مارکیٹنگ کی دنیا میں انقلاب

یورپی عوام کی خیرہ کن ترقی کے پیچھے کارفرماوجوہات میں سے ایک اہم وجہ نئی ایجادات کوتکریم دینا،نیز ہر اہم موجد کو سماجی وسرکاری اعزازات سے نوازنا بھی ہے۔یورپی یونین کے وجود میں آنے کے بعدیورپین پیٹنٹ آفس کا قیام اور اس کا سا لا نہ جا ری کر دہ یو ر پین انوینٹر ایوارڈ اہل مغر ب کے نئی ایجا دات سے لگا ؤ کا مظہر ہے ، پچھلے دنوں جا پا ن سے تعلق رکھنے والے ما سا ہیرو ہار ا اور ان کی ٹیم کو یہ یو رپی ایجا داتی ایوارڈ دیا گیا۔اس جا پا نی انجینئر اور اس کی ٹیم نے کیو آر (Q.R )کو ڈ ایجا د کیا ہے ۔گو کہ چھپن سا لہ ہا را نے یہ کیو آر (Q.R)کو ڈ دو عشرے قبل 1994 ء میں ترتیب دیا تھا لیکن دنیا بھر میں
سما ر ٹ فو ن کی ایجا د کے بعد اس کا استعما ل بہت زیا دہ بڑھ گیا ہے ، اتنا زیا دہ کہ اس کے مو جد کے لیے بھی حیرت انگیز ہے۔
آج کل پا کستا ن میں کیو آر کو ڈ کا بہت چر چا ہے ۔ جدھردیکھو(Q.R) کو ڈ کی دھو م مچی ہے۔ سچی با ت یہ ہے کہ کیو آر کو ڈ کی تفہیم کے حو الے سے اب تک کو ئی تحقیقی تحریرمیری نظر سے تو اب تک نہیں گزری ،جس سے پتا چل سکے کہ یہ کیو آر کو ڈ ہے کیا بلا؟ یورپی ایجا داتی ادارے کی جا نب سے اس کے جا پا نی مو جد اور اس کی ٹیم کو پا پو لر ایوارڈ سے نوازنے کی خبر نظر سے گزری تو میں نے سو چا کہ اسی انعا م کے بہا نے اپنے قا رئین سے کیو آر کو ڈ کے مو ضو ع پر گپ شپ کر تے ہیں ۔ یہا ں سر راہ تذکرہ کرتا چلو ں کہ یو رپی پیٹنٹ آفس بنیا دی طو ر پر نئی ایجا د ات کے جملہ حقو ق کے تحفظ کے لیے کا م کرنے والا ادار ہ ہے۔ یہ دفتر نئی ایجا د ہو نے والی اشیا ء کی با بت درخو استیں وصو ل کرکے ان کی جا نچ پڑ تا ل کر تا ہے ، بعد ازاں منتخب شدہ درخواستو ں کو قبو ل کر کے ان چیزوں کو یہ جملہ حقوق فراہم کر دیتا ہے جو دنیا بھر میں پھر یو رپی پیٹنٹ کہلا تی ہیں ۔علا وہ ازیں اس ادارے نے دنیا بھر کے مو جدین کی حو صلہ افزائی کے لیے سا لا نہ ایوارڈ کا اجراء بھی کر رکھا ہے ۔ یہی یو رپی ایوار ڈ پا نے والے مو جد جا پا نی انجینئر اور ان کی ٹیم نے جو کیو آر کو ڈ بنا یا ہے وہ اس سے پہلے مستعمل با ر کو ڈ سے کئی لحا ظ سے بہتر ہے۔ گر چہ یہ بھی بار کو ڈ کی ایک قسم ہی ہے۔
با ر کو ڈ کی با بت چند با تیں جا ننا اہم ہے۔ پہلی با ت تو یہ ہے کہ اس کو ڈ کو پڑھنے کیلئے کیمرہ یا پھر سکینر ضروری ہے ۔ یہ کیمرہ و سکینر کسی کمپیو ٹر،مو با ئل یا پھر دیگر مشین کے سا تھ منسلک ہو تا ہے ، جس میں ڈیٹا ذخیرہ ہو تا ہے ۔ دوسری با ت انٹر نیٹ کے سا تھ مذکو رہ مشین کا کنکشن ہے گو کہ انٹرنیٹ سے منسلک ہو نا لا زمی امر تو نہیں ہے ، ابتدا میں جو با ر کو ڈ ایجا د کیے گئے وہ ڈیٹا مشین کے اندر مو جو د معلو ما ت کی مدد سے سکین کر نے پر کام کر تے تھے ، مثلاً یہ کہ کسی سپر سٹو ر میں مو جو د اشیا ء کی قیمت فرو خت کیا ہے ؟ کو ن سی چیز سٹا ک میں کتنی مقدار میں رکھی پڑی ہے اور کہا ں رکھی گئی ہے وغیرہ وغیرہ ، مگر جیسے جیسے دنیا میں انٹر نیٹ کا رواج عام ہوتا گیا،ویسے ویسے ہی نئی طرز کے کوڈ ایجاد ہونے لگے،جوفوراًانٹرنیٹ سے منسلک کردیتے ہیں ۔ (Q.R)کوڈ کو آج دنیا بھر میں ان سب سے زیا دہ مقبو ل ،تیز رفتا ر اور قا بل اعتما د سمجھا جا تا ہے۔جو کہ کوئیک رسپو نس کو ڈ کا مخفف ہے ۔جیسا کہ نا م سے ظا ہرہوتاہے، یہ فوری معلو ما ت کی فراہمی کیلئے تر تیب دیا گیا با ر کو ڈ ہے۔ سفید پس منظر میں سیا ہ رنگ کے چوکور خا نو ں میں نقطو ں کی طرح نظر آنے والے اس کو ڈ کی ایک خو بی تو یہ ہے کہ اس کے تین کو نو ں پر دوہر ے مربع نما نشا ن ہو تے ہیں جو اس کو ارد گرد کے مواد سے ممتا ز کر کے پڑھنے میں آسا ن بنا دیتے ہیں ۔ (Q.R)کو ڈ کا یہی امتیا ز اس کے موجد کے نزدیک اس کی مقبولیت کی بنیا دی وجہ بھی ہے۔
کیو آر کو ڈ بنیا دی طو ر پر مشین سے پڑھا جا سکنے والا ایسا لیبل ہو تا ہے جس کے اندر اس چیز کے متعلق مکمل معلو ما ت ہو تی ہیں جس پر یہ چسپا ں کیا گیا ہے ۔ ابتدا میں اس کو ڈ کو گا ڑیو ں کے پرزے بنا نے والی صنعت میں استعما ل کرنے کیلئے ایجا د کیا گیا تھا ۔ یا د رہے کہ اس کے مو جد گزشتہ 36 بر س سے گا ڑیو ں کے فا ضل پر زے بنا نے والی کمپنی میں ملاز م ہیں ۔سا دہ الفا ظ میں مو جد کی یہ ایجا د ایک کا ر پو ریشن کی مرہو ن منت ہے جس نے اس کا م کیلئے مذکو رہ انجینئرکو بھر تی کیا ۔ میں ذاتی طور پر بھی چو نکہ ری کنڈیشن گا ڑیو ں میں دلچسپی رکھتا ہو ں اوراسی کاروبار سے وابستہ ہوں اس لیے فا ضل پرزوں کی شنا خت کے مسئلے کو اچھی طرح سمجھتا ہو ں ۔ یہ با ر کو ڈ اپنے ابتدائی شعبے میں کا میا بی ک بعد جب دیگر شعبو ں میں آزما یا گیا تو اپنی رفتا ر ، آسا ن استعما ل اور وسعت کے سبب کا میا ب ٹھہرا۔مارکیٹنگ کے شعبے میں تو اس نے دنیا بھر میں گو یا انقلا ب بر پا کر دیا ہے ۔ ابھی ابھی میرے گھر کے دروازے میں ڈاک کیلئے بنائے گئے دو انچ چو ڑے اور آٹھ انچ لمبے سو راخ سے جو جا پان میں ہر فلیٹ کا لا زمی حصہ ہے، تا زہ ڈاک اندر آئی ہے ، دیگر مراسلو ں کے ہمراہ ایک چھو ٹاساپمفلٹ محلے کی نئی نا ئی کی دکا ن کا بھی آیا ہے ۔ اس پر بھی کیو آر کو ڈ بنا ہے جیسے ہی میں نے اس بار کو ڈ پر مو با ئل فو ن کے کیمرے کوفو کس کیا ہے تو نا صرف اس دو کا ن کی ویب سا ئیٹ بلکہ نقشہ ، تصا ویر ، نرخ نا مہ ، نصب العین ، اہم خو بیا ں اور حجا م کی اپنی نو عمر اسسٹنٹ نائی کے سا تھ تصا ویر فو ری طور پر میرے مو با ئل فو ن کی سکرین پر آگئی ہیں ۔ میں نے اپنے فلیٹ کا ذکر کیا ہے ، مکا ن کا نہیں ، کیو نکہ جا پا ن کے روایتی مکا نا ت میں دروازے پر چٹخی، کنڈی اور تا لا نہیں ہو تا ہے جس سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ اس سما ج میں تا ریخ کے کسی لمحے پر بھی چو ری کا رواج نہیں تھا ۔
یہا ں میں روایتی مکا نا ت اور کثیر المنز لہ عمار تو ں کے جدید رہا ئشی فلیٹس کا تذکرہ بے جا نہیں کر رہا ہو ں ، (Q.R) کو ڈ کے مو جد کا کہنا ہے کہ اس قسم کے با ر کو ڈ کا خیا ل اس کے ذہن میں یو ں آیا کہ ایک دفعہ ریل گا ڑی پر اپنے دفتر جا تے ہو ئے ایک ایسے مصروف علا قے سے گزرا جہا ں گنجا ن آبا د روایتی مکا نا ت کے بیچ بلند و با لا عما را ت کھڑی تھیں ۔سچ پو چھیں تو یہی منظر اس کو ڈ کی ایجا د کا مو جب بنا ۔ شا ید یہی وجہ ہے کہ اب بھی ) Q.R)کو ڈ کو دیکھیں تو پست و بلند عمار ات کے ایک رہا ئشی علا قے کا گما ن گزرتا ہے ۔ اپنی ایجا د پر یو رپی ایوارڈ وصو ل کر تے ہو ئے جا پا نی انجینئر کا کہنا تھا کہ وہ کیو آ ر کو ڈ کو مزید تر قی دینا چا ہتا ہے ۔ اسے بہتر بنا نا اور پو ری دنیا میں پھیلا نا چا ہتا ہے تا کہ لو گو ں کی زندگی میں کچھ آسا نی پیدا کرنے کا سا ما ن ہو سکے ۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *