کارلٹن اور ڈاکٹر انیس کی کافی

اٹلانٹاائیر پورٹ پر برادر بزرگ نے آنا تھا مگر بونی فے سے آنے والے ڈاکٹر انیس نے برادرم کو ایئر پورٹ آنے سے منع کر دیا اور کہا کہ بونی فے سے کارلٹن آتے ہوئے اٹلانٹاائیر پورٹ تقریباً راستے میںہی پڑتا ہے لہٰذا انہیں خاص طور پر اس مقصد کے لیے سو کلو میٹر کا سفر کرنے کی ضرورت نہیں۔ جہاز سے نکلتے ہی ائیر پورٹ کی مفت وائی فائی سے اپنا کنکشن جوڑا اور واٹس ایپ پر کال کر کے ڈاکٹر انیس کو بتایا کہ میں جہاز سے نکل آیا ہوں اور ابھی امیگریشن کا مرحلہ طے کرنا باقی ہے۔ انیس نے بتایا کہ وہ بھی تقریباً آدھے گھنٹے تک ائیر پورٹ پہنچ جائے گا۔ امیگریشن کا مرحلہ امید سے جلد طے ہو گیا اور میں سامان لے کر پون گھنٹے میں باہر تھا جہاں ڈاکٹر انیس میرا منتظر تھا۔
امریکہ میں‘ بلکہ پورے ''مغرب‘‘ میں مصروفیت کا معیار جانچنے کے لیے وہاں جا کر مصروفیت کو بذات خود دیکھنا بہت ضروری ہے۔ وہاں سٹور کے کائونٹر پر کھڑا سیلز مین یا سیلز گرل پورے آٹھ گھنٹے کھڑے ہو کر کام کرتے ہیں اور اس دوران کسی کرسی یا سٹول پر بیٹھنے کا کوئی تصور ہی نہیں۔ کسی شخص کو دوران ڈیوٹی موبائل فون پر گپیں مارتے نہیں دیکھا ۔ یہی حال دفتروں کا ہے‘ یہی کاروباری اداروں کا۔ موبائل فون کمپنی کے دفتر چلے جائیں‘ دو یا تین کائونٹر ہیں۔ کسٹمر کی سہولت کے لیے ایک کونے میں دو یا تین فولڈنگ کرسیاں پڑی ہوں گی لیکن آئوٹ لیٹ کے ملازمین کے لیے دوران ڈیوٹی کرسی وغیرہ پر بیٹھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
میں نے ایک بار اندازہ لگایا تھا کہ اگر پاکستان میں موجودہ سرکاری و غیر سرکاری ملازمین بمعہ افسران و کارکنان کی کل تعداد کا صرف پچیس فیصد اس طرح کام کرنا شروع کر دے تو ملکی‘ سرکاری و غیر سرکاری اداروں کی استعدادِ کار میں کم از کم دو سو فیصد بہتری آ جائے گی۔ اگر بقیہ پچھتر فیصد سرکاری ملازمین کو ریٹائر کر کے گھر بھیج دیا جائے اور انہیں مفت میں پنشن دی جائے تو ملک کے خزانے پر سے بے انتہا بوجھ کم ہو سکتا ہے۔ بچت کے ساتھ مخلوق خدا کو جو آسانی ہوگی وہ بونس ہوگا۔
گزشتہ برس امریکہ میں بینک جانے کا اتفاق ہوا۔ پانچ کیش کائونٹر تھے اور لوگ وہاں کرسیوں یا صوفوں پر بیٹھ کر اپنی باری کا انتظار کرنے کے بجائے قطار میں کھڑے تھے۔ پورے بینک میں صرف ایک شیشے کا کیبن تھا اور اس میں ایک خاتون کسٹمرز کو دیکھ رہی تھی۔ یہ کسٹمر وہ تھے جنہوں نے اکائونٹ کھلوانا تھا‘ یا کسی غیر معمولی مسئلے کے باعث کوئی بات کرنی تھی۔ پورے بینک میں صرف یہی ایک خاتون تھی۔ یہی برانچ منیجر تھی‘ یہی ان کی آپریشن منیجر تھی‘ یہی ان کی پبلک ریلیشنز آفیسر تھی اور یہی ان کی افسر بکار خاص تھی۔ سارا کام نہایت سکون اور اطمینان سے ہو رہا تھا۔ ادھر اپنا یہ عالم ہے کہ میں جب اپنے بینک میں جاتا ہوں تو بینک منیجر کی نظر پڑ جائے تو گھسیٹ کر دفتر میں لے جاتا ہے اور کافی پلاتا ہے۔یہ اس کا مجھ سے محبت کا اظہار ہے‘ لیکن اس کے دفتر میں ایک آدھ اور محبت کا مارا بھی چائے پی رہا ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں اچھے بینکوں کا یہ عالم ہے کہ داخلی دروازے کے سامنے ایک آدھ خوش شکل لڑکی کائونٹر پر بیٹھی ہوتی ہے اور عام طور پر سارا دن بینک میں آنے والے لوگوں کو مسکرا کر دیکھنے کے علاوہ اس کا اور کوئی کام نہیں ہوتا۔ بینکوں کی لش پش کا یہ عالم ہے کہ ملتان کے سادہ طبیعت دیہاتی تو بینک میں داخل ہوتے ہی باقاعدہ پریشان ہو جاتے ہیں۔
بات کہیں سے کہیں چلی گئی۔ بات مصروفیت کی ہو رہی تھی۔ امریکہ میں لوگ صرف مصروف نہیں بلکہ بے تحاشہ مصروف ہوتے ہیں اور ان میں ڈاکٹر لوگ سرفہرست ہیں۔ میری بیٹی اور میرا داماد ابھی پورے کنسلٹنٹ نہیں بنے لیکن ان کی مصروفیت کا یہ عالم ہے کہ صبح میرے اٹھنے سے پہلے بچوں کو ڈے کیئر میں چھوڑ کر ہسپتال جا چکے ہوتے ہیں۔ ہسپتال میں بطور کنسلٹنٹ کام کرنے والے یا اپنا کلینک چلانے والے ڈاکٹر کی مصروفیت کا اندازہ لگانا ہمارے لوگوں کے لیے ممکن نہیں کہ انہوں نے اپنے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی شان اور استغنا ملاحظہ کیا ہوتا ہے۔ اوپر سے ڈاکٹرز کی تنظیموں نے ان کے کروفر اور دبدبے میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ مریض کو دیکھ لیں تو ان کی مہربانی‘ اچھا برتائو کر لیں تو ان کی نوازش۔
ڈاکٹر انیس اٹلانٹا کی قریبی ریاست فلوریڈا کے شہر بونی فے میں اپنا کلینک چلاتا ہے۔ ڈاکٹر انیس دراصل مجھے جہیز میں ملا ہوا دوست ہے۔ انیس میرے اٹلانٹا والے دوست برادر بزرگ کا برادر نسبتی ہے۔ ایک بار ہم پناماسٹی جاتے ہوئے ڈاکٹر انیس کے پاس رکے۔ یہ پناما سٹی میاں نواز شریف والے ''پانامہ لیکس‘‘ والا نہیں ہے۔ میاں نواز شریف والا پانامہ دراصل پانامہ کینال والا پانامہ ہے جو براعظم شمالی امریکہ اور براعظم جنوبی امریکہ کو ملانے والی باریک سی زمینی پٹّی کے تقریباً عین درمیان میں ہے۔ اس جگہ بحرالکاہل اور بحر اوقیانوس کو ملانے کے لیے نہر بنائی گئی ہے۔ اس نہر کی وجہ سے بحری جہازوں کا بحر الکاہل سے بحر اوقیانوس تک یا یوں سمجھ لیں کہ جاپان سے نیویارک یا میامی جانے کا سفر کم از کم ساڑھے چھ ہزار کلو میٹر کم ہو گیا ہے۔ قارئین! معاف کریں میں ایک بار پھر بہک گیا‘ بات ڈاکٹر انیس کی ہو رہی تھی۔ میں اور برادرم بزرگ ایک بار پناما سٹی جاتے ہوئے راستے میں بونی فے رک گئے۔ ڈاکٹر انیس کے پاس۔ بس اس ایک ملاقات سے ہماری یاری ہو گئی۔ ڈاکٹر انیس نے خود بنا کر ایسی شاندار کافی پلائی کہ مزہ آ گیا بلکہ اس کا مزہ آج تک قائم ہے۔ اس بار پاکستان سے چلتے ہوئے برادر بزرگ سے کہا کہ وہ ڈاکٹر انیس کو بھی کارلٹن بلوا لے۔ برادر بزرگ نے ڈاکٹر انیس کو کہا اور وہ مان گیا۔ میں نے مزید فرمائش جڑ دی اور کہا کہ وہ آتے ہوئے اپنا کافی بنانے کا سارا سامان بھی ہمراہ لائے۔ سو ڈاکٹر انیس اپنا کلینک‘ مریض‘ سارا کام اور جس میں کافی مشین ‘ ملک فراتھر‘ کافی بین گرائنڈر اور اپنے خوشبو دار Coffee Beans لے کر پانچ سو کلو میٹر کا سفر کر کے کارلٹن آ گیا۔ اگلے تین دن ایسا موج میلا کیا کہ مہینوں کی تھکن اتر گئی۔ ایسی شاندار کافی پی کہ اس کا سرور کالم لکھتے ہوئے ایک بار پھر نشہ بن کر چھا گیا ہے۔
اگلے روز شام کو ہم لوگ ساتھ والی ریاست الباما کے شہر Aniston چلے گئے۔ یہاں جانے کا مقصد اوکاڑہ والے حافظ عبدالرحمن سے ملنا تھا۔ حافظ عبدالرحمن سے میرا بلکہ دنیا اخبار کے کالم پڑھنے والے تمام قارئین کا تعارف رئوف کلاسرا کی وساطت سے ہوا ہے اور وہ رئوف کلاسرا کی کاوشوں کے باعث یہاں امریکہ میں کینسر کے خلاف اپنی جنگ آہستہ آہستہ جیت رہا ہے۔ اللہ اسے صحت کاملہ اور رئوف کلاسرا کو اجر عطا کرے کہ ایک بے وسیلہ شخص امریکہ میں بہترین علاج سے مستفید ہو رہا ہے۔ Aniston پہنچے تو حافظ عبدالرحمن کے والد چوہدری انوار الحق نے ہمیں دروازے پر خوش آمدید کہا۔ اندر ڈاکٹر کامران بھی بیٹھے تھے۔ دل کے ماہر معالج اپنے کلینک سے فراغت کے بعد عبدالرحمن کے پاس آ گئے تھے۔ یہ صرف آج کا نہیں تقریباً روزانہ کا معمول ہے۔ سارے دن کی تھکا دینے والی مشقت کے بعد اس گھر کا چکر لگانا اب ڈیوٹی جیسا ہی باقاعدہ کام ہے۔ تھوڑی دیر میں مفتی اظہار اور ڈاکٹر عاصم صہبائی بھی آ گئے۔ مفتی صاحب کے پاس ڈرائیونگ لائسنس نہیں ‘شاہین صہبائی کے صاحبزادے ڈاکٹر عاصم صہبائی کلینک سے نکل کر پہلے قاری صاحب کے گھر گئے پھر انہیں لے کر عبدالرحمن کے گھر آ گئے۔ آتے ہوئے سب لوگ کچھ نہ کچھ کھانے کے لیے لیتے آئے۔ مفتی صاحب گھر کے بنے سموسے لے آئے۔ ڈاکٹر عاصم کباب لے آئے۔ اسی اثنا میں ڈاکٹر خرم اور ان کے ساتھ ایک اور ڈاکٹر آئے اور اپنے ہمراہ چکن پلائو اور نہاری لے آئے۔ چوہدری انوار الحق بتانے لگے کہ یہ لوگ گزشتہ چھ ماہ سے ایسے ہی کر رہے ہیں۔ لگتا ہی نہیں کہ میں پردیس میں اور وہ بھی امریکہ جیسے وطن میں ہوں۔ رات گئے Aniston سے واپس آتے ہوئے میں سوچ رہا تھا کہ ہم لوگ کتنے خوش قسمت ہیں کہ امریکہ میں بھی ایسے مخلص دوستوں کی نعمت سے مالا مال ہیں جو اپنی مصروفیات‘ کام اور آمدنی چھوڑ کر ہمیں وقت دے رہے ہیں۔ برادر بزرگ ڈاکٹر انیس‘ ڈاکٹر عاصم صہبائی‘ ڈاکٹر کامران‘ ڈاکٹر خرم اور مفتی اظہار احمد جیسے لوگ کتنے خوش قسمتوں کو نصیب ہوتے ہیں۔مسئلہ ترجیحات کا ہے اگر بندہ اپنی ترجیحات کا تعین کرتے ہوئے محبت اور پیسے کے درمیان توازن کر لے تو نتیجہ ایسے ہی دوست نکلتے ہیں۔ برادربزرگ اور ڈاکٹر انیس نے تین دن دلداری کے علاوہ اور کوئی کام نہیںکیا۔ ڈاکٹر انیس کی کافی بونس تھا۔
بشکریہ روزنامہ دنیا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *