا تھا اور اب نفسیات کی کنسلٹنٹ کا کام کرتی ہیں خود پسندی کے مریضوں کو پہچانے میں مدد دے سکتی ہیں۔

ان کے خیال میں بھی یہ ایک بیماری ہے اور بہت عام ہے۔

خودپسندی کا علاج کیا ہے؟

ڈاکٹر لی کے مطابق ان کے پاس آنے والے خود پسندی کا شکار بہت سے مریض اپنے آپ کو ڈپریشن کا مریض سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے مریضوں پر ڈپریشن کی دوائی بالکل اثر نہیں کرتی۔

ایک مغرور عورت

کیا مطلب مجھے تھیریپی کی ضرورت ہے؟

انہوں نے کہا کہ خود پسندی کا علاج آسان نہیں۔ ایک تو یہ کہ خود پسندی کے مریض دوسروں کو قصور وار ٹھہراتے ہیں اور ان سے یہ منوانا کہ مسئلہ ان کے ساتھ ہے مشکل کام ہے۔

اچھی خبر یہ ہے کہ خود پسندی عمر کے ساتھ کم ہوتی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایک بات جو دنیا بھر کے لیے سچ ہے وہ یہ ہے کہ بڑی عمر کے لوگوں میں نوجوانوں کے مقابلے میں خودپسندی کا رجحان کم ہوتا ہے۔

خودپسندی کا رجحان

تو کیا ہمارا مقابلہ خود پسندی کی وبا سے ہے یا یہ صرف ایک اخلاقی مسئلہ ہے؟

دوستوں کے ساتھ سیلفی

ہم کتنے زبردست ہیں؟

سین ڈیایگو یونیورسٹی میں سائیکالوجی کے پروفیسر جین ٹوینگ کا کہنا ہے کہ یہ بیماری پھیل رہی ہے۔ انہوں نے اپنی کتاب ’خودپسندی کی وبا‘ میں لکھا کہ امریکی طالب علم جتنا اب خود پسندی کا شکار اتنا پہلے کبھی نہیں تھا۔ انھوں نے کہا حالیہ دہائیوں میں اپنے آپ کو ’خود پسند‘ کہنے والے طالب علموں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مقصد کے حصول میں اور قائدانہ صلاحیتوں میں اپنے آپ کو اوسط سے بہتر سمجھنے والے طالب علموں کی تعداد میں بڑا اضافہ ہوا ہے۔

ایک جوڑا چھٹیاں مناتے ہوئےٰ

ایک جوڑا چھٹیاں مناتے ہوئے

اپنے آپ کو خودپسند کہنے والا جو دوسروں کی مدد کرنا چاہتا ہے

ایچ جی ٹیوڈر اپنے آپ کو برطانیہ کے بڑے خود پسندوں میں شمار کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انہیں کم عمری سے معلوم تھا کہ وہ خود پسند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں لوگوں کا فائدہ اٹھانے میں مزہ آتا تھا۔

ٹیوڈر نے بتایا کہ انہیں پہلی بار یونیورسٹی میں سائیکالوجی کی طالب علم ان کی گرل فرینڈ نے بتایا کہ وہ ’نرگسیت کے مریض‘ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انھیں لوگوں کو پہنچے والی تکلیف کا احساس نہیں ہوا کیونکہ ان کا اپنا الو تو سیدھا ہو رہا تھا۔

اب اسی بیماری کو انہوں نے کمائی کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ انہوں نے اس موضوع پر کئی کتابیں لکھی ہیں اور وہ آن لائن مشاورت بھی کرتے ہیں جس کی فیس 70 ڈالر ہے۔ اس مشاورت میں وہ خود پسندی کا شکار لوگوں کے ساتھ رہنے والے افراد کی مدد کرتے ہیں اور انہیں بتاتے ہیں کہ وہ کیسے اپنے ساتھیوں سے نمٹ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کا بڑھتا ہوا کاروبار اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ مسئلہ بڑھ رہا ہے۔

شیشے میں بال بناتے ہوئے ایک مرد

بس میں ہی میں ہوں!

تاہم ایک پروفیسر ایسے بھی ہیں جن کا خیال ہے کہ گزشتہ تیس برسوں میں یونیورسٹیوں میں خود پسندی کم ہوئی ہے۔ یونیورسٹی آف الینائے میں پروفیسر برینٹ رابرٹس نے اپنی تحقیق کے لیے تین مختلف یونیورسٹیوں سے اعداد و شمار حاصل کیے۔

انھوں نے یہ نتیجہ نکالا کہ خود پسندی کی تعریف کرنا آسان لیکن اس کا تعین کرنا مشکل ہے اور یہ کہ سوشل میڈیا اس کے بڑھنے کی ایک وجہ ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *