علمائے حق کی جستجو

گذشتہ زمانے کے علما اپنے اخلاق ،عادات اور طرز زندگی کے لحاظ سے امت کے لیے ایک بے نظیر نمونہ تھے ان کا زہد و تقوی دیکھ کر غیر قوم کے لوگ بھی صدق دل سے ان کی عظمت اور برتری کے قائل ہو جاتے تھے اور ان کا دل تسلیم کرنے لگتا تھا کہ یقیناًاسلام ایک سچا آسمانی مذہب ہے اس کی برابری کوئی دوسرا مذہب نہیں کر سکتا کیونکہ اس کے واقف کار علما میں جو خوبیاں پائی جاتی تھیں وہ کسی دوسرے مذہب کے علما میں نہیں تھیں ان لوگوں کو مذہب کی سچی حلاوت اور علم کا اصلی مزہ حاصل تھا اور یہی سبب تھا کہ وہ دنیا کی کسی تکلیف کو تکلیف نہیں سمجھتے تھے اور اس روحانی نعمت کے مقابلے میں دنیاوی تکلیف کی مطلق پرواہ نہیں کرتے تھے ۔ابراہیم حربی امام احمد بن حنبل کے شاگرد تھے اور بغداد میں خلیفہ معتضد کے زمانہ میں تھے اور اس کے محل کے پاس ان کا مکان تھا مگر ان کے استثنا کا یہ عالم تھا کہ زندگی بھر معتضد کے دربار میں نہیں گئے حالانکہ خلیفہ ہمیشہ خواہش مند رہا ان کی علمی محویت کا یہ عالم تھا کہ چھوٹی باتوں کی طرف مطلق ان کی توجہ نہیں جاتی تھی پاجامہ میلا ہے کرتا پھٹا ہوا ہے کوئی حرج نہیں اس کو پہنے ہوئے بغداد میں گھوم رہے ہیں تیس برس تک انہوں نے دن رات میں صرف ایک روٹی کھا کر گذارہ کیا
ایک مرتبہ ابراہیم حربی سخت بیمار ہوئے ان کی بیوی اور بیٹی دن رات خدمت میں رہتیں گھر میں کھانے پینے کی سخت تنگی تھی خلیفہ کے ہاں سے ایک ہزار اشرفی کا توڑا آیا بیٹی نے اصرار کیا ہم اس وقت ضرورت مند ہیں لے لینا چاہیے لیکن انہوں نے انکار کیا باپ بیٹی میں یہی بحث جاری تھی کہ علامہ ابو القاسم جیلی آ گئے ابراہیم نے کہا ابوالقاسم تم اچھے وقت پر آ گئے ہو دیکھو میری بیٹی مجھ سے بحث کر رہی ہے تم فیصلہ کر دو ان کی بیٹی نے کہا چچا جان یہ بیمار ہیں میں اور والدہ ان کی خدمت میں مصروف ہیں دوا اور حکیم تو درکنار گھر میں کھانے کو کچھ نہیں کبھی خشک ٹکڑے مل جاتے ہیں تو نمک نہیں ملتا کہ ہم اس کے ساتھ کھا لیں پڑوسی نے کھانے کا اتنا سامان بھیجا تھا انہوں نے لوٹا دیا فلاں کے ہاں سے دو اونٹ سامان سے لدے آئے انہوں نے واپس کر دیے اب خلیفہ نے ایک ہزار اشرفیاں بھیجی ہیں وہ واپس کر رہے ہیں ابراہیم نے ہنس کر کہا بیان کر چکیں؟سنو ابوالقاسم خیرات اور زکواۃ کس کے لیے جائز ہے ؟فقیروں اور بیواؤں کے لیے کیا ہم فقیر ہیں اس سے پوچھو کہ میرے اس صندوق میں بارہ سو جز میرے ہاتھ کے لکھے ہوئے مختلف علوم و فنون کے پڑے ہیں اگر آج ان کو میں بیچوں تو کم سے کم ان کی قیمت بارہ ہزار درہم ملے گی پھر ہم کیونکر اس خیرات اور زکواۃ کے مستحق ہیں ان سے کہو غربت سے نہ ڈریں جب میں مر جاؤں تو ان کو بیچ ڈالنا لڑکی خاموش ہو گئی اور اشرفیاں واپس کر دی گئیں ان کے استثنا اور توکل کی وجہ سے اہل بغداد ان کی عزت کرتے تھے ایک یہ دور ہے کہ علما کہلانے والے اہل اقتدار کے دروں پر اپنی دنیاوی حاجات کے لیے رلتے پھرتے ہیں دین کی سمجھ تو نہیں دیتے احتسابی اداروں کو ختم کرنے کا مشورہ ضرور دیتے ہیں (میں تو حیران رہ گئی جب اپنے کانوں سے سنا مولانا فضل الرحمن مد ظلہ فرما رہے تھے جب اٹھارویں ترمیم ہوئی میں نے کہا تھا نیب کو ختم کر دو مگر پیپلز پارٹی کی حکومت نے میرا مشورہ نہیں مانا کہ نہیں یہ اچھی چیز ہے)اسی خلیفہ معتضد کے زمانہ کے بہت بڑے عالم ابو الحسین نوری ایک دفعہ دریا میں سفر کر رہے تھے کہ کشتی میں بہت سے مٹکے دیکھے ملاح سے پوچھا ان میں کیا ہے اس نے کہا شراب ہے خلیفہ معتضد باللہ نے منگوائی ہے ابوالحسین نے لکڑی لے کر ایک مٹکے کو توڑنا شروع کر دیا تمام حاضرین تھرا گئے کہ دیکھیے کیا غضب ہوتا ہے معتضد کو خبر ہوئی تو اس نے ابو الحسین کو پکڑ بلوایا یہ گئے تو معتضد کے ہاتھ میں گرز تھا ان کو دیکھ کر پوچھا تو کون ہے کہا محتسب اس نے کہا تجھے کس نے محتسب بنایا ہے کہا اسی نے جس نے تجھے خلیفہ بنایا ہے لیکن آجکل طمع نے علما کی زبانیں بند کر دی ہیں اس لیے وہ چپ ہیں اگر کچھ کہتے بھی ہیں تو ان کی اپنی حالت چونکہ اس قول کے مطابق نہیں ہوتی اس لیے لوگوں پر کچھ اثر نہیں ہوتا ورنہ کس کی جرات تھی کہ علما کے ساتھ کوئی بد زبانی کرے انکی نیچی نظروں کے ساتھ گستاخی کرے انہوں نے اپنا مقام خود کھویا ہے ،خلیفہ متوکل نے احمد بن معدل وغیرہ علما کو طلب کیا سب لوگ بیٹھ گئے تو خود بھی آیا سوائے احمد بن معدل کے تمام علما خلیفہ کی تعظیم کے لیے کھڑے ہو گئے متوکل نے عبید اللہ سے پوچھا کیا اس شخص نے ہماری بیعت نہیں کی انہوں نے کہا بیعت تو کی ہے مگر انہیں کم نظر آتا ہے احمد بن معدل نے کہا میری آنکھوں کا کوئی قصور نہیں لیکن میں آپ کو عذاب خداوندی سے بچانا چاہتا ہوں کیونکہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ جو شخص لوگوں سے یہ امید رکھے کہ لوگ اس کی تعظیم کے لیے کھڑے ہوں وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنا لے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *