انڈیا کے امیر لوگ خیرات کم کیوں دیتے ہیں؟

انڈیا کے آئی ٹی شعبے سے منسلک ارب پتی عظیم پریم جی حال ہی میں انڈیا کے سب سے زیادہ فلاحی کاموں میں پیسے دینے والے شخص بن گئے ہیں۔ وہ دنیا کے سرفہرست انسان دوست مخیر افراد میں شامل ہیں، لیکن ان کی دریا دلی نے ایک ایسے ملک میں خدمت خلق پر خرچ کرنے کے متعلق سوال کھڑا کیا ہے جہاں کے امراء اپنی دولت کی مناسبت سے خیرات نہیں کرتے۔ بی بی سی کی ارپنا الیوری کی تحریر پڑھیے۔

عظیم پریم جی نے حال ہی میں خیراتی کے کاموں کے لیے مزید ساڑھے سات ارب امریکی ڈالر دینے کا اعلان کیا ہے اور اب وہ خدمت خلق کے مد میں مجموعی طور پر ایک کھرب 45 ارب روپیہ یا 21 ارب ڈالر دے چکے ہیں۔ اس عطیے کے ساتھ وہ بل اینڈ ملنڈا گیٹس اور وارن بفیٹ جیسے انسان دوست مخیر (فیلانتھراپسٹ) افراد کی صف میں شامل ہو گئے۔

ان سب میں انھیں جو چیز زیادہ ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ پریم جی ان کی طرح دنیا کے امیرترین افراد میں سر فہرست نہیں ہیں۔ ’بلوم برگ کی ارب پتی افراد کی فہرست کے مطابق وہ 51 ویں نمبر پر ہیں تاہم مخیر افراد ان کی اس دریا دلی پر حیران نہیں ہیں۔

خیرات کے کاموں کے متعلق حکمت عملی تیار کرنے والی کمپنی 'دسرا' کے شریک بانی دیول سانگھوی نے کہا: 'یہ ان کے لیے کوئی غیر معمولی بات نہیں کیونکہ وہ انڈیا کے ہی نہیں بلکہ اس بر اعظم میں خیرات میں حصہ ڈالنے کی وجہ سے پہلے نمبر پر ہیں۔

سافٹ ویئر کے شعبے سے تعلق رکھنے والے 73 سالہ پریم جی ایک عرصے سے اپنی دولت بانٹ رہے ہیں۔ سنہ 2013 میں وہ بل گیٹس اور بفیٹ کے پروگرام ’دینے کا عہدنامہ‘ پر دستخط کرنے والے پہلے انڈین بنے۔ اس عہدنامے کے تحت امیروں کی اس بات کے لیے حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ اپنی دولت کا نصف خیر کے کاموں میں دے دیں۔

جب وہ محض 21 سال کے تھے تو انھوں نے سٹینفورڈ یونیورسٹی میں تعلیم ادھوری چھوڑ کر 'ویپرو' میں شمولیت اختیار کر لی۔ یہ کمپنی ان کے والد نے سنہ 1945 میں شروع کی تھی۔ (بعد میں انھوں نے سنہ 2000 میں اپنی تعلیم مکمل کر لی)۔

بائیں سے دائیں (بل گیٹس، عظیم پریم جی، میلنڈا گيٹس اور وارن بفیٹ)

یہاں (بائیں سے دائیں) بل گیٹس، عظیم پریم جی، میلنڈا گيٹس اور وارن بفیٹ کو دہلی میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں دیکھا جا سکتا ہے

ان کی قیادت میں ویپرو سبزی سے تیل بنانے کے کارخانے سے نکل کر آئي ٹے کے شعبے میں انڈیا کی سب سے بڑی اور کامیاب ترین کمپنیوں میں شامل ہو گئی۔

عظیم پریم جی بہت ہی عزلت پسند شخص ہیں جو عوامی تقریبات اور میڈیا سے دور ہی رہتے ہیں۔ لیکن ان کی سادہ طرز زندگی اور ان کی دریا دلی نے اس دوران ان کے بہت سے مداح پیدا کر دیے ہیں۔ اتنی ساری دولت کے باوجود ان کے اکانومی کلاس میں سفر کرنے یا بعض اوقات آٹو رکشے میں چلنے کی کہانیاں ایسے ملک میں لوگوں کو بہت متاثر کرتی ہیں جو کفایت شعاری کی قدر کرتے ہوں۔

ان کے ’دینے کے عہدنامے‘ کا حصہ بننے کے بارے میں عظیم پریم جی فاؤنڈیشن کی ایک سادہ سی پریس کانفرنس میں خبر آئی جس کے ساتھ ان کا کوئی ذاتی بیان نہیں تھا۔ ایک اخبار نے تو یہاں تک لکھا کہ جب انھیں بتایا گیا کہ ان کا عہدنامہ سوشل میڈیا میں گرما گرم بحث کا موضوع بنا ہوا ہے اور اخباروں کی سرخیاں بن رہا ہے تو انھوں نے کہا کہ 'آخر اتنے شور شرابے کی ضرورت کیا ہے۔'

عظیم پریم جی اپنی اس دریا دلی میں بالکل تن تنہا نہیں ہیں۔ آئی ٹی ارب پتی نندن اور روہنی نیلکانی نے اپنی دولت کا نصف خیر کے کاموں کے لیے مختص کیا ہے۔ بایوکون کے کرن مزومدار شا نے اپنی دولت کا 75 فیصد دینے کا عہد کیا ہے۔ اس کے علاوہ بہت سے خاندان ہسپتال، سکول، کمیونٹی کچن، آرٹس اور سائنسی تحقیق کو فنڈ کرتے ہیں۔ عظیم پریم جی کی طرح یہ سب اپنی دولت کا کچھ حصہ خیر کے کاموں کے لیے دینے کا عہد کر رہے ہیں اور یہ دولت انھوں نے اپنی زندگی میں کمائی ہیں۔

انڈیا کی سب سے پرانی اور بڑی کمپنیوں کے مجموعے کی سرپرستی میں جاری' دی ٹاٹا ٹرسٹ' ایک عرصے سے انڈیا کا سب سے بڑا مخير ادارہ رہا ہے۔ اب اس کے مقابلے میں صرف پریم جی فاؤنڈیشن ہے جو تعلیم، صحت اور آزاد میڈیا کے شعبے میں فنڈز فراہم کرتا ہے۔

اگر آپ انڈیا کے تمام امیر ترین لوگوں کی جانب سے دیے جانے والے عطیے (14 لاکھ امریکی ڈالر سے زیادہ کے) کو دیکھیں تو دسرا کی حالیہ رپورٹ کے مطابق عظیم پریم جی کا حصہ 80 فیصد ہوتا ہے۔

سکول

عظیم پریم جی فاؤنڈیشن سرکاری سکولوں کے ساتھ تعلیم کے شعبے میں تعاون کر رہا ہے

مسٹر سانگھوی کا کہنا ہے کہ انڈیا میں خدمت خلق کے لیے دینے کے جذبے میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن اس میں مناسب تیزی نہیں ہے۔ سنہ 2014 سے 2018 کے درمیان ذاتی سخاوت میں 15 فیصد سالانہ اضافہ نظر آيا ہے۔

دسرا کی رپورٹ میں کہا گیا ہے یہ اس وقت 'زیادہ پریشان کن' نظر آتا ہے جب یہ نظر آتا ہے کہ انتہائی امیر گھرانے گذشتہ پانچ سالوں میں 12 فیصد کی شرح سے بڑھے ہیں اور سنہ 2022 تک ان کی شرح اور دولت دونوں کے دوگنے ہونے کا امکان ہے۔

امریکہ میں جس قدر سالانہ خیرات کے کاموں کے لیے دیا جاتا ہے اگر اس کا مقابلہ انڈیا کے امیروں سے کیا جائے تو انڈیا کے امیر سالانہ پانچ ارب سے آٹھ ارب مزید خیرات کر سکتے ہیں۔

ان کو کون سی چیز روکتی ہے؟

دلی کی اشوک یونیورسٹی میں سوشل امپیکٹ اینڈ فیلانتھراپی کے شعبے کی ڈائریکٹر انگرد سریناتھ کا کہنا ہے 'ٹیکس آفیسر کا خوف سب سے زیادہ ہے۔'

'وہ (امراء) یہ نہیں چاہتے کہ کسی کی نظر میں آئیں اور ان سے زیادہ پیسے کا مطالبہ کیا جائے۔'

وہ کہتی ہیں کہ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انڈیا میں ابھی دولت صرف ایک نسل پرانی ہے اور جن کے پاس یہ ہے وہ خود کو اتنے محفوظ نہیں سمجھتے کہ وہ اسے خیرات کر دیں۔

اس کے ساتھ ہی وہ انڈیا میں خیرات کے بارے میں اعداد و شمار پر مکمل اعتبار کرنے پر بھی تنبیہ کرتی ہیں کیونکہ ان کے خیال میں یہ نامکمل ہے اور اس طرح انڈیا میں خیرات کے رجحان کے بارے میں کچھ بھی وثوق سے کہنا مشکل ہے۔

نندن نیلکانی

آئی ٹی ارب پتی نندن نیلکانی نے اپنی دولت کا نصف خیر کے کاموں میں دینے کا عہد کیا ہے

انڈیا میں خیرات کی ٹریکنگ کے لیے کوئی مرکزی ڈائریکٹری بھی نہیں ہے۔ ٹیکس کے قانون بھی پیچیدہ ہیں اور عطیہ کرنے پر کوئی مراعات بھی نہیں۔ اس لیے دسرا جیسی رپورٹس مختلف ذرا‏ئع پر منحصر ہیں جن میں حکومت، تھرڈ پارٹی ٹریکرز سے لے کر انفرادی طور پر اعلان کرنے والے شامل ہیں۔

اس کے ساتھ بعض افراد بغیر کسی نام کے عطیہ کرتے ہیں جس سے یہ اندازہ مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔

سریناتھ کہتی ہیں کہ 'یہاں اس کے متعلق باتیں کرنا اچھا تصور نہیں کیا جاتا کہ آپ کتنا دے رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اشوک یونیورسٹی کو جزوی طور پر تقریباً 100 ڈونرز نے فنڈ کیا ہے جن میں سے ہر ایک نے 14 لاکھ ڈالر دیا ہے لیکن انھوں نے اپنا نام ظاہر کرنے سے پرہیز کیا ہے۔

لیکن دسرا رپورٹ کے ایک مصنف آننت بھگوتی کا کہنا ہے کہ اعداد و شمار حاصل کرنے کا طریقہ خواہ کتنا ہی کمزور کیوں نہ ہو لیکن عطیے میں دی جانے والی بڑی رقم کا ظاہر نہ ہونا بہت مشکل ہے۔

انھوں نے کہا کہ 'اگر آپ امیر لوگوں پر نظر ڈالیں تو آپ پائیں گے کہ وہ نہیں دے رہے ہیں۔'

لیکن وہ اس بات سے متفق ہیں کہ 'وسیع تر جذبات و احساسات یہ ہیں کہ ہم (انڈین) بہتر کر سکتے ہیں۔'

سخاوت بہ مقابلہ بنی نوع انسان کی ہمدردی

مسٹر بھگوتی ان مخیر حضرات کو کم نہیں گنتے جو کسی یونیورسٹی یا ہسپتال کو فنڈ فراہم کرتے ہیں لیکن ان کے حساب سے انڈیا میں بنی نوع انسانی کی ہمدردی کا مطلب یہ ہے کہ کوئی مسئلہ سلجھایا جائے۔ بہتر تو یہ ہے کہ ترقی کے کسی قابل عمل ہدف کو حاصل کیا جائے۔ اس میں غربت اور بھوک کے خاتمے سے لے کر لوگوں کی آلودگی سے پاک توانائی تک رسائی شامل ہے۔

دسرا انسان دوستی کے لیے خرچ کی جانے والی حکمت عملی پر زور دیتی ہے اور وہ سخاوت اور انسان دوستی میں فرق کرتی ہے۔ ان کے مطابق سخاوت میں غریبوں کو کسی دن کھانا کھلانا شامل ہے لیکن فیلینتھراپی میں ایسے غیر منافع بخش کام میں شرکت کرنا ہے جس سے بھوک کا مسئلہ ہی ختم ہو جائے۔

اس تعریف کے مطابق انڈیا کے لوگ مخیر تو ہو سکتے ہیں لیکن بنی نوع انسان کی بھلائی کے لیے کام کرنے والے زیادہ نہیں ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *