بول

M tahirمحمد طاہر
پاکستانی صحافت اپنی دشمن آپ بن گئی ہے۔ بھڑکیلی ، تیز اور چمک دار زندگی کا ایک خوف ناک تصور ہمارے باطن میں رچ بس سا گیا۔جس نے صحافت کو سماجی رتبوں کے اعلیٰ درجے میں دھکیل دیا ہے۔ یہ احترام سے زیادہ مرعوبیت اور کردار سے زیادہ دکھاوے کی سماجی تشکیل کا دور ہے۔
پردۂ امکان میں پڑا ’’بول‘‘ دراصل اسی تصور کی پیداوار ہے۔یہ ادارہ ابھی اُمید سے ہے مگر اس کے حریف اس کا پیٹ گرانے کی تیاریوں میں مشغول ہیں۔بول دراصل کیا ہے؟ یہ کسی کو بھی ٹھیک ٹھیک معلوم نہیں۔ اُن کو بھی نہیں جو اس ادارے میں بڑی بڑی تنخواہیں لیتے ہیں اور اس ادارے میں ایسے مناصب پر فائض ہیں جن کے نام بھی صحافت میں اجنبی ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ بول کے بارے میں نیو یارک ٹائمز میں کیا چھپا ہے ؟ سوال یہ ہے کہ بول اور اس کے حریفوں کے درمیان اصل مسئلہ کیا ہے؟ نیویارک ٹائمز نے جو’’ انکشافات ‘‘کئے ہیں ، ہوسکتا ہے کہ وہ صرف الزامات ہوں ۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس پر’’ ایگزیکٹ‘‘کی وضاحت ہی ٹھیک ہو مگر پھر بھی بول پر اعتراضات کی گنجائش بہت ہے۔ اور اس کی وضاحت میں خامیاں بھی بہت ہیں۔ بول پر ہونے والے اعتراضات اور بول کی وضاحتیں دونوں ہی قابل گرفت ہیں۔
نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ’’ بول ‘‘کے ذریعے ٹیلی ویژن کی دنیا میں قدم رکھنے والا ادارہ ’’ایگزیکٹ‘‘دراصل تعلیمی اسناد کے جعلی دھندے میں ملوث ہے۔ یہ ادارہ سوفٹ ویئر کا کام کم اور جعلی اسناد کا کاروبار زیادہ وسیع پیمانے پر کرتا ہے۔اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ 370 سے زائد ویب سائٹس پر پھیلی جامعات اور اس کے احاطوں (کیمپس) کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں۔اس حوالے سے تشہیری فیتے (ویڈیو) فریب کاری کے علاوہ کچھ اور نہیں۔ اس دعوے کو ایک بہت بڑی رپورٹ میں نہایت خوب صورت الفاظ کی گوٹا کناری سے پھیلایا گیا ہے۔ اور مختلف شواہد سے اِسے مزین کر دیا گیا ہے۔ مسئلہ نیویارک ٹائمز کا نہیں دراصل پاکستان کے دیگر ابلاغی اداروں کا ہے جنہوں نے اِسے ایگزیکٹ کو ڈھانے کا ایک موقع بنا لیا ہے۔کیا مسئلہ صرف ان ہی اداروں کا ہے، نیویارک ٹائمز کا نہیں؟ جیسا کہ ایگزیکٹ نے شک ظاہر کیا ہے کہ اس رپورٹ کے پیچھے دراصل کچھ پاکستانی اداروں کے افراد ہیں جو اُن کی گوشمالی کرتے رہتے ہیں۔ یہ کام اس سے قبل بھی کچھ دوسرے اعتراضات کے ساتھ ہو چکا ہے۔ ایگزیکٹ اسی کو ایک مثال بنا کر پیش کر رہا ہے۔ایگزیکٹ کا یہ اعتراض اور پاکستانی ابلاغی اداروں کا طرزِ عمل دونوں ہی قابلِ اعتراض ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ایگزیکٹ اپنے خلاف کسی اعتراض کو محض اس بنا پر رد نہیں کر سکتا کہ اُس پر پہلے بھی کوئی اعتراض یہی لوگ اِسی طرح کا کرتے رہے ہیں۔ یہ اعتراض کا فی نفسہ جواب نہیں ۔ یہ نکتہ اپنی جگہہ کتنا ہی ٹھیک ہو اعتراض وہیں کا وہیں رہتا ہے۔ اُسے ٹھیک طرح سے یہ بتانا چاہئے کہ وہ جعلی اسناد کے دھندوں میں ملوث ہے کہ نہیں ۔ اُس پر اعتراض کرنے والے کون ہیں، اعتراض کی نوعیت کے باعث اس کی کوئی اہمیت اور وقعت نہیں ہے۔ یہی معاملہ ڈکلن والش کے نام کا بھی ہے۔ جو اس کا وقائع نگا رہے۔ ایک رپورٹ کے مصنف کے طور پر اُس نے تمام تقاضے پورے کئے ہیں۔ خود ایگزیکٹ میں کام کرنے والے تمام بڑے صحافی اگر کسی اپنے حریف ادارے کے مالکان کے خلاف کسی رپورٹ کی تیاری کریں گے تو اُنہیں بھی اُتنے ہی ثبوت و شواہد درکار ہوں گے جتنے کہ ڈکلن والش نے اپنی رپورٹ کے لئے جمع کئے ہیں۔ ڈکلن والش کا ماضی کیا تھا؟ اُسے پاکستان سے کیوں نکالا گیا؟ یہ ایک الگ موضوع ہے۔ ایگزیکٹ کے دفاع میں اُترنے والے اُس کے بھاری تنخواہ دار سپاہِ صحافیان خلطِ مبحث پیدا نہ کریں۔ جو کام ڈکلن والش کر رہا تھا ، ایسے ہی کاموں کے اعتراضات یہاں پاکستانی صحافیوں پر بھی ہوئے ہیں۔ اگر اُن کے نام تلاش کئے جائیں تو اُس میں سے کچھ تو ’’ایگزیکٹ‘‘ کے برآمدے سے ہی برآمد ہو جائیں گے۔ اُن کے بڑے مناصب پر براجمان ایک دو تو ایسے بھی ہیں جو قومی اداروں کے ہاتھوں ’’کمبل سلوک ‘‘سے بھی گزرے ہیں۔لہذا اس اعتراض کو دوسروں کی پاک�ئ داماں پر سوال اُٹھانے کے بجائے اپنے دامن کی حفاظت کے تناظر میں بھی دیکھنا چاہئے۔ پھر ہر دور میں غیر ملکی صحافیوں کے ساتھ یہ مسائل رہے ہیں۔سلامتی کے مسائل سے دوچار ممالک میں یہ کوئی انوکھا معاملہ نہیں۔ کرسٹینا لیمب پر ایک زمانے میں بہت سے اعتراضات ہوئے تھے۔ اس کے باوجود وہ پاکستانی معاملات سے متعلق رہیں۔ ایک زمانے میں کلدیپ نائر کا کردار یہاں سب سے زیادہ قابلِ اعتراض رہا تھا۔ اور وہ ایٹمی معاملات میں ہی ایک کھیل کا حصہ بنے تھے۔ مگر آج وہ امن کی آشا (؟)کا ایک کردار بن چکے ہیں۔ابھی کچھ عرصے قبل پاکستان میں ڈاکٹر ویدک پرتاپ آ کر گئے ہیں ۔ وہ ایک پاکستانی اخبار میں باقاعدگی سے چھپتے ہیں۔ اُن کی بھارتی انتہا پسندوں اور بی جے پی کی نظروں میں کیا حیثیت ہیں؟ یہ بتانے کی چنداں ضرورت نہیں۔ الغرض ’’ایگزیکٹ‘‘ڈکلن والش پر اعتراضات اور پاکستانی کے حریف ابلاغی اداروں کے کسی مخفی کردار کی آڑ میں اپنے حصے کی اصل وضاحت سے خود کو چُھپا اور بچا نہیں سکتی۔
ایگزیکٹ سے فوری طور پر ایک غلطی یہ ہوئی ہے کہ اُس نے وہ تمام تشہیری فیتے(ویڈیو) فوری طور پر ہٹا دئے ہیں جو ڈکلن والش نے اپنی رپورٹ میں بطور حوالہ مربوط (لنک) کئے تھے۔ایگزیکٹ نے اُن تشہیری فیتوں کو جوں کاتوں کیوں رہنے نہیں دیا؟ نشانات مٹانے والوں کو’’ جرائم‘‘ کی تحقیقات میں کبھی بھی درست مانا نہیں جاتا۔ایگزیکٹ سے ایک دوسری غلطی یہ ہوئی ہے کہ اُ س نے اپنے دفاع میں ایگزیکٹ کی انتظامیہ کے بجائے’’ بول‘‘کے بھاری تنخواہ دار صحافیوں کو اُتارا ہے۔ جو اپنے اپنے طور پر ادارے کی وضاحتوں کا بوجھ ڈھو رہے ہیں۔ بڑا صحافی اپنی تنخواہ سے بڑا نہیں ہوتا۔ اپنے کام اور ساکھ سے بڑا ہوتا ہے۔ کتنا پامال فقرہ یہاں کتنا کارآمد ہے کہ ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی۔ایگزیکٹ کے فیض یافتہ یہ صحافی معاشرے میں غلط یا صحیح پہلے سے ہی سوالوں کے نرغے میں ہیں۔ وہ اس وضاحت کا بوجھ اُٹھانے کی اہلیت اور ساکھ دونوں ہی نہیں رکھتے۔ پھر اعتراض’’ ایگزیکٹ‘‘ اور اسکی انتظامیہ پر سامنے آئے ہیں۔مگر ایگزیکٹ اسے اپنے دوسرے ادارے’’ بول‘‘کو اس سے آلودہ ہی کیوں کر رہا ہے؟اگر انکشافات اور اعتراضات بالکل غلط ہے تو انتظامیہ کو پیشہ ورانہ طور پر ایگزیکٹ کی سطح پر ہی اس کا سامنا کرنا چاہئے تھا۔مگر بول کے صحافیوں کو اُتار کر’’ ایگزیکٹ ‘‘ نے اپنے خلاف اِس پُرانے تاثر کو نئی تقویت دی ہے کہ بول دراصل ایگزیکٹ کے کچھ پراسرار کاموں کو تحفظ دینے کے لئے بنایا گیا ادارہ ہے۔ اگر یہ تاثر ٹھیک ہے تو پھر اس ادارے نے وجود میں آنے سے پہلے ہی یہ کام شروع کر دیا ہے۔ وہ کم ازکم اپنی اس کامیابی پر تو خوش ہو سکتے ہیں۔
بول کے صحافیوں کی جانب سے ایگزیکٹ کے معاملات کو مائیکروسوفٹ کے بل گیٹس، گوگل کے لیری پیج، فیس بک کے مارک زکابرگ، اورٹیوٹر کے ایون ولیمز وغیرہ وغیرہ سے موازنے میں رکھ کر یہ اعتراض اُٹھانا انتہائی لغو ہے کہ اُن پر تو کسی نے کوئی سوال نہیں اُٹھایا۔ اول تو یہ موازنہ غلط ہے۔ پھر یہ بات بھی غلط ہے کہ اُن پر کبھی کسی نے کوئی سوال نہیں اُٹھایا۔ پہلی بات یہ ہے کہ مذکورہ تمام افراد کی آمدنی کے ذرائع اور آمدنی کے گوشوارے سب کچھ سیاہ وسفید کی صورت میں سب کے سامنے ہیں۔ اور ایگزیکٹ کے ساتھ مسئلہ ہی یہی ہے کہ وہاں سب کچھ واضح نہیں ۔ حتیٰ کہ اُن کے کاروبار کی تفصیلات بھی پوری طرح واضح نہیں۔ جوافراد اِس ادارے کے درشن کرکے آتے ہیں اُن میں سے کوئی ایک بھی اُس کے کاروبار کی تفصیلات پوری طرح بتانے میں کامیاب نہیں ہوتے مگر وہاں موجود سوئمنگ پول، ہئرسلیون اور زبردست تواضع کی تفصیلات بیان کرنے میں نہایت رطب اللّسان ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے اس میں نہایت بڑے بڑے صحافیوں کے نام شامل ہیں جو وہاں کی سہولتوں کے سحر میں تو مبتلا ہیں مگر وہاں کے کاموں کی بنیادی تفصیلات تک سے آگاہ نہیں۔ اگر ایسے بڑے صحافیوں کے نام اور اُن کے ایگزیکٹ یاترا پر تبصروں کو ایک جگہ جمع کردیا جائے تو یہ اپنی جگہ خود ایک شرمناک داستان ہوگی۔ صرف ایگزیکٹ پر اُٹھنے والے سوالات میں ہی کالم کا ورق نبڑ گیا مگر دراصل بحث کا بنیادی نکتہ ایگزیکٹ نہیں ۔ ہمارے قومی ذرائع ابلاغ کا وہ رویہ ہے جو وہ ایگزیکٹ کے ساتھ روا رکھے ہوئے ہیں ۔ یہ ایک انتہائی غلط رویہ ہے جس سے پاکستانی صحافت اپنی دشمن آپ بنتی جارہی ہے۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے باعث جو سوالات پاکستانی ذرائع ابلاغ پر پیدا ہوتے ہیں ۔ اس کو آئندہ پر چھوڑتے ہیں۔ جو اپنی آپ کی دشمن صحافت کے ساتھ یہ ثابت کرتے ہیں کہ بنیادی طور پر ذرائع ابلاغ ’’ایگزیکٹ‘‘ جیسے ہی اداروں کے ہاتھوں میں ہیں۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *