’لال کبوتر‘ چھوٹے بجٹ کی معیاری فلم

چند دن پہلے ریلیز ہونے والی فلم ’لال کبوتر‘ سے لوگوں کو بہت امیدیں وابستہ تھیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ اس کے ہدایتکار کمال خان نے ’جن کی یہ پہلی فیچر فلم ہے‘ ایک نہایت ہی عمدہ میوزک ویڈیو تقریبا دو سال پہلے بنایا تھا۔

یہ چھ منٹ کا میوزک ویڈیو (جو کہ ایک غیر معروف پاکستانی بینڈ دی ڈی/ اے میتھڈ کے گانے ’دی ڈیزرٹ جرنی‘ پر بنایا گیا تھا) ایک طرح سے ایک چھوٹی سی فلم تھی اور سارا کا سارا، بغیر کسی کٹ کے ایک ہی مسلسل شاٹ تھا۔ اس کی تکنیکی مہارت کے مدِ نظر بہت سارے دیکھنے والوں کا خیال تھا کہ کمال خان میں ایک اچھا فلمساز بننے کی صلاحیتیں ہیں۔

لیکن اس سے پہلے کہ میں آگے بڑھوں، میں ایک بات کا اعتراف کرنا چاہتا ہوں۔ بہت سارے لوگ پچھلی دو دہائیوں سے اس بات پر حیرانی کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ پاکستان میں اچھے نئے فلم ڈائریکٹر کیوں پیدا نہیں ہو رہے، حالانکہ (ان کے مطابق) اچھے میوزک ویڈیو ڈائریکٹر پاکستان میں کثرت سے موجود ہیں۔ میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں۔ میرے خیال میں میوزک ویڈیو اور فیچر فلم میں کوئی مماثلت نہیں ہے۔

میوزک ویڈیو عموماً تین سے چار منٹ کا ہوتا ہے اور نہ تو اس میں کوئی ڈائیلاگ ہوتا ہے نہ اس کی کہانی میں ربط ہونا ضروری ہوتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ جس اسٹائل میں میوزک ویڈیو کی تدوین عموماً کی جاتی ہے، کوئی بھی شاٹ دو سیکنڈ سے لمبا نہیں ہوتا۔ اس اسٹائل میں ہدایتکاری کے بہت سے عیب چھُپ جاتے ہیں۔

جب وہی ہدایتکار ڈیڑھ یا دو گھنٹے کی فلم کی جانب بڑھتے ہیں، جہاں آپ کو اکثر سین کی پیسنگ (رفتار) کا خیال کرنا پڑتا ہے اور اداکار کو اپنا فن دکھانے کی جگہ دینی ہوتی ہے یا سین کو ’ہولڈ‘ کرنا پڑتا ہے (یعنی ٹھہراؤ کا عنصر لانا پڑتا ہے)، اکثر اور بیشتر ویڈیوز کے ہدایتکار اس امتحان میں مار کھا جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں ایسے ہدایتکار جو واقعی میوزک ویڈیوز سے فیچر فلم کا سفر کامیابی سے طے کر پائے ہیں، اُنگلیوں پر گِنے جا سکتے ہیں۔

ان خیالات کے باوجود، مجھے بھی کمال خان سے امیدیں وابستہ تھیں، اور اس کی وجہ یہ تھی کہ کمال خان کا ویڈیو عام سا ویڈیو نہیں تھا۔ اُس میں تخلیقی چنگاری اور کہانی سنانے کی صلاحیت نظر آتی تھی، اور میرا یقین تھا کہ جب بھی کمال فلم بنائیں گے وہ کچھ مختلف کرنے کی کوشش کریں گے۔ سوال اتنا تھا کہ کیا وہ اس میں کامیاب ہو پائیں گے کہ نہیں؟

میرے لیے اور دیگر پاکستانی فلم بینوں کے لیے خوشخبری یہ ہے کہ کمال خان اپنی کاوش میں فلائنگ کلرز سے کامیاب ہو گئے ہیں۔ ’لال کبوتر‘ کوئی عام پاکستانی فلم نہیں ہے— اس میں نہ تو مسالا ہے، نہ ناچ گانا، یہ صرف نوّے منٹ لمبی ہے اور آج کل کی فلموں کے معیار سے انتہائی چھوٹے بجٹ پر بنائی گئی ہے۔ لیکن وہ دیکھنے والوں پر اپنی گرفت برقرار رکھتی ہے اور پچھلےآٹھ دس برسوں میں ریلیز ہونے والی بہترین پاکستانی فلموں کی صف میں یقیناً شامل ہے۔

LaalKabootar

کہانی (جو کہ پروڈیوسرز ہانیہ اور کامل چیمہ نے کمال خان کے ساتھ لکھی ہے لیکن جس کا اصل نکھار علی عباس نقوی کے اسکرین پلے سے سامنے آتا ہے) کے دو محور ہیں۔ ایک تو عدیل (احمد علی اکبر) ہے جو لوئر مڈل کلاس کا نوجوان ہے۔ وہ اپنے باپ کے ساتھ رہتا ہے اور گھر کے خرچے (لال رنگ کی) پرائیویٹ ٹییکسی چلا کر پورے کرتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ وہ کسی طرح دبئی چلا جائے اور اس ضمن میں اُسے ایجنٹ کے لیے پیسے اکٹھے کرنے ہیں، جس کی خاطر وہ ٹیڑھے کام کرنے کو بھی تیار ہے۔

دوسرا محور عالیہ (منشا پاشا) ہے، جو بہتر کلاس سے تعلق رکھتی ہے لیکن جس کا المیہ یہ ہے کہ اس کا صحافی شوہر (علی کاظمی) اس کی آنکھوں کے سامنے مارا گیا تھا۔ وہ اپنے شوہر کے قاتل (جس نے لال رنگ کی ٹوپی پہنی ہوئی تھی) کا سراغ لگانے پر تُلی ہوئی ہے۔

اِن دونوں کرداروں کی دنیا اس وقت آپس میں ٹکراتی ہیں جب عالیہ عدیل کی ٹیکسی میں بیٹھتی ہے۔ میں اس سے زیادہ کہانی کے پیچ وخم نہیں بتانا چاہتا، لیکن اس میں ایک عدد طاقتور بلڈر (محمد احمد)، ایک تھانے کا ایس ایچ او (راشد فاروقی) اور ایک ہِٹ مین (سلیم معراج) بھی شامل ہو جاتے ہیں، جن کا فلم پر بہت گہرا اثر ہوتا ہے۔

ویسے فلم کا ایک تیسرا محور بھی ہے اور وہ ہے شہرِ کراچی۔ کراچی اس فلم میں ایک منفرد کردار ہے جس کی رضا اور دلجوئی کے لیے ہر کردار کوششیں کرتا ہے اور جس سے وہ وقتاً فوقتاً جھگڑتا بھی رہتا ہے۔

اس کردار کو اسکرین پر زندہ کرنے میں مو اعظمی کا بہت بڑا ہاتھ ہے، جنہوں نے ’لال کبوتر‘ کی عکاسی کے فرائض انجام دیے ہیں۔ مو اعظمی کمال خان کے میوزک ویڈیو میں بھی اُن کے ساتھ تھے اور اس کے علاوہ ’021‘ ، جلیبی اور کیک جیسی فلمیں بھی کر چُکے ہیں۔ ’لال کبوتر‘ کا موُڈ بنانے میں اُن کی عکاسی کو بالکل نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

LaalKabootar

احمد علی اکبر اور منشا پاشا دونوں فلموں میں نئے ہیں لیکن اپنے رول بہت خوبی سے نبھاتے ہیں۔ اس میں ہدایتکار کی مہارت کا بھی ہاتھ ہے کیونکہ وہ کبھی دونوں اداکاروں کو ’خوبصورت‘ بنا کر پیش نہیں کرتا اور نہ ہی اُن کو اس طرح کی ایکٹنگ کرنے کی اجازت دیتا ہے جس کو پاکستانی فلموں میں عام طور پر ’اداکاری‘ سمجھا جاتا ہے۔ پوری فلم ہمیشہ حقیقت پسندانہ ہی رہتی ہے۔

ویسے تو فلم کا تقریباً ہر کردار اور اداکار عمدہ اور نیچرل ہے لیکن یہاں پر راشد فاروقی کا ذکر کرنا ضروری ہے۔ راشد بہت عرصے سے اداکاری کر رہے ہیں اور اسٹیج سے لے کر ٹی وی پر ان گِنت پروڈکشنز کا حصہ رہ چکے ہیں۔ لیکن شاید پہلی مرتبہ ان کو وہ پذیرائی ملے گی جس کے وہ حقدار ہیں۔ اُن کا انسپکٹر ابراہیم ایک ایسا کردار ہے جس سے دیکھنے والے بہت جلد شناخت کر پائیں گے۔ ایک کرپٹ پولیس والا جو اپنے سے قریب لوگوں کا سچ مچ خیال بھی کرتا ہے اور جس پر دوسرے پیار بھی نچھاور کرتے ہیں۔ راشد فاروقی کی اداکاری میں اس کردار کی ساری غلاظت بھی سامنے آتی ہے اور اسکی انسانیت بھی۔ اور یہ کہنے سے میں فلم کے کوئی راز فاش نہیں کر رہا کہ آخر میں راشد کی اداکاری اور اس کا کردار ہی ذہن پر سب سے بڑا اثر چھوڑتے ہیں۔

’لال کبوتر‘ اپنے چھوٹے بجٹ کے باوجود تکنیکی حوالے سے ہر شعبے میں معیاری ہے۔ چاہے وہ فیض زیدی کا ساؤنڈ ہو، مریم اعظمی کی اسٹائلنگ اور وارڈروب ہو، زین خان کا پروڈکشن ڈیزائن، سید مہدی کی آرٹ ڈائریکشن، طہٰہ ملک کی بیک گراؤنڈ موسیقی یا طلحہ خان کی تدوین۔ ایسی پروڈکشن کوالٹی عموماً اِس سے کئ گُنا زیادہ بجٹ کی فلموں میں دیکھنے کو ملتی ہے اور اس کا سہرا دونوں پروڈیوسروں کے سر جاتا ہے۔

LaalKabootar

اب بات رہی کہ کیا ’لال کبوتر‘ باکس آفس پر ہِٹ ہو پائے گی یا نہیں۔ اس کا تعین کرنا تھوڑا مشکل ہے۔ اس کے حق میں جو بات جاتی ہے وہ یہ ہے کہ فلم اپنی گرفت کبھی ہلکی نہیں ہونے دیتی اور یہ کہ آج کل سینماؤں میں انڈین فلموں کے نہ ہونے سے اس کے لیے میدان نسبتاً کُھلا ہے۔

اس کے علاوہ، کیونکہ فلم کم بجٹ میں بنائی گئی ہے، فلمسازوں کو اس پر لگائے گئے پیسے پورے کرنے میں زیادہ دشواری نہیں ہونی چاہیے ( جو کسی بھی فلم کا باکس آفس پر ہِٹ ہونے کا اصل مطلب ہوتا ہے)۔ دوسری طرف، شاید یہ بات کہ فلم پُر تشدد ہے اور اس میں ہلکا پھلکا مزاح کا پہلو نہیں ہے اور نہ ہی کوئی اسٹار یا ناچ گانا، شاید یہ چیزیں عام فلم بینوں کو، خاص طور پر خواتین کو، سینما آنے سے دور رکھے۔ لیکن میری حِس یہ کہتی ہے کہ فلم پاکستان سے باہر ریلیز ہونے کے بعد ضرور ہِٹ کی صف میں آ کھڑی ہو گی۔

بہرکیف، ان باکس آفس کی پیشگویوں سے قطع نظر، بات اصل میں یہ ہے کہ ’لال کبوتر‘ ایک بہت اچھی فلم ہے۔ اور وہ لوگ جو پاکستان سے معیاری اور معنی خیز فلمیں دیکھنا چاہتے ہیں، اُن کے پاس سنیما نہ جانے کا کوئ جواز نہیں ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *