ایتھیوپیا میں کچے گوشت کی ڈشوں کا جنون

ادیس ابابا: عام طور پر لوگ کچا گوشت کھانا پسند نہیں کرتے کیونکہ یہ بد ذائقہ ہوتا ہے اور ساتھ ہی کچے گوشت میں موجود جراثیم (بیکٹیریا) لاتعداد مرض کی وجہ بن سکتے ہیں۔ لیکن ایتھیوپیا میں کچا گوشت سب کا من پسند کھاجا ہے۔

اگرچہ یہ عام دوکانوں پر فروخت ہوتا تاہم گائے اور بکری کے کچے گوشت کی ڈشیں تہواروں، شادی اور دیگر اہم مواقع پر بہت بڑی تعداد میں فروخت ہوتی ہیں۔ لوگوں کی بڑی تعداد لگ بھگ روزانہ ہی کچا گوشت کھاتی ہے۔

ایتھیوپیا کے لوگوں سے اس کی وجہ معلوم کریں تو وہ کہیں گے کہ اس سے جسم کو توانائی اور تازگی سی ملتی ہے۔ تاہم لوگوں کی اکثریت اسے کھانے سے پیٹ میں کیچووں، ای کولائی اور سالمونیلا بیکٹیریا یا کسی اوربیماری سے خوفزدہ نہیں۔ ایتھیوپیا کی نواح میں کچے گوشت خور نے کہا، ’مجھے (کچے گوشت کی بیماری سے) فضول بات کی کوئی پرواہ نہیں۔ میں گزشتہ 20 برس سے کچا گوشت کھارہا ہوں اور کبھی بیمار نہیں ہوا کیونکہ میرا جسم اس عمل سےمحبت کرتا ہے۔‘

کچے گوشت کے ایک شوقین نے کہا،’یہ غلط بات ہے کہ بغیرپکے ہوئے گوشت کا کوئی نقصان ہوتا ہے۔ میری دادی کا انتقال 114 سال کی عمر میں ہوا اور میری والدہ کی عمر 92 برس ہے اور دونوں آخری وقت تک کچا گوشت کھاتی رہی تھیں۔‘

ایتھیوپیا کے شہر ادیس ابابا کے ڈاکٹر میسافنت ابے بے نے کہا کہ لوگوں کی اکثریت کچے گوشت کی مداح ہے اور اس کے فوائد بڑھا چڑھا کر پیش کرتی ہے۔ تاہم ان کے کلینک پر آنے والے مریضوں کو کچا گوشت کھانے سے عین وہی بیماریاں لاحق ہوتی ہیں جن کے متعلق معالجین خبردار کرتے رہتے ہیں۔

اس کی اصل وجہ اب تک سامنے نہیں آسکی لیکن کچے گوشت کی روایت سے جڑی ایک دلچسپ کہانی ضرور معلوم ہوئی ہے۔ اس خطے میں صدیوں قبل مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان کئی جنگیں ہوئی تھیں۔ عیسائی گیوراج جنگجو پہاڑوں میں چھپ کر گوشت پکایا کرتے تھے لیکن اس کا دھواں، بو اور آگ مسلمانوں کو خبردار کیا کرتا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے جانور کاٹ کر ان کا کچا گوشت کھانا شروع کردیا ۔ لیکن دھیرے دھیرے یہ رسم تمام مذاہب کے لوگوں میں مقبول ہوتی گئی اور اب ایک عام رحجان میں بدل چکی ہے۔

تاہم سب سے مشہور ڈش کا نام ٹیرے سائگا ہے جس میں کچے گوشت کو لمبی پٹیوں میں کاٹ کر خاص چٹنیوں میں ڈبو کر کھایا جاتا ہے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *