بِہار:وراثتی اردو لائبریری تباہ، لاکھوں کتب گنگا بُرد

library بدھ کی رات پیش آنے والے ایک واقعے کے دوران، ہندوستان کے صوبہ بِہار کے ضلع منگر میں موجود ایک لائبریری کی ہزاروں قیمتی پرانی اردو کتب کو دریائے گنگا میں پھینک دیا گیا ہے جن کے متعلق ضلعی انتظامیہ کہتی ہے کہ ایسا ایک مقامی سرمایہ دار کی جانب سے اس لائبریری کی وراثتی عمارت پر قبضہ کرنے کی ایک کوشش کے سلسلے میں کیا گیا۔ یہ عمارت اس عظیم زلزلے کی یادگار کے طور پر تعمیر کی گئی ہے جس نے 1934ء میں بِہار کو تباہ کر دیا تھا۔
لائبریری سیکریٹری، محمد فاروق نے صحافیوں کو بتایاکہ، ’’لائبریری میں 12000 سے زائد اردو کتب تھیں اور ان میں سے زیادہ تر، آزادی سے پہلے کے زمانے کی تھیں۔‘‘
محمد فاروق نے بتایا کہ انہیں جونہی اس واقعے کا علم ہوا، انہوں نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی اور ایف آئی آر درج کرائی۔ تاحال پولیس نے 2مشکوک افراد کو گرفتار کیا ہے۔محمد فاروق نے یہ بھی بتایاکہ یہ عمارت 1940ء سے اس لائبریری کے پاس تھی اور یہ کہ ایک مدت دراز سے انہیں اس عمارت کو خالی کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں اور انہوں نے ان دھمکیوں کے متعلق انتظامیہ کو مطلع بھی کیاتھا مگر کسی نے کوئی نوٹس نہیں لیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اہل علم کو اس عظیم نقصان کو برداشت کرنا پڑا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *