جمیل صاحب کے لیے

"ہم آج اخبار کے پہلے صفحے پر یا کہیں اور مشرف کا فوٹو لگانے نہیں جا رہے۔ ہم غلط میسج نہیں بھیجنا چاہتے،" جمیل اختر صاحب نے کہا جب ہم اگلے دن کی اخبار کی اہم خبروں  کے بارے میں بحث کر رہے تھے۔ میں نے اپنی رضامندی کا اظہار بڑبڑاتے ہوئے کیا۔

یہ ڈان کے نیوز  ایڈیٹر تھےجو موجودہ کلچر کے بارے نئے ایڈیٹر کو یہ بتاتے ہوئے اپنے مختلف نظریات شیئر کر رہے تھے کہ اگر آنے والے دن کے پییر میں جنرل کی فوٹو شائع کی جاتی، تو حکومت سوچ سکتی تھی کہ اخبار کی پالیسی پر چائے کے ایک کپ کی دعوت کے عوض اثر ڈالا جا سکتا ہے۔ اور اس سے بھی بد تر یہ کہ قارئین بھی یہی سوچ سکتے تھے۔

میں اس دن سویرے ہی راولپنڈی کے لیے جہاز پر روانہ ہو چکا تھا کیوں کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے آرمی ہاؤس کے ایک دوست کی وساطت سے مجھے ایک غیر رسمی میٹنگ کے لیے مدعو کیا تھا یہ اس سے چند ہفتے کی بعد کی بات تھی جب میں نے 2006 کی گرمیوں میں ڈان میں بطور ایڈیٹر شمولیت اختیار کی تھی۔

اس شام مجھے آرمی چیف کی سرکاری رہائشگاہ میں ایک آراستہ کمرے میں لے جایا گیا۔ ان کے ایک ساتھی نے مجھے بتایا کہ جنرل تھوڑے لیٹ ہیں  کیونکہ ان کے ایک دوسرے شہر کے دورے سے واپسی میں کچھ تاخیر ہو چکی تھی۔

بہر حال تھوڑی دیر بعد  جنرل مشرف ہمارے مشترکہ دوست کی رفاقت میں پہنچے اور دیر سے آنے پر معذرت خواہ ہونے کے بعد ہم بات چیت میں مشغول ہو گئے۔ کچھ دیر بعد میں نے اپنی گھڑی پر نظر دوڑائی، یہ محسوس کرتے ہوئے کہ میں کراچی واپسی کی فلائٹ پکڑ سکتا ہوں۔

جنرل نے اس چیز کو بھانپ لیا،اور مجھ سے اور ہمارے  مشترکہ دوست جو اسی جہاز سے کراچی واپس جانے والے تھے سے ٹکٹ طلب کیا، اور اسے اپنے اسسٹنٹ کو دیا کہ وہ ہماری معاونت کر دے۔ میٹنگ ختم ہوئی، ہم ایئر پورٹ تیزی سے پہنچے جہاں ہم تھوڑی سی تاخیر سے جانے والی فلائیٹ سے پرواز کر گئے۔

یہ وقت تھا جب میں نے جمیل صاحب کو معمول کی مشاورت کے لیے بلایا تھا اور پھر سفر شروع کرنے کے لیے میں نے فون بند کر دیا۔  فلائٹ  کی روانگی میں چند منٹ کی تاخیر کے ذمہ دار ہونے کی وجہ سے میں پہلے سے شرمندہ تھا اس لیے اپنے ساتھی مسافروں کو فون کی لمبی گفتگو کے ذریعے تنگ نہیں کرنا چاہتا تھا۔

اس دن سے تقریبا 13 سال بعد  جمیل اختر صاحب کےساتھ گذرے چار سال  ڈان اخبار کی خدمت کے دوران  کی یادیں ایک بار پھر میرے ذہن میں تازہ ہو گئی ہیں۔ ہمارے بیچ دوستی کا ایک مضبوط رشتہ قائم ہو گیا تھا  جو اب ان کی وفات کے ساتھ اختتام پذیر ہوا ۔ ان کے جانے سے مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میری زندگی میں ایک ایسا خلا پیدا ہو گیا ہے جسے بھرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔

قارئین شوق سے ان رپورٹروں کو  پہچان لیتے ہیں  جن کا کسی بھی اخبار سے تعلق ہو جیسا کہ وہ کالمسٹ اور دوسرے  لکھاریوں سے واقفیت رکھتے ہیں۔ ان کی طرف سے لکھی گئی ہر تحریر  ان کے نام کے ساتھ شائع ہوتی ہے۔ بہت سے ایڈیٹرز بھی شہرت رکھتے ہیں اور انہیں قارئین کی طرف سے اچھے یا برا ہونے کے القابات ملتے رہتے ہیں۔

پھر، کچھ وہ ہیں جو حقیقت میں غیر معروف ہیرو یا ہیروئن ہوتے ہیں جو کسی اخبار کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔  ان میں شمار ہونے کے لیے خاص حوصلے کا حامل ہونا ضروری ہے۔ میں بتاتا ہوں کہ ایسا کیوں ہے۔ دوسرا تمام ایڈیٹوریل سٹاف، چاہے کتنی ہی مشکل نوکری ہو،  انہیں وقت  پر گھر جانے کا موقع مل جاتا ہے۔

نیوز روم صحافی، نائٹ ایڈیٹر، جنہیں ایڈیشن انچارج بھی کہا جاتا ہے، نیوز ایڈیٹر کے زیر نگرانی کام کرتے ہیں اور  یقین کیجیے، وہ اخباروں سے ہی شادی شدہ جیسی زندگی گزار رہے ہوتے ہیں ۔ وہ سہ پہر میں نیوز روم میں پہنچتے ہیں، نیوز ایجنڈا میں گھستے ہیں، ساتھ ساتھ وہ خبری مواد کی ایڈیٹنگ بھی کرتے ہیں، اور پھر صفحات کو قابل اشاعت بناتے ہیں۔

تقریبا 35 سال قبل ڈان نیوز روم میں اپنا کیریئر شروع کرنے ، مختلف صحافتی کرداروں اور درجات کی طرف بڑھنے  کے تجربہ کا حامل ہونے کی وجہ سے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ صبح 5 بجے سے قبل بستر  میں جانااور بر وقت نیند  کا مزا لینا ناممکن ہو جاتا ہے۔

یہ  مشکل صرف آپ نہیں بلکہ آپ کی فیملی کو بھی پیش آتی ہے جن کی زندگی قربانیوں سے بھر پور ہو جاتی ہے اور ایک عجیب سی صورتحال سے انہیں معمول  کے مطابق گزرنا  پڑتا ہے ۔ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ آسان نہیں ہے۔ اور خاص طور پر پوری زندگی یہ کرتے رہنا اور اپنی حس مزاح کو برقرار رکھنا آسان نہیں ہے۔ جمیل اختر صاحب ایک غیر معمولی حس مزاح کے مالک تھے اور ہمیشہ مسکراہٹ بکھیرے رہتے تھے۔

ان کی طرح کا نیوز ایڈیٹر  ہی نیند سے محروم ایک بجھے ہوئے شخص اور  ایک پرسکون شخص جو نیند سے بیدار ہو کر معاملات سنبھالتا ہو کے بیچ کا  فرق   ظاہر کرتا ہے۔ ان کے اندازے ہر قسم  کی خامی  سے خالی ہوتے تھے  اور ان کی دیانتداری پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا تھا۔ وہ ایک بہادر انسان تھے  اور ایڈیٹر کو بتا دیتے تھے کہ  کون غلط ہے کون صحیح لیکن اپنے لہجے میں ہمیشہ نرمی اختیار کرتے تھے۔ دوسروں کی مدد سے انہیں خاص خوشی ملتی تھی جو آج کی دنیا میں نایاب بات ہے۔

وہ ایک ایسے انسانی ہمدردی  کی خصوصیات کے حامل تھے کہ  اگر ان کا کوئی دوست بھی غلطی پر ہوتا تو وہ اس غلطی کو مسکراتے ہوئے اپنے سر لے لیتے اور کبھی کسی دوسرے کے عیب سامنے نہ لاتے۔ وہ ایک مکمل پروفیشنل تھے  جو اپنی محنت میں سکون پاتے تھے ۔ ان کی بے عیب ایڈیٹنگ اور فرنٹ پیج کا ڈیزائن انڈسٹری میں یکتا تھا  اور وہ یہ کام دوسروں کے بر عکس سیکنڈز میں کر لیتے تھے۔پرانے زمانے سے تعلق کی وجہ سے وہ یہ سمجھتے تھے کہ آخری فیصلہ ایڈیٹر نے کرنا ہوتا ہے لیکن اکثر ان کی رائے حتمی رہتی تھی کیونکہ ان کو بہت عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ ان کے فیصلے بہترین ہوتے تھے  اور وہ خبروں کا ایک خاص خاصہ رکھتے تھے۔

وہ ایک سنجیدہ خاندانی شخص تھے۔ مجھے  یاد ہے کہ وہ کیسے اپنی اہلیہ کی سرجری کے معاملے میں بہترین آپشن کا انتخاب کر رہے تھے اور کیسے انہون نے بیٹے کی تعلیم  کے متعلق درست فیصلے کیے ۔ وہ اپنے سب سے بڑے بیٹے کی کامیابیوں کو فخر کے ساتھ بیان کرتے تھے۔

وہ ایک وفادار، فیاض دوست تھے اور اان خوبیوں کی حامل ان کی جیون ساتھی افشاں  بھابی تھیں ۔ وہ  اکثر دوستوں کو ہفتہ وار چھٹی کے دن اپنے گھر کھانے کی دعوت پر بلاتے۔ مجھے جمیل اختر صاحب کی شدید یاد آئے گی۔ بھابی، شاد اور التماش کے لیے میری دعائیں۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *